کالمزمظفرآباد

سالانہ برسی اور کچھ یادیں۔۔۔۔۔ (والد صاحب سید رُکن الدین گیلانی مرحوم)

سید حسن گیلانی

ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جان پیدا کرے
پھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے
زِندگی قوت پنہاں کو کر دے آشکار
تا یہ چگاری فروغ جاوداں پیدا کرے
خاک مشرق پر چمک جائے مثال آفتاب
تا بدخشاں پھر وہی لعل گراں پیدا کرے
سوئے گردوں نالہ شب گِر کا بھیجے سفیر
رات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرے
آج میرے والد صاحب سید رُکن الدین گیلانی مرحوم کی برسی ہے۔ میرے والد صاحب سید رُکن الدین گیلانی ولد سید رفیع الدین گیلانی ۷۴۹۱ء کو مقبوضہ پونچھ سے آزادکشمیر آئے۔ پونچھ شہر جسے پرانی پونچھ بھی کہتے ہیں۔ اُس میں ایک محلہ جس کا نام محلہ خانقاہ تھا اور اس محلہ کو پرانی پونچھ بھی کہتے ہیں۔
جب تاریخ کے اوراق اُلٹ کر انبیاء اکرام اور بزرگان دین کے حالات کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو عقل محو حیرت رہ جاتی ہے کہ ان کے اخلاق، کردار، عادات، کمالات، اخوت، ہمدری،حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں تخلیق انسان کے مقاصد کو کس طرح پورا کیا ہے کہ دُنیاوی فرائض کی ادائیگی میں بھی کوئی رکاوٹ نہ ہو اور حقوق اللہ میں بھی خلل نہ پڑے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اللہ کے پیارے بندوں نے بنی نوع انسان کے بگڑے حالات سنوارنے، ان کے اخلاق و کردار کی درستگی اور اُسوہ رسولؐ پر چلنے کے باعمل کاوشیں کیں تو مشکلات کے باوجود دُنیا و آخرت میں سرخرو اور کامیاب و کامران ہوئے۔
۷۴۹۱ء کے انقلاب اور تحریک پاکستان کے نتیجے کی صورت میں ہزار ہاء خاندانوں کو غلامی سے چھٹکارہ دِلا کر آزاد وطن پاکستان میں رہنا نصیب کیا۔ انہی خاندانوں میں سادات گیلانی کا خاندان بھی بے پناہ مصائب کا سامنا کرتا ہوا پاکستان پہنچا اور پاکستان سے پونچھوی مظفرآباد آزادکشمیر میں سکونت اختیار کر لری۔ سادات گیلانی پونچھوں کے بزرگ اپنی دینی اور سیاسی خدمات کی وجہ سے بے پناہ شہرت رکھتے تھے۔ سید حسام الدین گیلانی صاحب اور باقی بزرگانِ دین اپنے روحانی علم کی وجہ سے پونچھ شہر کی جانی مانی اور معتبر شخصیات سمجھے جاتے تھے۔ پیر حسام الدین صاحب کے داماد پیر رفیع الدین گیلانی، اسلامیہ سکول کے ٹیچر تھے اور انکے دوسرے بھائی سرکاری محکمے میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ ہجرت کے وقت پیر سعد الدین صاحب اپنے بھتیجے اور بھانجوں اور دیگر برادری کے ساتھ پاکستان میں داخل ہوئے اور مظفرآباد آزادکشمیر مستقل سکونت اختیار کی۔ سید رُکن الدین، سعد الدین صاحب کے بھتیجے اور سید رفیع الدین گیلانی صاحب کے بڑے فرزند تھے، انہوں نے ابتدائی تعلیم مقبوضہ پونچھ سے حاصل کی اور ۷۴۹۱ء کی ہجرت کے بعد اپنی تعلیم اور روزگار یعنی ذریعہ معاش کو ساتھ ساتھ چلایا۔ تعلیم کے ساتھ آپ اے۔جی آفس مظفرآباد میں اپنے فرائض کی ادائیگی پر مامور ہو گئے۔ اپنے بھائیوں کی تعلیم و تربیت پر بھی بھرپور توجہ دی۔ ایک بھائی ”کرامت الدین گیلانی پبلک پراسیکیوٹر دوسرے بھائی عفیف الدین گیلانی اے جی آفس میں اکونٹس آفیسر اور تیسرے بھائی ضمیر الدین گیلانی سیکشن آفیسر داخلہ ریٹائرڈ ہوئے۔ آپ خود اے جی آفس مظفرآباد کے بعد یونیورسٹی میں بطور اکونٹس آفیسر تاحیات خدمات انجام دیتے رہے۔ آپ اعلیٰ اخلاق و کردار کا باعمل نمونہ تھے، آپ نے نہ صرف اپنے بھائیوں کی تعلیم اور دوسرے معاملاتِ زِندگی خوش اصلوبی سے نبھائے بلکہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کی طرف خصوصی توجہ دی۔
آپ نے اپنی اولاد کو ان کی قابلیت اور ہمت کے مطابق فرائض تفویض کیے آپ نے فرمایا ”تعلیم کا حصول ہی آپ کو شعور اور آگہی دے سکتا ہے“ اور دین دُنیا میں سرخرو کر سکتا ہے۔
چنانچہ آپ کی ہدایت کے مطابق آپ کے بچوں نے اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھے اخلاق و کردار کو اپنایا اور معاشرہ میں بہترین مقام حاصل کیا۔ والدہ صاحبہ خورشیدہ بیگم بھی اپنے شوہر کی طرح نہایت نرم مزاج حلیم اور سلجھی ہوئی خاتون تھیں گویا والد صاحب اور والدہ صاحبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم تمغہ تھے جن کی محبت، پیار اور باعمل کردار ہمارے لیے یاد گار اور آنے والی نسلوں کے لیے راہ ہدایت ہے۔ والدین کی بہترین تربیت کے باعث آپ کے بچوں نے نہ صرف آپ کا نام روشن کیا بلکہ اپنے اپنے محکمہ جات میں بہترین خدمات سرانجام دیں۔
آپ نہایت حلیم، شفیق اور معاملہ فہم انسان تھے، آپ کی حیات میں نہ صرف خاندان بلکہ باہر سے بھی کوئی شخص آپ سے ناراض نہ تھا بلکہ اگر کسی کو کوئی غلط فہمی ہو جاتی تو فوراً معاملے کی چھان بین کر کے اس سے صلح صفائی کر لیتے تھے۔
اپنے چچا مرحوم سید سعد الدین گیلانی صاحب سے انکو دِلی لگاؤ تھا۔ ان کی خدمت اپنی زِندگی کا لازمی حصہ سمجھتے تھے۔
آپ نے ضرورت مند لوگوں کو روزگار دِلوایا۔ ضرورت مندوں اور رشتہ داروں کی ضروریات کو پورا کرنا ان کی زِندگی کا لازمی حصہ تھا۔ حالانکہ آپ کا تعلق مقبوضہ کشمیر (پونچھ) کے ایک رئیس گھرانے سے تھا۔ لیکن آپ نے ہجرت کے بعد بچوں اور بھائیوں کی ضرورت کے لیے ایک چھوٹا سا گھر تعمیر کروایا۔
آپ کو حج کی سعادت کی شدید خواہش تھی لیکن عمر نے وفا نہ کی، اور آپ دوران ملازمت اِس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔
آپ کی وفات کے بعد آپ کے بچوں نے اپنی والدہ صاحبہ کو مسلسل سات عمرے کروائے اور دِن رات آپ کی خدمت کر کے سکون قلب حاصل کیا۔ والد صاحب کنی وفات کے بعد والدہ صاحبہ نے ان کے مشن کو جاری رکھا لیکن مشیت ایزدی کے سامنے انسان بے بس ہے دونوں اس جہان فانی سے رُخصت ہو کر بہت بڑا خلاء چھوڑ گئے اللہ تعالیٰ سب کے والدین کے ساتھ ہمارے والدن کی مغفرت اور بخشش فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔
غرضیکہ آپ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے وفات سے قبل روحانیت کے متعلق ایک کتاب بھی لکھی۔ کوٹلی کے ایک مشہور شاعر اور پروفیسر نے آپ کی وفات پر جو قطعہ نذرانہ عقیدت کے طور پر پیش کیا وہ ان کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے:۔
؎خدا کی ذات باقی آدمی کی ذات ہے فانی
یہ دُنیا سرائے اور ہم انسان سیدانی
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں
مجھے تڑپا گئی ہے مرگِ رکن الدین گیلانی
مرگِ رکن الدین گیلانی ہوئی اس خبر سے سبکو حیرانی ہوئی
مرگ گیلانی سے یہ عقدہ کُھلا مِٹ گئی تو زیست لافانی ہوئی
اج اس برسی پہ ہمیں خوشی بھی ہے اور افسوس اس لیے کہ جسم کا کوئی حصہ جدا ہو جائے تو اس کا جیسے ادمی کو ہوتا ہے ورنہ ہمارے لیے ایک بہت بڑی سعادت ہے کہ ہمارا بن جا میجر صحیحد ربنواز گیلانی وطن کی حفاظت کی خاطر شہید ہو گیا اس نے جام شہادت نوش کیا اللہ تعالی ہمارے بھانجے میجررب نواز شیہد کے بھی درجات کو بلند کرے اس کے بچوں کو اللہ پاک حفظ و امان میں رکھے اور باقی خاندان والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے امین ثم امین

Related Articles

Back to top button