کالمزمظفرآباد

ظلم کے سائے میں اگتا ہوا شعور

تحریر: سلمیٰ نذیر

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آج اگر کسی بھی خطے میں تعلیمی نتائج، نظم و ضبط، میرٹ اور مقابلے کی فضا نمایاں دکھائی دیتی ہے تو اس کے پیچھے پرائیویٹ سیکٹر کا کردار کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر پرائیویٹ اسکولوں میں خدمات سرانجام دینے والے ہائی کوالیفائیڈ اساتذہ اور تربیت یافتہ اسٹاف وہ بنیاد ہیں جن پر یہ عمارت کھڑی ہے۔ یہ ادارے آج بہترین رزلٹس دے رہے ہیں، مقابلے کے امتحانات میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں اور تعلیمی میدان میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس کامیابی کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟
اس سوال کا جواب کسی فائل، کسی رپورٹ یا کسی دفتر میں موجود نہیں، بلکہ یہ جواب ان اساتذہ کے چہروں پر لکھی تھکن، ان کی آنکھوں میں چھپی ناامیدی اور ان کے گھروں میں پلتی مجبوریوں میں پوشیدہ ہے۔ یہ نتائج کسی مشین نے نہیں دیے، بلکہ یہ اساتذہ کے خون اور پسینے کی کمائی ہیں، وہ اساتذہ جنہوں نے اپنی جوانی، اپنی توانائی اور اپنی صلاحیتیں تعلیمی اداروں کی نذر کر دیں، مگر بدلے میں وہ نہیں پایا جس کے وہ اصل حق دار تھے۔
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں جس کا حل موجود نہ ہو۔ اگر غربت ایک مسئلہ ہے تو اس کا حل ہے، اگر بے روزگاری ایک مسئلہ ہے تو اس کا حل ہے، اور اگر تعلیمی نظام میں استحصال ایک مسئلہ ہے تو یقیناً اس کا بھی حل موجود ہے۔ مسئلہ حل کی عدم دستیابی نہیں، بلکہ نیت، ترجیحات اور احساسِ ذمہ داری کی کمی ہے۔
حکومت کی جانب سے قائم کردہ تعلیمی محکمے اور اتھارٹیز کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ سرکاری اسکولوں اور کالجوں تک محدود رہیں۔ یہ تصور نہ صرف ناقص ہے بلکہ ناانصافی پر مبنی بھی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے، وہی طلبہ، وہی نصاب، وہی مستقبل—تو پھر نگرانی، چیک اینڈ بیلنس اور تحفظ صرف ایک طرف کیوں؟ کیا پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والا استاد استاد نہیں؟ کیا اس کی محنت، اس کی عزت اور اس کے حقوق کم تر ہیں؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ اتھارٹیز پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی باقاعدہ مشاہدہ (Observation)، جانچ (Assessment) اور تجزیہ (Evaluation) کریں۔ زمینی حقائق کو دیکھیں، اساتذہ سے بات کریں، ان کے مسائل سنیں اور پھر ایسی تجاویز مرتب کریں جو قابلِ عمل ہوں، متوازن ہوں اور تمام فریقین کے لیے بہتر ہوں۔ مگر افسوس کہ یہ سب کچھ برسوں سے نہیں ہو سکا۔
اب معاملہ یہاں تک آ پہنچا ہے کہ برداشت کی تمام حدیں پار ہو چکی ہیں۔ یہ محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ ایک انسانی، اخلاقی اور دینی مسئلہ بن چکا ہے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے اساتذہ موجود ہیں جو دن بھر کی محنت کے بعد ایک سو، دو سو یا تین سو روپے یومیہ کے عوض خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ذرا سوچئے، وہ والدین جنہوں نے اپنے بچوں کو تعلیم دلواتے وقت کتنے خواب دیکھے ہوں گے۔ کن حالات میں فیسیں جمع کروائیں ہوں گی، کن قربانیوں کے بعد ڈگریاں حاصل کروائی ہوں گی۔ کیا کسی نے کبھی یہ سوچا کہ وہی تعلیم یافتہ فرد آج کن حالات میں زندگی گزار رہا ہے؟
کوئی بھی انسان شوق سے چار، پانچ، چھ یا آٹھ ہزار روپے کی نوکری نہیں کرتا۔ اگر کوئی ایسا کر رہا ہے تو یہ اس کی مجبوری ہے، اس کی بے بسی ہے، اس کا کرب ہے۔ اور سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اسی مجبوری سے شدید فائدہ اٹھا کر اسے اس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس کی قابلیت، اس کی ذہانت اور اس کی محنت کو انتہائی معمولی اجرت کے عوض استعمال کر کے ادارے چلائے جاتے ہیں، نتائج لیے جاتے ہیں، شہرت کمائی جاتی ہے، مگر استاد کے حصے میں صرف خاموشی اور صبر آتا ہے۔
یہی نہیں، اساتذہ سے توقعات کا بوجھ اس قدر بڑھا دیا گیا ہے کہ وہ تدریس کے ساتھ ساتھ ادارے کے ہر شعبے کے ذمہ دار بنا دیے گئے ہیں۔ وہ داخلے بھی لائیں، ڈونیشنز بھی دیں، اپنی تنخواہ میں سے اسکول کے کاموں پر خرچ بھی کریں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی خود برداشت کریں، تقریبات، مہمات اور انتظامی امور میں بھی پیش پیش رہیں۔ اگر کہیں ذرا سا پیچھے رہ جائیں تو فوراً وہی مخصوص رویہ شروع ہو جاتا ہے—تنقید، تضحیک، دباؤ اور ذہنی اذیت۔
کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ وہ استاد کس ذہنی اور جسمانی دباؤ سے گزر رہا ہے۔ کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے اپنے بچے، اس کا اپنا گھر اور اس کی اپنی زندگی بھی ہے۔ اس سے ایسی ایسی توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں جیسے وہ کوئی مشین ہو، جذبات سے عاری، تھکن سے بے نیاز اور مسائل سے آزاد۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ اخلاقی زوال کی واضح علامت بھی ہے۔
یہاں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ خدا کا خوف، جواب دہی کا احساس اور انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس طبقے کے ساتھ انصاف کریں جس کے ہاتھوں میں قوم کا مستقبل ہے۔ استاد کو اگر عزت، تحفظ اور معاشی استحکام نہیں دیا جائے گا تو تعلیمی نظام کی عمارت خواہ کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ دکھائی دے، وہ اندر سے کھوکھلی ہی رہے گی۔
اب وقت آ چکا ہے کہ اس خاموش استحصال کے خلاف آواز بلند کی جائے۔ یہ آواز کسی فرد، کسی ادارے یا کسی خاص طبقے کے خلاف نہیں، بلکہ ایک نظامی اصلاح کی آواز ہے۔ ایک ایسی اصلاح جو اساتذہ کو ان کا جائز مقام دلائے، اداروں کو مضبوط کرے اور تعلیم کو واقعی ترقی کا ذریعہ بنائے۔
یہ مسئلہ اب نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں رہا۔ اگر آج بھی ہم نے آنکھیں بند رکھیں تو کل یہ نظام خود ہم سے سوال کرے گا—اور اس سوال کا جواب دینا شاید ہمارے بس میں نہ ہو۔
ع زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
٭٭٭٭٭٭

Related Articles

Back to top button