
نویں پارے میں سورۃ الاعراف کی آیت مبارکہ نمبر172 ایک ایسی عجیب داستان دہرا رہی ہے، ایک ایسا عجیب واقعہ ارشاد فرما رہی ہے جس تک عقل انسانی کی رسائی ممکن نہیں ہے اور اس میں رائی برابر شک نہیں کہ اللہ کریم فرما رہا ہے لہٰذا یہ حق ہے اللہ کی کتاب میں موجود ہے فرمایا:وہ وقت یا دکرو جب تمہارے رب نے تمام اولاد ِآدم کی پشتوں سے اُن کی اولادوں کو نکال کھڑا کیااور پھر ان سے پوچھا اَلَسْتُ بِرَبِّکُمکیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہو ں؟ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تمہیں پیدا کرنے والا،تمہیں پالنے والا،تمہیں نعمتیں عطا کرنے والا،تمہاری ہر ضرورت پوری کرنے والا قَالُوْا بَلٰی شَھِدْنَا یہ سب نے کہا کہ بیشک توُ ہی ہمارا رب ہے اور ہم سب اس پر گواہ ہیں فرمایا اس وقت اس لئے یہ اقرار کرایا گیا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذَا غٰفِلِیْنَ (الاعراف:172) ایسا نہ ہو کہ روز محشر تم کہو کہ ہمیں تو یہ بات یاد ہی نہیں تھی یا یہ کہو اِنَّمَآ اَشْرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْل کہ ہم نے تو آنکھ کھولی تو ہمارے باپ دادا شرک میں مبتلا تھے وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنْ م بَعْدِھِم ہم ان کی گود میں پلے اُن کی اولاد تھے تو وہی اختیار کرلیا اَفَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ(173) اب یہ غلطی تو ان کی تھی اور آپ عذاب ہمیں دینا چاہتے ہیں فرمایا یہ بہانے نہیں چلیں گے کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ(174) اس طرح سے ہم باتیں کھول کربیان کرتے ہیں کہ لوگ اللہ کی طرف رجوع کرسکیں،لوگ گناہ سے،کفر سے، شرک سے، واپس آ سکیں اب یہ ایک ایسی بات ہے جو واقعی ہوئی ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ قرآن کریم کاہر حرف سچا ہے لیکن ہم میں ایسا کوئی بھی نہیں جسے یہ واقعہ یاد ہو کہاں عالم ارواح کی بات ہے ابھی آدم علی نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی زمین پہ تشریف نہیں لائے تھے تو تمام ارواح کو جمع کرکے یہ عہد لیا گیا اب اُس عہد کو اِس عملی زندگی میں یاد کرنے کی صلاحیت کس میں ہوگی؟ یہاں تو عالم یہ ہے کہ شام کا کھایا صبح کسی کو یاد نہیں ہوتا۔
بعثت انبیاء علہیم الصلوٰۃ کا مقصد اولین یہی ہوتا ہے کہ بندے کا تعلق رب جلیل کے ساتھ جوڑے اور ایسا جوڑے کہ یہ سارے عہد،سارے زمانے،ساری باتیں،اس کے دل میں، اسکی نگاہوں میں گھوم جائیں،تازہ ہوجائیں اور یہی کما ل ہوتا ہے اللہ کے نبی اور رسول کا کہ جس قوم کی طرف وہ مبعوث ہوتا ہے اسے یہ قوت دی جاتی ہے کہ پوری قوم اگر اس کا اتباع کرے تو پوری قوم کے قلوب کو وہ نور اور وہ روشنی عطا کردے رب العالمین کی شان کیا ہے؟ بندگی کے آداب کیا ہیں؟ اور عظمت الوہیت کیا ہے؟بندے کو کس طرح رہنا ہے؟ اور اللہ کے کرم کے انداز کیا ہیں؟ یہ موضوع ہے آقائے نامدار ﷺکا اور جتنا جس کا تعلق نبی کریم ﷺ سے ہو جائے جتنی جس کو نبی سے محبت ہوجائے؟ محبت کیوں ہوتی ہے؟ اور کیا ہوتی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر انسانوں کو بحث کرتے زمانے گزر گئے اس کی تشریحیں لکھتے ہیں لیکن حتمی بات کوئی نہیں کرسکا۔
محبت کیا ہے؟ تاثیر محبت کس کو کہتے ہیں؟
تیرا مجبور کر دینا میرا مجبور ہو جاٍنا
کسی شاعر نے ایک شرح کی کہ محبت کیا ہے؟ کہ محبوب کے سامنے محبت کرنے والا بے بس ہوجاتا ہے،بے اختیار ہوجاتا ہے اور وہی کرتا ہے جو محبوب کی رضا ہوتی ہے جس میں اس کی خوشی ہوتی ہے اس میں اسے مرنا پڑے، جلنا پڑے،گھر لٹانا پڑے، عزت گوانا پڑے،ہر شے لٹا دیتا ہے لیکن محبوب کی رضا چاہتا ہے یہ محبت ہوتی ہے محبت، ایک جذبہ، ایک کیفیت،جو بندے کے اختیارات سلب کرلیتی ہے اور یہی تو جھگڑا ہے کہ ہم اپنے اختیارات خود استعمال کرنا چاہتے ہیں ہم ہر بات خود جانتے ہیں ہم خود سمجھتے ہیں ہم ہر کام اپنی عقل سے، اپنی رائے سے، اپنی پسند سے،کرنا چاہتے ہیں جبکہ محبت کا تقا ضا یہ ہے کہ تمہاری پسند ختم ہوگئی جب تم نے محبت کا دعویٰ کیا تمہاری پسند ختم ہو گئی اب پسند محبوب کی ہے وہ کیا چاہتا ہے؟
سیدنا حضرت ابراھیم علیم السلام کو نمرود نے آگ میں ڈلوانا چاہا ابلیس نے اسے مشورہ دیا کہ بہت بڑا الاؤ بنوایا جائے میلوں تک لکڑی جمع کی گئی اس میں آگ لگا دی گئی اب اس کے قریب کوئی نہیں جاسکتا تھا پھر بہت بڑے بڑے مینار بنائے گئے ان میں پینگھ کے جھولے کی طرح سے رسے باندھے گئے اس میں ایک پنگھوڑا اِس طرح سے باندھا گیا تا کہ جب اسے جھولا دیا جائے تو وہ کھل جائے اور آگ کے درمیان جا گرے سیدنا ابراھیم خلیل اللہ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس میں ڈال دیا گیا جب جھولے میں ڈال چکے تو مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ ملائکہ نے جبرائیل امین سے عرض کیا کہ تو قاصد ہے بارگا ہ الوہیت کا، تمام فرشتوں کا سردار ہے خلیل اللہ کا یہ حال ہم سے دیکھا نہیں جاتا، برداشت نہیں ہو سکتا بارگاہ الوہیت سے اجازت لے دے ہم کافروں کو تباہ کردیں،اٹھا کر آگ میں پھینک دیں یا کم از کم ہم اللہ کے خلیل کو وہاں سے اٹھا لیں یا آگ بجھا دیں کہ کچھ تو ہمیں اجازت ہو انہوں نے بارگاہ الوہیت میں دعا کی جواب آیا کہ جو چاہو کرو لیکن حضر ت براہیم علیہ السلام سے جا کرپوچھ لو جسے امتحان در پیش ہے جسے آگ میں پھینکنے لگے ہیں اس سے بات کرو میری طرف سے اجازت ہے جبرائیل امین حاضر ہوئے یا خلیل اللہ حکم دیجئے آگ ٹھنڈی کردیں،بجھا دیں، اس پر بارش برسا دیں آپ حکم دیجئے کفار کو تباہ کردیں ہم کچھ نہیں تو کم از کم آگ کو اٹھا لیں انہوں نے فرمایا تم کو کس نے کہا؟ مجھے سب فرشتوں نے کہا میں نے بارگاہ الوہیت میں عرض کی اللہ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا فرمایا جبرائیل! اللہ خود دیکھ رہا ہے، بیشک دیکھ رہا ہے اللہ بچانے پہ بھی قادر ہے،بیشک قادر ہے فرمایا تم درمیان میں کیوں پڑتے ہو؟ فرشتوں کا درمیان میں کیا واسطہ؟یہ تو میری اور اسکی بات ہے وہ میرے ساتھ ہے میرے پاس موجود ہے میں بھی اس کی مخلوق، آگ بھی اس کی مخلوق، یہ کافر بھی اس کی مخلوق؟یہ ساری مخلوق اس کی قبضہ قدرت میں ہے،وہ چاہتا تو انہیں لکڑیاں لانے ہی نہ دینا وہ چاہتا تو یہ سارے پروگرام بنانے نہ دیتا اب اگر وہ تم سے زیادہ قریب ہے اور دیکھ رہا ہے تو میرے لئے یہ شرم کی بات نہیں کہ میں اُس کے سامنے تم سے مدد مانگوں تم نے یہ نہیں سوچا چلے جاؤ اور فرشتوں سے کہو کہ یہ میرا اور میرے محبوب کا معاملہ ہے اُس میں تمہارا کچھ نہیں ہے اگراللہ اس بات پہ راضی ہے کہ یہ تیرے گناہ گار،فاسق،فاجر بدکاراور کافر مجھے جلا دیں یہ تیری پسند ہے تو میں تیری پسند پہ راضی ہوں میں جل جاؤں گاکسی کو اس میں مداخلت کی کیا ضرورت ہے؟ اوراللہ ایسا قادر ہے کہ لپکتے شعلوں میں جب انہوں نے وہ پنگھوڑا چھوڑا تو اُدھر اُس نے حکم دے دیا قُلْنَا یٰنَارُکُوْنِیْ بَرْدًاہم نے حکم دیا آگ ٹھنڈی ہوجااور صرف ٹھنڈی نہیں وَّسَلٰمًا عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ(الانبیاء:69) ابراھیم علیہ السلام کے لئے سلامتی کا سبب بن جا اللہ کریم ہر شئے پر قدرت رکھتے ہیں اللہ نے فرمایا،اے آگ! تیرا کام تخلیقی طور پر یہ ہے کہ تو جلا ڈالتی ہے لیکن آج تو اپنی خُو بدل لے یعنی صرف (ابراھیم علیہ السلام) کے لیے اپنی فطری خصوصیت بدل لے ابراھیم علیہ السلام کے لیے ٹھنڈی نہیں بلکہ باد بہاری بن جا آگ نے تعمیل حکم کی آگ لکڑیوں کو جلاتی رہی اس کے شعلے بھڑکتے رہے اور آگ کے اندرحضرت ابراھیم علیہ السلام کو آگ سے کوئی گزند نہ پہنچا بلکہ آپ ؑ کے لیے موسم کو خوشگوار رکھا وہاں آپ ؑ نے چند دن قیام کیا پھر آگ سے باہر نکل آئے اہلیہ کو ساتھ لیا لوط علیہ السلام کو ہمراہ لیا اور شام کی طرف ہجرت کر گئے بادشاہ اس آس پر انتظار کرتا رہا کہ آگ ختم ہوگئی تو آپ علیہ السلام تو خاک ہو چکے ہوں گے لیکن آگ کے ختم ہونے تک آپ علیہ السلام شام پہنچ چکے تھے ایک روایت میں ہے کہ ابراھیم علیہ السلام فرماتے تھے کہ جتنے دن اس آگ میں گزرے ویسا لطف پھر دنیا میں کبھی نہ آیا کیوں؟یہ محبت ہے ا سے عشق کہتے ہیں حضرت ابراھیم علیہ السلام کا جو تعلق رب العٰالمین کے ساتھ تھا،یہ محبت ہے محبتوں کے بھی کتنے انداز ہیں محبت تو اپنی ذات سے بھی ہوتی ہے اپنی ضروریات سے بھی ہوتی ہے اپنے اہل و عیال سے بھی ہوتی ہے اولاد سے بھی ہوتی ہے ماں باپ سے بھی ہوتی ہے رشتہ داروں سے بھی ہوتی ہے لیکن نبی کی محبت نرالی ہے کہ یہ ساری محبتیں قربان کر دینی پڑیں تو بندہ قربان کردے نبی کی محبت نہ چھوڑے یہی اللہ کی محبت ہے دوسری محبتوں سے اُس نے روکا نہیں ہے انسانی زندگی اس کے بغیر گزر نہیں سکتی لیکن وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہ (البقرہ:165)ایمان کا خاصہ یہ ہے کہ اللہ کی محبت شدید ہوتی ہے باقی محبتیں اگر اُس کے درمیان آئیں تو وہ چھوڑ دی جاتی ہیں اللہ کی محبت چھوڑی نہیں جاتی۔



