وفاقی وزیر امور کشمیر انجنیئر امیر مقام کا دورہ راولاکوٹ

وفاقی وزیر امور کشمیر انجنیئر امیر مقام کا حالیہ دورہ راولاکوٹ آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی زندگی میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ دورہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے صرف ایک سرکاری مصروفیت نہیں تھا بلکہ اس نے حکومتی پالیسیوں کے تسلسل، عوامی توقعات اور سیاسی تنظیم سازی کو ایک ایسے بیانیے میں پرو دیا جس میں ریاستی ذمہ داری اور عوامی اعتماد ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ راولاکوٹ کی فضاؤں میں اس موقع پر جو سیاسی سرگرمی اور عوامی جوش دکھائی دیا وہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ خطے میں جاری ترقیاتی اقدامات اور عوامی ریلیف پالیسیوں کو نہ صرف محسوس کیا جا رہا ہے بلکہ ان سے امیدیں بھی وابستہ کی جا رہی ہیں۔
دورے کا آغاز پونچھ یونیورسٹی راولاکوٹ میں منعقدہ وزیراعظم پاکستان لیپ ٹاپ ڈسٹری بیوشن تقریب سے ہوا جہاں طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے۔ تقریب کے آغاز میں یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر امتیاز نے ادارے کی تعلیمی کارکردگی، تحقیقی سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں پر مشتمل ایک جامع رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی نہ صرف تعلیمی میدان میں ترقی کر رہی ہے بلکہ جدید تحقیق اور ڈیجیٹل سہولیات کے فروغ کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ اس موقع پر سابق وزیر حکومت ڈاکٹر نجیب نقی کی موجودگی نے تقریب کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا اور تعلیمی حلقوں کے لیے یہ ایک حوصلہ افزا لمحہ ثابت ہوا۔
اپنے خطاب میں وفاقی وزیر نے نوجوانوں کو ریاست کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی تک رسائی کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کشمیر کے طلبہ و طالبات کو قومی ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ان کے مطابق لیپ ٹاپ اسکیم صرف ایک فلاحی پروگرام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا عملی اقدام ہے جو نوجوان نسل کو عالمی مسابقت کے قابل بنانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت تعلیمی اداروں کی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا کردار جاری رکھے گی۔
اس تناظر میں یہ حقیقت بھی اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ آزاد جموں و کشمیر بالخصوص پونچھ کا خطہ پاکستان کا ایک مضبوط دفاعی اور نظریاتی حصار سمجھا جاتا ہے۔ اس خطے کی جغرافیائی اور تاریخی حیثیت نے اسے ہمیشہ قومی سلامتی کے تناظر میں نمایاں رکھا ہے۔ پاک افواج نے ہر دور میں اس خطے کی آزادی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا اور قومی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اسی تسلسل میں سید عاصم منیر کے عزم مصمم کو بھی خطے کے امن و استحکام کی ضمانت قرار دیا جاتا ہے جبکہ خطے میں بھارتی جارحیت کے مستقل خطرے کے پیش نظر عوام اور افواج کا باہمی اعتماد اور اشتراک عمل قومی طاقت کا مظہر ہے۔ ریاستی سطح پر شہداء کے ورثاء اور زخمیوں کی کفالت کے لیے خصوصی اقدامات بھی اسی قومی ذمہ داری کا اظہار ہیں، جن کے تحت شہداء کے خاندانوں کو فی کس ایک کروڑ روپے جبکہ زخمیوں کو بیس لاکھ سے پچاس لاکھ روپے تک مالی معاونت فراہم کی گئی تاکہ ان کی قربانیوں کا اعتراف عملی شکل اختیار کر سکے۔
بعد ازاں وفاقی وزیر کو راولاکوٹ ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے احاطے میں ایک بڑی اور پُرجوش ریلی کی صورت میں کمیونٹی ہال تک لایا گیا جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پارٹی کی سیاسی حکمت عملی اور آئندہ انتخابات کے لیے تنظیمی تیاریوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے جاری اقدامات دراصل ایک طویل المدتی وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد خطے کو معاشی اور سماجی طور پر مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ عوامی خدمت کے جذبے کو اپنی سیاسی جدوجہد کا محور بنائیں اور اتحاد و نظم و ضبط کو اپنی طاقت بنائیں۔
ورکرز کنونشن میں مقررین نے اس امر کو خاص طور پر اجاگر کیا کہ ماضی میں ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں جو وعدے کیے گئے تھے ان پر وفاقی حکومت مسلسل عملدرآمد کر رہی ہے۔ بالخصوص وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی قیادت میں کشمیری عوام کو آٹے پر سبسڈی کی فراہمی، بجلی کے نرخوں میں تاریخی کمی اور وفاقی ہیلتھ کارڈ اسکیم کا اجرا ایسے اقدامات ہیں جنہوں نے عوامی سطح پر حقیقی ریلیف فراہم کیا۔ مقررین کے مطابق یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وفاقی حکومت کشمیری عوام کے مسائل کو محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں رکھتی بلکہ عملی حل کی جانب بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر عوامی مسائل کے حل کے لیے بھی پیش رفت کا عمل جاری ہے اور آئندہ دنوں میں مزید مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
وفاقی وزیر نے مقررین کی طرف سے پیش کردہ مطالبات کو بڑی توجہ سے سنا اور انکے حل کی یقین دھانی کراتے ھوئے کہا کہ بناتے قائد میاں محمد نوازشریف اور وزیراعظم پاکستان محمد شہبازشریف کشمیر کی ترقی اور خوشحالی کوترجیح اول دیتے ھیں اور ان شائاللہ آزاد جموں وکشمیر کی آنے والی حکومت ان مسائل کو عوام کی توقعات کے مطابق حل کرے گی اور وفاقی حکومت اس سلسلے میں بھرپور تعاون کرے گی۔
تقریب سے خطاب کرنے والوں میں سابق وزیر حکومت سردار طاہر انور خان، چوہدری یاسین گلشن، سابق ممبر کشمیر کونسل سردار عبدالخالق وصی، سابق مشیر سردار اعجاز یوسف، سابق ممبر اسمبلی سحرش قمر، چیئرمین ضلع کونسل پونچھ سردار جاوید شریف، سابق امیدوار اسمبلی سردار ریاض روشن، سابق امیدوار اسمبلی حاجی عبدالرشید سابق چیئرمین پی ڈی اے سردار ارشد نیازی، صدر حلقہ بجیرہ سردار حفیظ، صدر حلقہ راولاکوٹ خواجہ عمران اشرف، سردار توصیف عزیز، ممبر ضلع کونسل سردار غفار، سردار طلحہ طارق، زبیر قادری، سردار مسعود، سردار اورنگزیب کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر حامد السعود اور شب چیف کورڈینیٹر ٹو منسٹر کشمیر افیرز سردار طارق خان نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے اپنی تقاریر میں پارٹی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں اتحاد اور یکجہتی ہی وہ قوت ہے جو جماعت کو آئندہ انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار کرے گی۔
خطابات میں قومی قیادت کے کردار کو بھی بھرپور انداز میں سراہا گیا۔ نواز شریف کی سیاسی بصیرت، مریم نواز کی متحرک عوامی سیاست اور قومی سلامتی و استحکام کے تناظر میں سید عاصم منیر کی قیادت کو ایسے عوامل قرار دیا گیا جنہوں نے ملک میں ترقی اور استحکام کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔ مقررین کے مطابق یہی ہم آہنگی آزاد کشمیر کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد بن رہی ہے۔
یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل رہا کہ اس نے سیاسی سرگرمی کو عوامی فلاح کے ایجنڈے کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا۔ تعلیمی میدان میں نوجوانوں کی سرپرستی، عوامی ریلیف کے عملی اقدامات اور سیاسی کارکنوں کی تنظیمی تیاری ایک ایسے تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں جس کا مقصد ریاست میں استحکام اور ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ راولاکوٹ کا یہ اجتماع اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جب حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہو اور سیاسی کارکن نظم و ضبط کے ساتھ متحرک ہوں تو ترقی کا سفر تیز تر ہو جاتا ہے۔
مجموعی طور پر وفاقی وزیر امور کشمیر کا یہ دورہ ایک جامع سیاسی و ترقیاتی پیغام کے طور پر سامنے آیا جس میں تعلیم، عوامی ریلیف، تنظیمی استحکام اور قومی قیادت کا وژن ایک دوسرے سے مربوط نظر آتا ہے۔ یہ اجتماع نہ صرف مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوا بلکہ اس نے خطے میں سیاسی سرگرمیوں کو بھی ایک نئی سمت دی۔ یہی وہ تسلسل ہے جس کے ذریعے آزاد کشمیر کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی راہ پر مزید مضبوطی سے گامزن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور جس کے مثبت اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔



