کالمز

جموں و کشمیر ہاؤسنگ سوسائیٹیز اور اُن کا مستقبل

تحریر: عدنان رشید ملک

انسانی فطرت ہے کہ اُس کی خواہشات کی کوئی حد نہیں ہوتی وہ اپنی خواہشات کی تکمیل میں ہمیشہ ہی سر گرداں رہتا ہے۔اِن خواہشات میں سب سے اہم اور پہلی ترجیح اُس کے لیے گھر کا سایہ ہوتا ہے۔میرا گھر میری جنت کی خواہش ہر انسان کے دل میں رچی بسی ہوتی ہے۔اُس کے وسائل کتنے ہی محدود کیوں نہ ہوں اُن میں رِہ کر وہ اپنی جمع پونجی سے کچھ نہ کچھ رقم بچاتا رہتا ہے تا کہ زندگی کے کسی مرحلے میں آ کر وہ اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے مستقبل کے لیے کوئی سائبان ڈھونڈ لے اور اس احساس ذمہ داری سے مبرا ہو جائے کہ اُس نے اپنے بچوں کے لیے چھت یا سایہ بنا لیا ہے۔پھر وہ سکون و چین کے ساتھ اپنی زندگی کے ایام گزارتا ہے اُس کے عیال بھی اپنے مستقبل کو محفوظ سمجھتے ہیں۔یہ انسانی زندگی کا خاصہ ہے کہ انسان میں گھر کا خواب پورا کرنے اور اُس کی تگ و دو میں لگے رہنے کو ہمیشہ اولیت دیتا ہے اور اِس کی یہ خواہش نسل در نسل دیکھنے کو ملتی ہے۔انسانی نسلیں آباد ہوتی ہیں تو معاشرت بنتی ہے تہذیب آشکار ہوتی ہے اور تمدن کی راہیں کھلتی ہیں۔انسان اپنے معاشرے میں ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے پروان چڑھتا ہے۔اُسے بھرپور زندگی گزارنے کی روشنی نظر آتی ہے سُکھ چین اُس کی زندگی کی دہلیز پر آ جاتے ہیں وہ خوشی و انبساط کے سائے میں اپنی بقیہ ماندہ زندگی آرام و راحت سے گزارنا شروع کر دیتا ہے۔بسا اوقات اس اہم خواہش کی تکمیل کے لیے انسان اپنی دیگر تمام تر خواہشات کو کم سے کم رکھتے ہوئے بھی اپنی جمع پونجی کے ساتھ اس حد تک کامیاب ہوتے نظر نہیں آتا کہ وہ اپنے گھر کی خواہش پوری کر سکے اگر چہ وہ اس کے لیے دل سے جدو جہد میں لگا رہتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ الٰہی مجھے اتنا تو معتبر کر دے میں جس مکان میں رہتا ہوں اُسے گھر کر دے۔
چنانچہ اِن خواہشات کی تکمیل کے پیشِ نظر ہماری ریاست کے کئی ادارے یہ اہم فریضہ ادا کرنے میں اکثر متحرک نظر آتے ہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو جہاں دیگر سہولیات بہم پہنچانے میں کوئی کثر نہیں اُٹھا رکھتے وہاں اُن کے لیے ارزاں نرخوں پر چھت کا بھی کوئی بندوبست کر دے اس کے لیے ہر شہری کو کسی موزوں جگہ پر کوئی زمین کا ٹکڑا نظر آ جائے تو وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کرتے ہوئے وہاں اپنے اور بچوں کے لیے کوئی چھت تعمیر کر لے۔ہمارے ہاں ہر حکومتِ وقت نے اس پر کاوشیں ضرور کی ہیں اور مظفرآباد شہر کے اندر بھی بہت سی ہاؤسنگ اسکیم ہا کے اعلانات دیکھنے کو ملے ہیں کچھ تو بڑی حد تک کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئی ہیں۔ان میں سب سے پرانی اور اہم اپر چھتر ہاؤسنگ اسکیم تھی۔اس کے بعد حالات نے ایسی کروٹ لی کہ ایک طویل عرصے تک اس کی جانب کسی کی توجہ نہ ہوئی۔اب کُفر ٹوٹا خدا خدا کر کے کہ چند سال قبل لنگرپورہ ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز ہوا ہے وہاں قرعہ اندازی کے ذریعے لوگوں کو پلاٹ دیے گئے ہیں۔اس بحث میں نہیں پڑتے کہ اس میں کس حد تک شفافیت کا پہلو نمایاں رہا ہے تاہم اس جگہ کا انتخاب ایک اچھا فیصلہ ہے۔اب تو وہاں تعمیرات کا آغاز بھی ہو چکا ہے شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے سامنے ایسے سیٹلائیٹ ٹاؤنز کا قیام اب ناگزیر ہو چکا ہے۔اس سے پہلے میراتنولیاں کی ہاؤسنگ اسکیم بھی رکھی گئی تھی لیکن وہاں اب تک سہولیات کا فقدان نظر آتا ہے۔اسی تسلسل میں ٹھوٹھہ کے مقام پر موجود ہاؤسنگ اسکیم تا حال تشنگی کا شکار نظر آتی ہے نہ جانے کب اس پر حکومتی احباب کی توجہ مرکوز ہو گی تو وہ بھی آباد ہونے کی جانب گامزن ہو سکے گا۔
اس کے علاوہ حکومت آزاد کشمیر نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی ہاؤسنگ اسکیم ہا کا آغاز کر رکھا ہے اسلام آباد ہاؤسنگ اسکیم تو بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے،وہاں کے حالات بہت بہتر نظر آتے ہیں،وہاں کی تعمیر و ترقی اپنے عروج پر ہے۔رہائشیوں کو تمام تر بنیادی سہولیات میسر ہیں کمرشل ایریاز کے سات ساتھ عالی شان رہائشی مکانات کی تعمیر دیکھنے کو ملتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ راولپنڈی میں چکری کے مقام پر جموں و کشمیر ہاؤسنگ سوسائیٹی کے حالت انتہائی دگر گوں ہیں۔اربابِ اختیار نے غالباً اسلام آباد ہاؤسنگ اسکیم کے آغاز کے بعد وہاں سے اپنی نظر التفات موڑ لی ہیں اور اُس میں دلچسپی لینا بالکل چھوڑ دیا ہے۔ابتدائی ایام میں تو وہاں پر بھی پانی کی ٹینکیاں سڑکیں اور بجلی کی تاریں بچھائی گئی تھیں لیکن کچھ عرصے بعد عدم دلچسپی کے باعث وہاں سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔وہاں کی حالت اب بڑی ناگفتہ بہ ہے ہر طرف ویرانی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ابھی حال ہی میں وہاں ترقی کا ایک پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ مذکورہ اسکیم سے اب رِنگ روڈ نکل چُکی ہے جو کہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔یہ رِنگ روڈ جی۔ٹی روڈ اور موٹر وے کو آپس میں ملاتی ہے۔مگر یہاں چند سوالات ذہن میں جنم لیتے ہیں کہ اِس رنگ روڈ کی تعمیر میں جن لوگوں کے الاٹ شدہ پلاٹ اس کی نظر ہوئے ہیں اُن کے لیے متعلقہ اداروں نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟کیا ان کے لیے کوئی معاوضہ طے ہواہے؟کیا اُس کی کوئی ادائیگی ہوئی ہے یا نہیں؟ یا ایسے متاثرین کے لیے متبادل کے طور پر کوئی زمین کا ٹکڑہ انہیں دیا جا رہا ہے؟ اس اسکیم میں عام پلاٹوں کے ساتھ ساتھ وی آئی پی ویلاز کے طور پر بھی کچھ لوگوں کو پلاٹ الاٹ کیے گئے تھے وہ بھی اس اسکیم کا حصہ تھے۔نہ جانے ان کا کیا مستقبل ہے لہٰذا ہماری ارباب بست و کشاد سے مؤدبانہ اپیل ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنی فوری توجہ مرکوز کریں اور اس کے لیے مناسب اقدامات اُتھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔سوسائیٹی کے تو ہر سال انتخابا ت عمل میں لائے جاتے ہیں اور اس کی باقاعدہ ایک گورننگ باڈی تشکیل پاتی ہے جس میں سیاست دان،ریٹائرڈ سرکاری آفیسران اور سول سوسائیٹی کی شخصیات حصہ لیتی ہیں۔متعلقین کو چاہیے کہ وہ اس گورننگ باڈی کے سات مل کر جموں و کشمیر ہاؤسنگ سوسائیٹی چکری کے لیے جامعہ منصوبہ بندی تیار کریں تا کہ جن احباب کی اس اسکیم میں انویسٹمنٹ ہوئی ہے اُس کا کوئی حل سامنے آ سکے۔اگر اس سوسائیٹی کو آباد کرنا ہے تو یہاں پر تمام بنیادی سہولیات کا فی الفور از سر نو آغاز کیا جائے اور بالخصوص جن لوگوں کے پلاٹ رِنگ روڈ کی زد میں آ چکے ہیں اُن کے لیے مناسب لائحہ عمل سامنے آنا چاہیے تا کہ تمام الاٹیز اپنے مستقبل کو محفوظ سمجھ سکیں۔
٭٭٭

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button