چوہدری جہانگیر خان کھٹانہ (مرحوم) آزادجموں و کشمیرپولیس کا ہونہار کردار۔
تحریر: پروفیسر بشیر احمد چوہدری ریٹائرڈ پرنسپل عباس پور (ایم اے سیاسیات، ایم اے تاریخ، بی ایڈ)

اس جہانِ رنگ و بو میں روزانہ بے شمار انسان جنم لیتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر بے مقصد اور گمنامی کے اندھیروں میں زندگی بسر کرکے خاموشی سے رخصت ہوجاتے ہیں، تاہم بعض ایسے انسان بھی صفحہ ہستی پر نمودار ہوتے ہیں کہ ان کی شخصیت کے نقوش ہمیشہ کے لیے دلوں پر ثبت ہوجاتے ہیں۔ وہ اس طرح زندگی گزارتے ہیں کہ لاکھوں دلوں میں محبت، احترام اور عقیدت کے جذبات بیدار کردیتے ہیں۔ ایسی ہستیاں مدتوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ مظفرآباد کے نواحی گاؤں سانواں کھاوڑہ میں بھی ایک ایسی ہی شخصیت گزری ہے جسے لوگ محبت سے تھانیدار چوہدری جہانگیر کھٹانہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ دنیا میں بے شمار لوگ ایسے بھی ہو گزرے ہیں جنہوں نے اپنے کردار اور عمل سے قوم و وطن کی خدمت کی، مگر آج انہی میں سے وہ لوگ زندہ و جاوید ہیں جنہیں قلم نے امر کر دیا۔ باقی اکثر ٹوٹے ہوئے سیارچوں کی ماند ماضی کے دھندلکوں میں کھو گئے اور ہم ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ میرے بیٹے یاسر عرفات فیروز کے نکاح و ولیمہ کی تقریب کے دوران مظفرآباد سے آئے اُس کے دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ تعارف کے وقت جب یاسر نے اپنے دفتر کے ساتھی واجد رفیق چوہدری کے بارے میں بتایا کہ ان کا تعلق مظفرآباد کے گاو?ں سانواں سے ہے تو میرے ذہن میں فوراً پچاس کی دہائی کا عظیم نام ابھرا تھانیدار چوہدری جہانگیر۔ اس پر واجد رفیق چوہدری نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ تھانیدار چوہدری جہانگیر ان کے دادا کے سگے بھائی تھے، یوں وہ ان کے خاندان کے چشم و چراغ اور بھتیجے کی نسل سے ہیں، جبکہ ان کے چچا ڈاکٹر سلیم چوہدری ماہر امراض قلب امریکہ تھانیدار صاحب کے داماد بھی ہیں۔ یوں تقریباً ساٹھ برس بعد ان کے خاندان کا کوئی فرد ہمارے گھر آیا تھا۔ واجد رفیق کے ساتھ اس محبت بھری ملاقات کے دوران تھانیدار صاحب کی بے شمار خوبصورت یادیں تازہ ہوئیں۔ رخصت کے وقت اُس باوقار نوجوان نے نہایت خلوص سے گزارش کی کہ میں اپنی یادداشت کی روشنی میں تھانیدار صاحب کے بارے میں لکھوں تاکہ ان کی شخصیت ہمیشہ لفظوں کی صورت میں زندہ رہے۔ میں نے اسی جذبے کے تحت قلم سنبھالا ہیتاکہ اس عظیم انسان کی روشن یادیں آنے والی نسلوں تک پہنچتی رہیں۔ پچاس کی دہائی کی بات ہے، جب راقم گورنمنٹ ہائی اسکول عباس پور میں مڈل کلاس کا طالب علم تھا اور والد محترم چوہدری فیروزالدین (مرحوم) اسی ادارے میں بطور مدرس اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ اُس زمانے میں عباس پور ایک مختصر سا قصبہ تھا جس میں چند ہی دکانیں تھیں، مگر اس کی انفرادیت یہ تھی کہ یہاں بنیادی ضرورتوں سے متعلق بیشتر دفاتر اور سرکاری ادارے قائم تھے۔ انہی میں ایک تھانہ بھی تھا، جہاں چوہدری جہانگیر کھٹانہ (مرحوم) بحیثیت تھانیدار تعینات ہوئے۔ رفتہ رفتہ والد محترم اور ان کے درمیان سلام دعا بڑھی اور باہمی احترام کا رشتہ قائم ہوگیا۔ کبھی کبھار والد مرحوم مجھے بھی ساتھ لے جاتے، اور جب میں تھانیدار صاحب کو باوقار وردی میں دیکھتا تو دل میں عزت و احترام کے جذبات مزید گہرے ہوجاتے۔ اُس عمر میں اگرچہ اتنی سمجھ نہیں تھی کہ پولیس کا معاشرے میں کیا مقام ہے، لیکن والد محترم سرکاری اداروں کے کردار اور ذمہ داریوں کے حوالے سے ہمیشہ رہنمائی فرماتے رہتے تھے۔ برصغیر جنوبی ایشیا میں پولیس کا کردار عموماً مثالی نہیں سمجھا جاتا، مگر کبھی کبھی ایسے فرض شناس افسر بھی مل جاتے ہیں جو دیانت داری، انسان دوستی اور انصاف کی علامت بن جاتے ہیں۔ والد محترم اکثر گھر میں چوہدری جہانگیر کا ذکر کرتے اور ان کے کردار کی خوبیوں کو سراہتے۔ اُس وقت کے چند خودساختہ معززین پولیس ٹاؤٹ بن کر کمزور اور پسے ہوئے لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں الجھاتے اور اپنے مفادات حاصل کرتے تھے، لیکن جب چوہدری جہانگیر نے تھانے کا چارج سنبھالا تو ایسے تمام عناصر کا راستہ رک گیا۔ وہ نہایت مردم شناس تھے، شریف لوگوں کو عزت دیتے اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے پیش آتے۔ نتیجتاً علاقے میں جرائم کم ہوئے اور عام آدمی ٹاؤٹ مافیا کے جبر سے محفوظ ہونے لگا۔ تھانیدار چوہدری جہانگیر جب وردی میں ملبوس قصبہ میں نکلتے تو ہر فرد آپ کی پر کشش شخصیت کو زوایہ نگاہ بنا لیتا تھا۔ سکول کے طلبا ئانہیں دیکھ کر یہ ارادہ باندھتے کہ ہم بھی محنت کر کے ایسی وردی پہنیں گے اور معاشرے میں عزت و احترام حاصل کریں گے۔سچ یہ ہے کہ جو لوگ کسی بھی شعبے میں دیانت داری سے کام کریں، وہ تو وقت کے ساتھ اوجھل ہوجاتے ہیں، مگر ان کے کردار کی روشنی ہمیشہ جگمگاتی رہتی ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے، والد مرحوم بتایا کرتے تھے کہ تھانیدار چوہدری جہانگیر کہا کرتے تھے:“ہماری قوم کی اصل آزادی علم کے ذریعے آئے گی۔”عباس پور میں تعیناتی کے دوران وہ ہر ملاقات کرنے والے کو نصیحت کرتے کہ اپنے بچوں کو لازمی تعلیم دلائیں، کیونکہ علم کے بغیر نہ شعور پیدا ہوسکتا ہے اور نہ ہی مستقبل روشن ہوسکتا ہے۔ ان کی یہ دوراندیشی نہ صرف اپنے خاندان اور قبیلے بلکہ عام عوام کے لیے بھی رہنمائی بنی اور آنے والے برسوں میں اس کے شاندار نتائج سامنے آئے۔ چوہدری جہانگیر انہی عظیم کرداروں میں شامل تھے جنہوں نے اپنے منصب کا حق ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا خاندان آج بھی آزاد کشمیر، خصوصاً مظفرآباد میں عزت و وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے اور سیاست، تعلیم، صحت، قانون اور سول سروسز میں فعال اور نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔



