
ریاست اور عوام کا تعلق صرف ٹیکس اور سبسڈی کا نہیں ہوتا، یہ اعتماد، تحفظ اور انصاف کے رشتے سے جڑا ہوتا ہے۔ جب یہ رشتہ کمزور پڑ جائے تو سب سے پہلے مستحق خاندانوں کا دل ٹوٹتا ہے۔ آج سوال یہ نہیں کہ غربت کیوں ہے، سوال یہ ہے کہ مستحق خاندانوں کا ریاست پر اعتماد کیوں متزلزل ہو چکا ہے؟مہنگائی: خاموش مگر مہلک حملہ
گزشتہ چند برسوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو تہس نہس کر دیا ہے۔ آٹا، چینی، دالیں، گھی، گوشت پھل بجلی اور گیس سلنڈرز کے بل ہر شے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ مہینے کے پہلے عشرے میں ہی ہاتھ کھڑے کر دیتا ہے۔ جب ریاست بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر مؤثر کنٹرول نہ کر سکے تو غریب کی امید بھی دم توڑنے لگتی ہے۔
مہنگائی محض معاشی مسئلہ نہیں، یہ نفسیاتی دباؤ اور سماجی بے چینی کو بھی جنم دیتی ہے۔ جب ماں باپ بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکیں تو ریاستی وعدے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔بے روزگاری: خوابوں کا قتل تعلیم یافتہ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ دیہاڑی دار مزدور کو پورا ہفتہ کام نہیں ملتا۔ فیکٹریاں بند، کاروبار سست، سرمایہ کاری محدود یہ سب مل کر بے روزگاری کے طوفان کو جنم دیتے ہیں۔جب باپ اپنے بچوں کی فیس اور دو وقت کی روٹی کا بندوبست نہ کر سکے تو اعتماد کی دیوار میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ نوجوانوں میں مایوسی بڑھتی ہے، ہنر ضائع ہوتے ہیں اور معاشرہ عدم استحکام کی طرف بڑھتا ہے
مڈل کلاس: پسنے والا طبقہ سب سے زیادہ پسنے والا طبقہ مڈل کلاس ہے نہ وہ سرکاری امداد کا اہل سمجھا جاتا ہے، نہ اس کی آمدن مہنگائی کا مقابلہ کر پاتی ہے ٹیکس بھی یہی دیتا ہے اور سہولتیں بھی اسے کم ملتی ہیں۔نتیجتاً آج تقریباً 80 فیصد لوگ کسی نہ کسی درجے میں معاشی دباؤ کا شکار ہو کر مستحقین کی صفوں میں کھڑے نظر آتے ہیں یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ انفرادی نہیں بلکہ نظامی ہے۔عزتِ نفس کا بحران
ہمارے معاشرے میں سفید پوش خاندان سب سے زیادہ متاثر ہیں جو خاندان کل تک مستحق خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرتے تھے آج وہی لوگ مستحق خاندانوں کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں اوروہ ہاتھ پھیلانے سے کتراتے ہیں، سوال کرنے سے شرماتے ہیں۔ قطاروں میں کھڑے ہو کر امداد لینا ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے۔حقیقی مستحق اکثر نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں جبکہ بااثر یا باخبر افراد سہولتیں سمیٹ لیتے ہیں۔ اگر فلاحی نظام عزتِ نفس کو محفوظ نہ رکھ سکے تو وہ اعتماد بحال نہیں کر سکتا۔چوتھا ستون بھی دباؤ میں
ریاست کا چوتھا ستون صحافت بھی اسی معاشی دباؤ کی زد میں ہے۔ وہ صحافی حضرات جو حکومتی حلقوں سے دور دراز علاقوں میں حق و سچ کی آواز بلند رکھے ہوئے ہیں، جو کسی صحافتی فاؤنڈیشن کا حصہ نہیں اور نہ ہی حکومتی مراعات سے استفادہ حاصل کر پاتے ہیں، وہ نامساعد حالات میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔
یہ سفید پوش صحافی، جو عوام اور ریاست کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں، خود معاشی عدم تحفظ کا شکار ہوں تو سچ کی آواز کمزور پڑنے لگتی ہے۔ اگر چوتھا ستون مستحکم نہ ہو تو احتساب کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے اور اعتماد کا بحران مزید گہرا ہو جاتا ہے۔مخیر حضرات کے لیے پیغام یہ وقت ہے کہ مخیر افراد خود تلاشِ مستحق کی روایت کو زندہ کریں محلوں، گلیوں اور دیہات میں خاموشی سے حالات کا جائزہ لیا جائے۔ ایسے خاندان جو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے، اصل میں وہی زیادہ حقدار ہوتے ہیں۔اجتماعی فنڈ، راشن کارڈ، تعلیمی وظائف اور علاج معالجے کی براہِ راست معاونت جیسے اقدامات عزتِ نفس کو محفوظ رکھتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ریاست کی ذمہ داری ریاست کا بنیادی فریضہ ہے کہ وہ معاشی انصاف کو یقینی بنائے:مہنگائی پر مؤثر کنٹرول روزگار کے مواقع کی فراہمی شفاف اور باوقار فلاحی نظام ڈیٹا کی بنیاد پر حقیقی مستحقین کی نشاندہی صحافیوں اور دیگر سفید پوش طبقات کے لیے سوشل پروٹیکشن میکانزم اگر امداد کا نظام شفاف اور باعزت نہ ہو تو اعتماد بحال نہیں ہو سکتافلاحی پروگراموں کو سیاسی تشہیر سے پاک رکھ کر مستحقین تک براہِ راست رسائی یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نتیجہ جب 80 فیصد آبادی خود کو معاشی دباؤ میں محسوس کرے تو یہ صرف معاشی بحران نہیں، اعتماد کا بحران ہوتا ہے۔ اگر آج بھی ریاست، معاشرہ، مخیر حضرات اور صحافتی حلقے مشترکہ حکمت عملی اختیار کر لیں تو امید کی شمع دوبارہ روشن ہو سکتی ہے۔ورنہ سفید پوش طبقہ چاہے وہ مزدور ہو، مڈل کلاس کا فرد ہو یا حق گو صحافی خاموشی سے ٹوٹتا رہے گا اور اعتماد کا رشتہ مزید کمزور ہوتا جائے گا۔یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، اجتماعی بیداری اور عملی اقدامات کا ہے تاکہ کوئی باعزت خاندان محض عزتِ نفس کے باعث فاقوں پر مجبور نہ ہو، اور ریاست اپنے ہر شہری کے لیے امید کی علامت بن سکے۔




