
کشمیری عوام سے پاکستان کے حکمران طبقات کی یک جہتی اس نازک موڑ کی طرح جامد ہو کر رہ گئی ہے جس سے آگے نکلنے اور چلنے کی کوئی صورت ہی نظر نہیں آتی۔گزشتہ برس کے پاکستان اور بھارت کے ہلکے پھلکے تصادم جسے بھارتی آپریشن سندو ر اور ہم آپریشن بنیان مرصوص کہتے ہیں کے بعد پانچ فروری کو پہلا یوم یکجہتی منایا گیا۔اس تصادم کے ہم نے کئی خوبصورت نام اور عنوان رکھے ہیں جن میں ایک معرکہ حق بھی ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس تصادم کے بعد پاکستان کا وقار عالمی سطح پر بلند ہوا۔ٹرمپ تسلسل کے ساتھ پاکستان کی کامیابی اور فتوحات بھارتی جہازوں کی تعداد بڑھا کر اور ان جہازوں کے گرائے جانے کی بات کر کے پاکستان کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور اس کے وقار میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔یوں نائن الیون کے بعد پاکستان کو جن مغربی قوتوں نے طاقتور مغربی میڈیا کے ذریعے دہشت گردی کا مرکز قرار دے کر بدنامی کا اشتہار بنا دیا تھا اب اسی مغرب میں پاکستان کی فتوحات کے ترانے گائے جا رہے ہیں۔یہ الگ بات کہ اب بھارت او رامریکہ کی تجارتی ڈیل ہوگئی ہے اور مودی اور ٹرمپ نے ایک دوسرے کے لئے ”میرے دوست“ کے الفاظ استعمال کرکے بے پناہ اپنائیت کا اظہار کیا ہے۔اب شاید ٹرمپ پاکستان کی فتوحات کا تذکرہ اگر مکمل طور پر بند نہیں کرے گا مگر وہ اس کے تسلسل میں کمی لائے گا۔پاکستان اورامریکہ کے تعلقات کی کتاب اسی اُتار چڑھاؤ سے بھری پڑی ہے۔سیٹو اور سینٹو معاہدوں کی بات تو پرانی ہے۔بڈھ بیر پشاور پر میزائل حملوں کی سوویت یونین کی دھمکی بھی اسی کہانی کا ایک موڑ ہے۔ساتویں بحری بیڑے کی حرکت تیزتر اور سفر آہستہ آہستہ بھی اسی تاریخ کا حصہ ہے۔پاکستان کے دوبازوؤں کا اتحاد خلیج بنگال میں ڈوب گیا مگر یہ بحری بیڑہ حرکت پزیر ہی رہا۔نائن الیون کے وقت بھی امریکہ نے پاکستان کی کلائی مروڑنے اور شمسی ائر بیس اور دوسرے اڈے حاصل کرنے کے لئے پہلے بھارت سے حیدر آباد کے ہوائی اڈے مانگے۔بھارت نے اڈے تو نہ دئیے مگر پاکستان کے حکمرانوں نے اس پیشکش سے خوف زدہ ہوکر اپنی ائر بیسز امریکہ کے حوالے کر دیں۔اس طرح بھارت نے امریکہ کی طرف سے پاکستانی ائر بیسز حاصل کرنے میں اس کی بالواسطہ مدد کی۔پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہو گئی۔عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوگیا۔سبز پاسپورٹ کی نائن الیون کے بعد کھوئی ہوئی قدر ومنزلت بحال ہوگئی۔اب مغربی دنیا میں قائم موافق فضا اور خوش گوار تعلقات کا کشمیر کو کیا فائدہ ہوا؟ یہ سوال اب بھی باقی ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام بدستور بھارت کے محاصر ے میں ہیں۔ان سے جینے تو کیا سانس لینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ان کی تہذیب ثقافت اور دینی شناخت سب کچھ ہندوتوا ذہنیت کی یلغار کی زد میں ہے۔بھارت پوری طرح کشمیر میں فلسطین ماڈل اپنائے ہوئے ہے۔اس منظر میں اتنی تبدیلی بھی نہیں آرہی کہ بھارت پاکستان کے ساتھ کسی بامعنی بات چیت پر آمادہ پر آمادہ ہو۔حتیٰ کہ مودی اس پیس پروسیس کو شروع کرنے پر بھی تیار نہیں جس کا آغاز انہی کے فکری راہنما اٹل بہاری واجپائی نے امریکی دباؤ اور ترغیب پر کیا تھا۔جس کے نتیجے میں کشمیر کی زمین پر تو کوئی ریلیف نظر نہیں آیا تھا مگر دوطرفہ رابطوں کے ذریعے کشمیریوں کے لئے امید اور امکان کی ایک کھڑکی کھلی تھی۔ حالیہ جنگ سے پہلے جو کشمیری جیلوں میں پڑے تھے وہ وہیں سڑھ رہے ہیں جو جیلوں سے باہر بھی مقید اور محصور تھے وہ اسی حالت میں ہیں۔ان سے جو آزادیاں چھن گئی تھیں ان کی بحالی اور واپسی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں رہا۔بین الاقوامی میڈیا کشمیر پر لب کشائی سے گریز جاری رکھے ہوئے ہے۔کشمیر کے مسئلے کی سنگینی کو بیان کرنے کے لئے مغرب میں کوئی آواز نہیں اُٹھ رہی۔مغرب کا کوئی سفارت کار مصنف تجزیہ نگار کشمیر کے حالات میں دلچسپی ظاہر نہیں کررہا۔ پاکستانی سفارت خانے ہمیشہ کی طرح لمبی تان کر سوئے ہوئے ہیں۔مغربی میڈیا کو جس طرح آزاد کہا جاتا ہے وہ حقیقت میں آزاد نہیں ہوتا۔دنیا کے بہت سے معاملات میں بالخصوص سٹریٹجک امور سے وابستہ مسائل میں مغربی میڈیا اپنی حکومتوں کے اشارے کا منتظر ہوتا ہے۔ظاہر ہے حکومتوں نے انہیں اشارہ نہیں کیا ہوگا جبھی وہ اب تک خاموش ہیں۔پھر مغرب میں وہ کونسا موافق ماحول ہے جس کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔حکمرانوں کے لئے تو ماحول شاید موافق ہومگر کشمیر کے لئے عملی طور پر کوئی موافقت نظر نہیں آتی۔امریکہ نے بھارت کے دباؤ پر جن فرزندان زمین کو گلوبل ٹیررسٹ قرار دیا تھا وہ اب بھی اسی خانے میں موجود ہیں۔پاکستان نے جن کشمیری النسل عسکریوں کے لب سی ڈالے تھے وہ بدستور لب بستہ اور لاپتا ہیں۔نوے کی دہائی میں امریکہ نے مسئلہ کشمیر کو شمالی آئرلینڈ طرز پر حل کرنے کی کوشش کی تھی۔دوہزار پانچ میں شمالی آئرلینڈ کے پیس ماڈل کو جانچنے اور اس کا مطالعہ اورمشاہدہ کرنے کے لئے ایک کشمیری وفد کے ساتھ ہمیں بھی شمالی آئرلینڈ جانے کا موقع ملا۔اس حل میں آئرش ری پبلکن آرمی کی عسکری قوت کو فریز کر دیا گیا تھا اور انہیں آئرلینڈ کی حکومت اور پارلیمنٹ میں بتدریج شامل کیا جارہا تھا۔کشمیر پر آئرلینڈ فارمولہ اس انداز سے لاگو ہوا کہ سید صلاح الدین کی قیادت والی کشمیری عسکریت تو فریز ہو گئی مگر سری نگر کے اقتدار میں انہیں کیا حصہ ملنا تھا پر وبھارت لیڈروں کی دستیاب سپیس بھی ختم ہوگئی اور آج عمر عبداللہ اپنی بے بسی کا بر سرعام رونا رو رہے ہیں۔سوال تو بنتا ہے کہ سید صلاح الدین کہاں ہیں؟ کیا ان کی مزاحمت کو فریز کر دیا گیا ہے؟۔ اس بار بھی یوم یکجہتی پر ان کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔اب خاص دنوں پر ان کے ترجمان کا ایک بیان واٹس ایپ پر ملتا ہے تو یادآتا ہے کہ یہ بھی ایک شخصیت ہوا کرتی تھی۔اس منظر کو دیکھ کر چوہدری غلام عباس یادآتے ہیں۔وہی چوہدری غلام عباس جب ڈوگرہ حکمرانوں کی قید سے ریا ہو کر قائد اعظم سے ملنے کراچی کے گورنر جنرل ہاوس پہنچے تو قائداعظم خلاف معمول انہیں خوش آمدید کہنے کے لئے اپنے چیمبر سے باہر آئے تھے۔بعد میں اپنی مزاحمت سمیت ایسے ڈمپ اور فریز ہوئے کہ شیخ عبداللہ کی آمد پر راولپنڈی لیاقت باغ کے جلسے میں اپنے برسوں کے دبے ہوئے احساس ِزیاں کو اس شعر کی صورت یوں بیان کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔
میں نے جب وادی ِ غربت میں قدم رکھا تھا
، دور تک یاد وطن آئی تھی سمجھانے کو
پاک بھارت مذاکرات سے بددل ہو کر انہوں نے لاہور میں پاکستانی لیڈروں کی آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرکے اپنا مقدمہ پاکستانی قیادت کی عدالت میں پیش کیا۔پاکستانی قیادت نے ان کے موقف کو درست جان کر خود چوہدری غلام عباس کی قیادت میں ایک کشمیر کمیٹی قائم کی۔جس کے ارکان میں سید حسین شہید سہروردی،مولانا سید ابولاعلی مودودی چوہدری محمد علی اور خواجہ ناظم الدین شامل تھے۔اسی کشمیر کمیٹی نے بارہ مارچ 1963کو پہلا یوم کشمیر منایا تھا۔پاکستان کے فوجی حکمران ایوب خان نے چین کی پیشکش کے باوجود ہند چین جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا آپشن چنا اور امریکہ نے وعدہ کیا کہ اس کے عوض وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرائے گا مگراس جنگ کے بعد جو ہوا اس وعدے کے قطعی برعکس تھا۔برطانوی دولت مشترکہ کے وزیر ڈنگن سینڈراور امریکی سفارت کار ایورل ہیری مین نے پاکستان کا دورہ کر کے پاکستان کے حکمرانوں کی رضامندی ایک دستاویز پر دستخط کی شکل میں حاصل کی۔اسے پاکستان اور بھارت دونوں حکومتوں نے تاریخی دستاویز کہا مگر اس دستاویز کی تھیلی سے جو برآمد ہوا وہ وزرائے خارجہ کے نشستند گفتند و برخاستند طرز کے مذاکرات اور ملاقاتیں تھیں جنہیں عرف عام میں بھٹو سورن سنگھ مذاکرات کہا جاتا ہیاسی رویے سے تنگ آکر چوہدری غلام عباس نے پاکستان کے دونوں بازووں کی اعلی ترین سویلین قیادت سے رابطے کا فیصلہ کیا تھا اور آگے چل کر چوہدری غلام عباس اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ پاکستان کے لئے فاطمہ جناح کی صورت میں سویلین قیادت ہی بہترین آپشن ہے۔اسی فہم کے تحت انہوں نے ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح کا کھل کر ساتھ دیا تھا۔اس لئے مغرب سے کشمیر کے حوالے سے ٹھنڈی ہوائیں چلنا تاریخ کے تناظر میں خوش فہمی ہے۔نائن الیون کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک طوفانی سفارتی مہم شروع کی تھی۔بھارت نے امریکہ کے ساتھ مظلومیت کا مشترکہ رشتہ جوڑنے میں کامیابی حاصل کی تھی اور انہیں یہ باور کرایا تھا کہ امریکہ اور بھارت دونوں مسلم شدت پسندی کا شکار اور مظلوم ہیں۔ا س چھتری تلے اسرائیل کو بھی شامل کیا گیاتھا۔اسی کے نتیجے میں فیٹف جیسے اداروں نے پاکستان کی کلائی مروڑنے کا آغاز کیا تھا۔پاکستان کی طرف سے بھارت کے خلاف ایسی کوئی مہم نظر نہیں آرہی۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حالات جوں کے توں ہی نہیں بلکہ بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔اس ماحول کو یکجہتی کے مصنوعی ماحول نعروں اور دعوؤں سے بدلا نہیں جا سکتا۔امریکہ کے ساتھ یارانے کی بحالی کا کشمیر کو ابھی تک کوئی عملی فائدہ نہیں ہوا۔یک جہتی کے خالی نعروں سے آگے بڑھ کر ابھی تک کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آیا۔خود پاکستان کے بندھے ہوئے ہاتھ بھی کھلنے کے آثار اور امکانات نظر نہیں آتے۔یوں یہ خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ کشمیریوں سے یکجہتی کہیں وہ نازک موڑ ہی بن کر نہ رہ جائے کہ جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔صرف پاکستان ہی اٹھہتر برس سے ناک موڑ پر کھڑا نہیں بلکہ چوہدری غلام عباس سے صلاح الدین تک اس کی کشمیر پالیسی پر اسی موڑ پر کھڑی ہے اس موڑ سے آگے بھی ایک دنیا ہے مگر اس کے لئے موڑ مڑنا ضروری ہے۔



