کالمز

رمضان المبارک کی آمد اور تاجر

رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم رحمت اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ اس ماہ کی آمد کی خوشی ہر مسلمان کے دل میں ایک الگ سی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ آسمانوں سے رحمتوں کی بارش ہوتی ہے، شیاطین زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں، جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ روزہ دار کے لیے ہر سحری اور افطاری ایک نئی امید کا آغاز ہوتی ہے۔ تراویح کی خوشبو، تلاوت قرآن کی سرشاری، دعاؤں کی قبولیت کا یقین، اور لیلۃ القدر کی تلاش، یہ سب مل کر اس ماہ کو زندگی کے باقی مہینوں سے ممتاز کر دیتے ہیں۔ یہ مہینہ صرف روزوں کا مہینہ نہیں، بلکہ خود کو سنوارنے، نفس کی تربیت کرنے، دوسروں کے ساتھ ہمدردی بڑھانے اور اللہ سے قربت حاصل کرنے کا سنہری موقع ہے۔ ایک نیک عمل جو عام دنوں میں کیا جائے تو اس کا ثواب دس گنا ملتا ہے، لیکن رمضان میں اسی عمل کا ثواب ستر گنا یا اس سے بھی زیادہ تک پہنچ جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص رمضان کا ایک روزہ ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے گا، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ یہ وہ ماہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سب سے زیادہ معافی اور بخشش عطا فرماتا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم پہلو اس مقدس مہینے کی آمد کے ساتھ ہی بدل سا جاتا ہے۔ جہاں ایک طرف روزہ دار اپنے نفس پر قابو پانے کی مشق کر رہا ہوتا ہے، وہیں دوسری طرف ہمارے بازاروں اور دکانوں میں ایک ایسی دوڑ شروع ہو جاتی ہے جس کا مقصد صرف اور صرف زیادہ سے زیادہ منافع کمانا ہوتا ہے۔ رمضان کی آمد کا اعلان ہوتے ہی بہت سے تاجروں کے رویے میں نمایاں تبدیلی آ جاتی ہے۔ تاجر برادری مکمل اتحاد کے ساتھ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیتے ہیں، اچانک ان کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ رمضان سے قبل بھی مہنگائی کا طوفان سر اٹھا کر غریب اور سفید پوش لوگوں کو کے لیے وبال جان بنا ہوتا ہے جبکہ تاجر برادری کے لیے رمضان المبارک کا مہینہ ان کے منافع کا سبب بن جاتا ہے اور اشیائے ضرورت کی چیزوں اور پھلوں اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بے تحاشا بڑھا دی جاتی ہیں۔ یہ اضافہ کبھی اتنا زیادہ نہیں ہوتا جتنا رمضان کے مہینے میں دیکھنے میں آتا ہے۔ بہت سے تاجر جان بوجھ کر سٹاک کم رکھتے ہیں تاکہ مصنوعی قلت پیدا ہو اور پھر وہی اشیاء دوگنی تین گنی قیمت پر فروخت کی جا سکیں۔ یہ ذخیرہ اندوزی کی وہ شکل ہے جو براہ راست غریب اور متوسط طبقے کے روزہ داروں پر ظلم ہے۔ ایک طرف تو ہمارے تاجر مسجد میں نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں، تسبیح ہاتھ میں لیے ذکر کر رہے ہوتے ہیں، اور دوسری طرف وہی شخص دکان پر بیٹھ کر ناجائز منافع کما رہا ہوتا ہے۔ یہ تضاد ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ جو رمضان المبارک کے سنہرے اصولوں اور مذہبی اقدار کے منافی ہے. دنیا بھر میں رمضان المبارک کی اہمیت اور فضیلت کی وجہ سے دکاندار اپنی دکانوں میں بچت سکیمیں شروع کر دیتے ہیں لیکن پاکستان میں تاجر اس مہینے کو اپنے منافع بخش کاروبار کے لیے استعمال کرتے ہیں، ذخیرہ اندوزی صرف اشیاء خورونوش تک محدود نہیں رہتی۔ کپڑوں، جوتوں، برتنوں، بچوں کے کپڑوں، حتیٰ کہ سجاوٹ کے سامان تک کی قیمتیں رمضان میں غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہیں۔ تاجر یہ جانتے ہیں کہ لوگ رمضان میں نئے کپڑے، نئی چیزیں خریدنا چاہتے ہیں، بچوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں، گھر کو سجانا چاہتے ہیں۔ اس جذباتی اور مذہبی جذبے کا فائدہ اٹھا کر قیمتیں بڑھانا ایک طرح سے لوگوں کے ایمان اور جذبے سے کھیلنا ہے۔ اسلام نے تجارت کو جائز اور پسندیدہ قرار دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود تاجر رہے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایک کامیاب تاجر خاتون تھیں۔ لیکن اسلام نے تجارت کے اندر بھی حدود مقرر کی ہیں۔ ناجائز منافع، دھوکہ دہی، جھوٹی قسمیں، ناپ تول میں کمی، مصنوعی قلت پیدا کرنا، اور ضرورت مند کا استحصال کرنا سخت منع ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔
”اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ، مگر یہ کہ تجارت باہمی رضامندی سے ہو۔” (سورۃ النساء: 29)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
”دونوں فریق (خریدار اور بیچنے والا) جب تک جدا نہ ہو جائیں، انہیں اختیار ہے۔ اگر وہ سچ بولیں اور کھول کر بیان کریں تو ان کی تجارت میں برکت ہوتی ہے، اور اگر جھوٹ بولیں اور چھپائیں تو ان کی تجارت سے برکت اٹھ لی جاتی ہے۔” (بخاری و مسلم)
رمضان میں جب ہم روزہ رکھ کر بھوک اور پیاس برداشت کرتے ہیں تو اس کا مقصد یہ ہے کہ ہم دوسروں کی تکلیف کو سمجھیں، غریبوں پر رحم کریں، اور اپنے اندر ہمدردی اور ایثار پیدا کریں۔ لیکن جب وہی روزہ دار بازار میں جاتا ہے تو اسے وہی تاجر نظر آتا ہے جو اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھا رہا ہوتا ہے۔ یہ صورتحال روزہ دار کے لیے ایک نفسیاتی اور جذباتی صدمہ بھی ہے۔
حکومتوں اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ رمضان سے پہلے قیمتوں کی نگرانی، سٹاک کی جانچ، مصنوعی قلت روکنے کے لیے سخت اقدامات، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے تاجر بے خوف ہو جاتے ہیں۔ بہت سے شہروں میں رمضان کے مہینے میں کنٹرولنگ اتھارٹیز کی کارروائیاں محض دکھاوے کی ہوتی ہیں۔ چند دکانیں سیل کر دی جاتی ہیں، چند جرمانے عائد کر دیے جاتے ہیں، اور باقی سب کچھ ویسا ہی چلتا رہتا ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ رمضان صرف روزوں اور نمازوں کا مہینہ نہیں، بلکہ پورے کردار کی اصلاح کا مہینہ ہے۔ اگر ہمارا تاجر رمضان میں بھی وہی پرانا رویہ رکھے گا، وہی ناجائز منافع کمانے کی کوشش کرے گا، تو پھر اس کا روزہ اور تراویح اور قرآن خوانی کا کیا فائدہ؟ تاجر برادری کو اس حوالہ سے تقوی اختیار کرنا چاہیے اور قیمتوں میں اعتدال پیدا کرنا چاہیے، تقویٰ کا مطلب ہی یہی ہے کہ اللہ کا خوف دل میں رکھنا اور ہر کام میں اس کی رضا کو مقدم رکھنا۔ اگر تاجر رمضان میں بھی لوگوں کی جیب کاٹ رہا ہے، تو وہ تقویٰ سے کوسوں دور ہے۔
ہم سب کو چاہیے کہ اس رمضان میں اپنے اپنے کام میں عدل کریں۔ تاجر برادری رمضان کو صرف عبادت کا مہینہ نہ سمجھیں، بلکہ ایمانداری اور دیانتداری کا مہینہ بھی سمجھیں۔ مناسب منافع رکھیں، ضرورت مند کو رعایت دیں، غریب روزہ دار کے لیے کچھ نہ کچھ سہولت نکالیں۔ اگر ایک تاجر رمضان میں بھی لوگوں پر رحم کرے، ان کی آسانی کرے، تو یقیناً اس کے کاروبار میں برکت ہوگی اور آخرت میں بھی اسے بہترین صلہ ملے گا۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا کی چکاچوند سے بالاتر ہو کر آخرت کی فکر کریں۔ اگر ہم اس ماہ میں بھی وہی پرانے لالچی پن کا مظاہرہ کریں گے تو پھر یہ مہینہ ہمارے لیے مغفرت کا ذریعہ کیسے بن سکتا ہے؟ اس ماہ مبارک میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں۔ تاجر اپنے بھائیوں پر مہربانی کریں، خریدار ایمانداری سے ادائیگی کریں، اور بحیثیت معاشرہ مل کر ایک ایسا ماحول بنائیں جہاں رمضان کی برکتیں واقعی ہر گھر تک پہنچیں۔
یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان کی قدر کرنے، اس کے حقوق ادا کرنے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Related Articles

Back to top button