
یوم یکجہتی کشمیر کی بنیاد کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی اور پاکستان کی تاریخی یکجہتی پر قائم ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے 1975ء میں اس وقت کے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹونے شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے (جسے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی کوشش سمجھا گیا) کے خلاف ردعمل میں 28 فروری 1975کو پاکستان بھر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ہڑتال اور احتجاج کی اپیل کی تھی۔ اس اپیل پر پورا پاکستان بند رہا اور مقبوضہ کشمیر میں بھی شدید احتجاج ہوا۔یہاں تک کہ لوگوں نے اپنے مویشیوں کو پانی پلانا بھی چھوڑ دیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں کشمیریوں سے یکجہتی کی پہلی منظم اور ریاستی سطح کی کال تھی۔
یوم یکجہتی کشمیر کے پس منظر میں اندوہناک واقعات کی ایک طویل فہرست ہے جنہیں مورخ کسی صورت پس پشت نہیں ڈال سکتا۔ غالباً جنوری 1990 کے اوائل کی بات ہے جب مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی اپنے عروج پر تھی اور سری نگر شہر میں لاکھوں انسانوں پر مشتمل جلوس نکل رہے تھے اور آزادی کے حق میں عوامی نعروں سے پورا شہر گونج رہا تھا۔ ایسے میں ہندوستان کے بدنام زمانہ گورنر جگ موہن نے سری نگر میں لاکھوں عوام کے مجمع پر بھارتی فوجیوں کی مدد سے اندھا دھند فائرنگ کروا دی جس سے ساڑھے تین سو کے قریب لوگ شہید ہو گئے اور ساتھ ہی کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ تین روز تک شہدا بے گور و کفن کھلے آسمان تلے سڑکوں اور گلی کوچوں میں پڑے رہے۔ اس واقعے سے پوری وادی کشمیر ایک ماتم کدہ بن گئی۔ فاروق عبداللہ حج یا عمرہ کی غرض سے سعودی عرب کے دورے پر تھے، انہیں دورہ منسوخ کر کے فوری طور پر واپس آنا پڑا، مگر وہ محض زبانی ہمدردی کے اظہار کے علاوہ بھارتی افواج بالخصوص گورنر جگ موہن کے اس ظلم کے خلاف کوئی ردعمل نہ دے سکے کیونکہ تمام تر اختیارات گورنر نے سنبھال رکھے تھے۔ جس نے کشمیری پنڈتوں کو وادی چھوڑنے کا حکم دے کر ریاستی تاریخ اور تمدن کو ملیا میٹ کر دیا اور
تقریباً 35 برس گزرنے کے بعد ریاست جموں و کشمیر کا وہ ہندو مسلم بھائی چارے کا کلچر ایک بھولی بسری داستان ہو گیا ہے۔ گورنر جگ موہن کے اس ظلم کے خلاف مقبوضہ کشمیر کے علاوہ آزاد کشمیر اور پاکستان بلکہ پوری دنیا میں جلسوں اور جلوسوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ بالخصوص آزاد کشمیر میں ہر شہر اور قصبے میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ ایسے میں جب سری نگر میں 10 لاکھ لوگوں کے جلوس نکل رہے تھے جن کا نعرہ یہ تھا کہ ”کشمیر بنے گا پاکستان، ہم لے کے رہیں گے آزادی” اور ”پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ”۔ ایسے میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد صاحب نے پانچ فروری کو مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کے ساتھ یوم یکجہتی منانے کا اعلان کر دیا جسے تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ حکومت وقت نے بھی ان کے ساتھ مل کر منانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے کا یہ سلسلہ جاری رہا اور غالباً سن 2000 میں جنرل پرویز مشرف صاحب نے پاکستان کی سطح پر یہ دن منانے کی شروعات کی اور اس موقع پر صدر پاکستان کی حیثیت سے پہلی مرتبہ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں اور شام کو کنونشن سینٹر اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان کی صدارت میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا تو اس دن کو ایک اٹھان ملی کہ پانچ فروری اب آزاد کشمیر اور پاکستان بھر میں سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں صدر یا وزیراعظم پاکستان،کشمیری عوام سے یکجہتی کے پیش نظر اس موقع کی مناسبت سے منعقدہ سرکاری تقریبات میں شرکت کے علاوہ آزاد کشمیر کی جوائنٹ اسمبلی سے بھی خطاب کرتے ہیں جبکہ آرمی چیف لائن آف کنٹرول پر جوانوں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سویلینزکا حوصلہ بڑھانے کے لیے اگلے مورچوں کا دورہ کرتے ہیں اور دفاع وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں زندگی کے ہرشعبے کے لوگ اہل کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے مختلف النوع ادبی، ثقافتی و ملی تقریبات کا انعقاد بھی کرتے ہیں جس میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم، وزرا، ممبران اسمبلی کے علاوہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما اور مہاجرین کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے تمام راستوں پر پاکستان اور آزاد کشمیر کی اہم سرکاری اور سیاسی شخصیات کے علاوہ سیاسی و سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد ان تقاریب میں شریک ہوکر یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ یاد رہے کہ جموں وکشمیر کے عوام نے قیام پاکستان سے 23دن پہلے سری نگر میں قرارداد الحاق پاکستان منظور کرکے اہل کشمیر کی پاکستان کے ساتھ یکجہتی کو ایسی مضبوط بنیادیں فراہم کردی جنھیں دشمن تمام تر کوششوں اور سازشوں کے باوجود آج تک کمزور نہیں کرسکا۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ جموں وکشمیر اور اسکے عوام کی مملکت خداداد پاکستان اور پاکستانی عوام کے ساتھ یہ یکجہتی محض ایک سیاسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے نہیں بلکہ یہ یکجہتی تاریخی، ثقافتی، جغرافیائی، معاشی، تہذیبی اور دفاعی پس منظر رکھتی ہے۔ متذکرہ دن کی افادیت اور اہمیت کے پیش نظر اس دن کو آئندہ وقت میں مزید منظم اور ملی جذبہ کے ساتھ منانے کی ضرورت ہے تا کہ ہندوستان کے مذموم پراپیگنڈ کا عالمی سطح پر اثر ساتھ ساتھ زائل ہوتا رہے۔ پاکستان اور کشمیر ی عوام کے درمیان لازوال رشتے کو مزید تقویت مل سکے۔ اس سال کا 5 فروری یوں بھی ماضی سے بہت مختلف ہے۔ بنیان مرصوص اوف معرکہ حق کے بعد جنوبی ایشیا میں دفاعی طاقت کا توازن پاکستان کے پلڑے میں آگیا ہوا ہے۔ اس سے پہلے ہندوستان نے سالہا سال کے سیاسی سفارتی اور عالمی پراپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو دفاعی اور سیاسی طور پر کمزور اور خود کو چین کے مقابلے کی ایک طاقتور قوت ظاہر کرنے کے لئے مغربی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رکھی تھی۔ معرکہ حق کے بعد ہندوستان کا جھوٹا بھرم بری طرح بے نقاب ہوگیا اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور برتری ساری دنیا میں تسلیم کی جانے لگی ہے۔ معرکہ حق نے ایک ہی وقت میں پاکستان کی عالمی پذیرائی میں اضافہ کیا، ہندوستان کے بیانیے کو غلط ثابت کردیا اور جموں وکشمیر کے عوام کی بے پناہ حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، ائیر فورس چیف، نیول چیف اور پاکستانی عوام دل کی گہرائی سے خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے ایک جست میں ہندوستان کو پسپائی پر مجبور کردیا اور پاکستان کی علاقائی اور عالمی امور میں پیش قدمی کے دروازے کھول دیے۔ ہمارا پختہ یقین ہے کہ اولا تو ہندوستان دوبارہ کبھی آپریشن سندور جیسی حماقت نہیں کرے گا اور خدانخواستہ ایسا کیا تو اسے ناقابل یقین شکست اور پسپائی سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اور نتیجے میں ہندوستان کو مسئلہ کشمیر سمیت پاکستان کے ساتھ تمام متنازعہ امور پر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑے گا۔ البتہ اس ضمن میں یہ خدشات موجود ہیں کہ ہندوستان استصواب رائے کے کسی بھی عمل میں 5اگست 2019 کے بعد والے کشمیر پر بات کرنا چاہے گا اور اسکی خواہش ہوگی کہ جو کچھ اس نے کردیا یے پاکستان اسے بادل نخواستہ قبول کرے۔ ہماری پختہ رائے میں اس بات کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے نہ ہی ماضی کے تجربات اس بات کے حق میں ہیں کہ ہندوستان اور اسرائیل اپنے کسی بھی وعدے کی
پاسداری کریں گے اور اپنے کسی ضامن کی عزت و وقار کا خیال رکھیں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہمیں 5اگست 2019 سے پہلے والے کشمیر پر بات کرنی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں کسی بھی صورت میں چالیس لاکھ کے قریب غیر کشمیریوں کی آبادکاری پر سمجھوتہ نہیں کرنا اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر ثالثی کے ذریعے ہی صحیح پرامن سیاسی مذاکراتی اور باوقار حل کی جانب لے کر جانا یے۔ تقسیم کشمیر ہندوستان کی دیرینہ خواہش ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ مسئلہ کشمیر کا حل نہیں بلکہ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ حکومت پاکستان کا غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ معروضی حالات میں دانشمندانہ اقدام ہے تاہم مسئلہ فلسطین پر اپنے روایتی موقف پر قائم رہتے ہوئے دو ریاستی حل کی طرف آگے بڑھنا چاہیے اور اگر کسی مرحلے پر مسئلہ کشمیر زیر بحث آتا یے تو اس معاملے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو جو ایک بہترین روڈ میپ ہیں کی روشنی میں جموں وکشمیر کے عوام کو بنیادی فریق تسلیم کرتے ہوئے مرحلہ وار حتمی حل کی طرف لے جانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس موقع پر میں ریاست جموں وکشمیر کی اولین سیاسی جماعت اور جموں وکشمیر کی سواد اعظم آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کی جانب سے شہدائے جموں و کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، جیلوں میں بند ہزاروں مرد و زن کو اور اس راستے میں جان مال عزت آبرو کی قربانی دینے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی آزادی نوشتہ دیوار یے اور لاکھوں شہدائے جموں وکشمیر کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاسکتی یہ قانون فطرت کے خلاف ہے۔ اس لیے جلد یا بدیر ساری مقبوضہ جموں وکشمیر کو آزاد ہونا ہے اور اسکا پاکستان کے ساتھ الحاق کرکے اہل کشمیر نے پاکستان کی شہ رگ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کرتے ہوئے مملکت خداداد پاکستان کو اپنے جغرافیائی، دفاعی اور معاشی سرحدات میں ایک مکمل مضبوط اور طاقتور ملک بنانا ہے۔
٭٭٭٭٭



