کالمز

عہد و پیمان سے پسپائی تک: چابہار میں بھارت کی دوغلی پالیسیاں بے نقاب

بھارت کی حکومت کی جانب سے ایران کے جنوب مشرق میں واقع چابہار بندرگاہ کی ترقی اور آپریشنل انتظام کے حوالے سے اپنے دیرینہ، انتہائی مشتہر اور تزویراتی لحاظ سے اہم عزم کو اچانک ترک کرنے کا حالیہ فیصلہ، جو بظاہر امریکہ کے بیرونی دباؤ کے تحت لیا گیا ہے، نے ایک بار پھر بھارت کی خارجہ پالیسی کے بنیادی تسلسل، ساکھ اور خلوص پر انتہائی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں، بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اس کے نازک اور تاریخی طور پر پیچیدہ معاملات کے تناظر میں۔ چابہار بندرگاہ کے اس معاہدے سے، جسے برسوں کی سفارتی کوششوں کے بعد علاقائی حکمت عملی کا سنگ بنیاد قرار دیا گیا تھا، بھارت کی اس بظاہر گھبراہٹ زدہ پسپائی کو آزاد جغرافیائی سیاسی تجزیہ نگار اور بین الاقوامی مبصرین ایک دانشمندانہ تدبیری تبدیلی کے بجائے ایک ایسی خارجہ پالیسی کے واضح ثبوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو اصولوں کے بجائے دوغلے پن اور صرف اپنے مفادات کے حصول پر مبنی ہے۔ اس پورے واقعے نے بھارت کے تزویراتی وعدوں کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ کس طرح طویل مدتی اور بظاہر باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داریوں کو اس وقت یکطرفہ طور پر قربان کیا جا سکتا ہے جب بھارت کو طاقتور اتحادیوں کی جانب سے براہ راست دباؤ یا سفارتی ناراضگی کا معمولی سا اشارہ بھی ملے، جن پر وہ خود کو منحصر سمجھتا ہے۔ وہ منصوبہ جسے عالمی سطح پر علاقائی رابطے، معاشی تعاون اور تزویراتی خودمختاری کی علامت بنا کر پیش کیا گیا تھا، اب پالیسی کے الٹ پھیراور سفارتی تضادات کی ایک ایسی مثال بن چکا ہے جس نے بلند بانگ دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان حائل خلیج کو واضح کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا اور بین الاقوامی معاشی تجزیوں کے مطابق بھارتی حکومت نے امریکی پابندیوں کے نئے دور کے نفاذ سے قبل ہی اپنی طے شدہ مالیاتی امداد کا تقریباً 20 ملین ڈالر کا حصہ ایرانی حکام کو منتقل کر دیا تھا، جسے اس وقت بھارت کی سنجیدگی اور اس منصوبے کی تکمیل کے عزم کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ بھارتی سفارت کاروں نے چابہار کو وسطی ایشیا اور افغانستان کی منڈیوں تک رسائی کے لیے ایک ناگزیر گیٹ وے اور اپنے روایتی حریف پاکستان کو بائی پاس کرنے کے لیے ایک وژنری تجارتی راہداری کے طور پر پیش کیا تھا، لیکن تہران کو دی گئی اعلیٰ سطحی یقین دہانیوں کے باوجود نئی دہلی نے امریکی ثانوی پابندیوں کے خطرے کے ظاہر ہوتے ہی تیزی سے قدم پیچھے ہٹا لیے اور ہر قسم کی فعال شمولیت کو منجمد کر دیا۔ اس اچانک تبدیلی نے نہ صرف اس کثیر الجہتی منصوبے کی اہمیت کو کم کیا بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا کہ بھارت کے بین الاقوامی معاہدے صرف اس وقت تک معتبر ہیں جب تک کوئی زیادہ طاقتور سرپرست ان کے خلاف رائے کا اظہار نہ کرے۔ اس بے ترتیب پسپائی اور اندرونی دباؤ کو مزید تقویت اس وقت ملی جب ’انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ‘ (IPGL) کے ان تمام ڈائریکٹرز نے اجتماعی استعفیٰ دے دیا جنہیں حکومت نے چابہار میں بھارت کی تزویراتی اور مالی شمولیت کی نگرانی کے لیے نامزد کیا تھا۔ قیادت کا اس طرح اچانک مستعفی ہونا کسی بھی بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے میں غیر معمولی ہے، جس نے اس کمپنی کے مبہم کردار اور اس پر پڑنے والے دباؤ کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے۔ مزید برآں، کمپنی کی سرکاری ویب سائٹ کا بند ہونا بھی کسی معمول کی اپ ڈیٹ کے بجائے معلومات کو چھپانے اور امریکی پابندیوں کے ممکنہ قانونی اثرات سے وابستہ افراد کو بچانے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے۔ تزویراتی لچک یا سفارتی عزم دکھانے کے بجائے ان خفیہ اقدامات نے افراتفری میں کی جانے والی نقصان کی تلافی اور گہری تزویراتی شرمندگی کا تاثر دیا، گویا کسی مہنگی غلطی کو ریکارڈ سے مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ فوری سیاسی اثرات سے ہٹ کر بین الاقوامی ماہرینِ معیشت اور علاقائی سلامتی کے تجزیہ نگاروں نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ چابہار کے ساتھ بھارت کی وابستگی شاید کبھی بھی خالصتاً تجارتی یا ترقیاتی مقاصد کے لیے نہیں تھی۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگرچہ اسے عوامی سطح پر تجارت اور علاقائی خوشحالی میں سرمایہ کاری کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن اس بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو معاشی تعاون کی آڑ میں خفیہ تزویراتی اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا یے۔ اس طرح کے تصورات نے سفارتی اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے اور ایران سمیت دیگر علاقائی اسٹیک ہولڈرز میں شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ بھارت کے اپنے اقدامات نے ان تجزیوں کو تقویت دی ہے کہ انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کو ایک روایتی بندرگاہ کے انتظامی ادارے کے بجائے چابہار جیسے اہم مقام پر بلا روک ٹوک کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک خاص طریقے سے بنایا گیا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آئی پی جی ایل کے مالیاتی بہاؤ اور معاہدوں کی بین الاقوامی تحقیقات بھارت کے لیے تزویراتی اور قانونی طور پر نقصان دہ حقائق سامنے لا سکتی تھیں، اسی لیے اس منصوبے سے دستبرداری کو کسی گہری تفتیش سے بچنے اور ثبوت مٹانے کی پیشگی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ سنگین الزامات ماہرین کی بحثوں میں سامنے آئے ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ (RAW) چابہار بندرگاہ کو علاقائی کارروائیوں کے لیے ایک لاجسٹک بیس یا سہولت مرکز کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔ ایران اسرائیل فوجی جھڑپوں کے بعد جب ایرانی حکام نے غیر ملکی عناصر کی مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی سخت کی تو ان الزامات نے کافی زور پکڑا۔ اس تجزیے کے مطابق ایرانی کاؤنٹر انٹیلی جنس کی بڑھتی ہوئی چوکسی کی وجہ سے بندرگاہ سے منسلک بعض خفیہ سرگرمیاں بے نقاب ہونے کا خطرہ پیدا ہوا، جس نے نئی دہلی میں شدید تشویش پیدا کر دی کہ اس کے نتیجے میں سنگین سفارتی تصادم ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں منصوبے سے مکمل لاتعلقی کو بھارتی ریاست کے لیے اپنی ساکھ بچانے اور کسی بھی بڑے تنازع سے خود کو دور کرنے کا سب سے محفوظ راستہ سمجھا گیا۔ نئی دہلی کے فیصلہ سازوں نے چابہار سے علیحدگی کو اس لیے ترجیح دی تاکہ بین الاقوامی شکوک و شبہات اور علاقائی مخالفت کے سائے میں کام جاری رکھنے کے بجائے امریکہ کے ساتھ اپنے تزویراتی گٹھ جوڑ کو برقرار رکھا جا سکے اور اپنی معیشت کو پابندیوں سے بچایا جا سکے۔ تاہم اس انتخاب کی قیمت ایران کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کی کھلی خلاف ورزی اور باہمی احترام و مشترکہ تقدیر کے نام پر کی گئی دہائیوں کی سفارتی محنت کو ضائع کر کے چکانی پڑی۔ اس فیصلے نے عالمی برادری کے سامنے بھارت کی اس متوازن اور کثیر الجہتی سفارت کاری کے نام نہاد بیانیے کو بھی مسمار کر دیا ہے جسے وہ اقوام متحدہ سے لے کر جی 20 تک ہر فورم پر پیش کرتا رہا ہے۔ بھارت نے مختصر مدت کی تزویراتی سہولت اور بڑی طاقتوں کے ساتھ صف بندی کی خاطر ایران کے ساتھ اپنے طویل مدتی علاقائی تعاون کو قربان کر کے اپنی نام نہاد ’متوازن‘ خارجہ پالیسی کی کمزوری کو عیاں کر دیا ہے۔ چابہار کا واقعہ اس بات کی بہترین تاریخی مثال ہے کہ جب جغرافیائی حساب کتاب بدلتا ہے تو بھارت اپنے اہم ترین شراکت داروں کو کتنی جلدی چھوڑ دیتا ہے۔ اس سے عالمی سطح پر یہ تاثر پختہ ہوا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی کسی مستقل مزاجی یا خود مختار شراکت داری کے بجائے وقتی سہولت اور بیرونی احکامات کے تحت چلتی ہے۔ چابہار میں بھارت کی دوغلی اور متضاد پالیسیاں مکمل طور پر بے نقاب ہو گئی ہیں، جو دنیا کو یہ دکھاتی ہیں کہ کس طرح دباؤ کے وقت بھارت کا تزویراتی رویہ اس کے بلند و بانگ دعوؤں سے یکسر مختلف ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، اس پسپائی سے ایک قابل اعتماد فریق کے طور پر بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید دھچکا لگا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے درمیان جو معاہدوں کی پاسداری اور سفارتی تسلسل کو تزویراتی شراکت داری کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔ معمولی سے بیرونی دباؤ پر دستخط شدہ بین الاقوامی معاہدے سے پیچھے ہٹنے کی اس روش نے دنیا بھر میں بھارت کے دیگر منصوبوں اور شراکت داریوں کے بارے میں جائز شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں اعتماد ایک ایسی چیز ہے جو دہائیوں میں بنتی ہے لیکن ایک ہی بے وفائی یا کمزوری سے پل بھر میں ختم ہو سکتی ہے۔ چابہار کے معاملے نے ثابت کیا ہے کہ نئی دہلی کے وعدوں اور تزویراتی وژن پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرنا کتنا پر خطر ہو سکتا ہے کیونکہ یہ وعدے حالات بدلتے ہی یا کسی طاقتور اتحادی کے آنکھ کے اشارے پر ختم کیے جا سکتے ہیں۔ چابہار کا کیس اب اکیسویں صدی میں حقیقی سیاست (realpolitik) اور مفادات پر مبنی سفارت کاری کی ایک ایسی عبرتناک داستان بن چکا ہے جس نے بھارت کی دوغلی پالیسیوں کو پوری دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔

Related Articles

Back to top button