کالمز

بنگلہ دیش،”محبت کا زمزم“کہیں سوکھ نہ جائے

بنگلہ دیش جب مشرقی پاکستان کے طور پر آخری ہچکیاں لے رہا تھا تو معروف صحافی الطاف حسین قریشی نے ڈھاکہ کے دورے کے بعداُردو ڈائجسٹ کی کور سٹوری ”محبت کا زمزم بہہ رہا ہے“ کے عنوان سے شائع کی تھی۔جس کا خلاصہ تھا کہ مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان یا متحدہ پاکستان کے لئے محبت کے جذبات کا طوفان مچل رہا ہے۔ پاکستان میں حسینہ واجد کے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد پاکستان کے لئے بنگلہ دیش میں ایک بار پھر امکانات کی ایک نئی دنیا دریافت ہو رہی ہے۔حسینہ واجد نے نریندرمودی کی خواہشات کے تابع بنگلہ دیش میں پاکستان کی سپیس مکمل طور پر ختم کر دی تھی اس لئے یہ سب کچھ نیا اور مختلف لگ رہا ہے وگرنہ ناخوش گوار اور خونیں علیحدگی کے باوجود بنگلہ دیش کے ایک بڑے طبقے میں پاکستان کے لئے اچھے جذبات بھی موجود رہے ہیں ۔حسینہ واجد نے ان جذبات کو طاقت کے ذریعے قالین تلے دبا ئے رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں یہ پاکستان کے لئے بر سوں بعدسفارتی تجارتی اور سیاحتی پیش قدمی یا موجودگی تو ضرور ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ماضی کے سارے زخم مندمل ہونے اور سارے فیصلوں کے ریورس ہونے کا وقت آگیا ہے۔بنگلہ دیش میں طلبہ کا حالیہ انقلاب جمے جمائے نظام کے خلاف برپا ہوا۔بنگلہ دیش کی جین زی نے معاشی بہتری پر آزادی اقتدار اعلیٰ اور قومی خودمختاری کو ترجیح دی کیونکہ یہ بنگالی مسلمانوں کے مزاج کا حصہ ہے۔یہ ان کی شناخت اور حیثیت کے حوالے سے حساسیت ہے جب اور جہاں انہیں یہ خطرے میں نظر آتی ہے وہ مصلحت کو بالائے طارق رکھ کر میدان میں نکل آتے ہیں۔حسینہ واجد جس تیزی سے بھارت کے زیر اثر آرہی تھیں اس نے جین زی کو منقا زیر پا بنادیا اور انہوں نے سڑکوں پلوں کی تعمیر اور صنعتی اور معاشی بہتری کے مظاہر کو ٹھوکر ماردی۔بنگلہ دیشی عوام کی یہ حساسیت ہر کسی کے لئے سبق ہے۔پاکستان کے حکمران طبقات کا المیہ یہ ہے کہ یہ امکانات سے فائدہ نہیں اُٹھاسکتے۔آج کا افغانستان اس کی زندہ مثال ہے جہاں پاکستان کی ساکھ اور امن کا چرخہ جلا کر جتنوں سے پکائی ہوئی طالبانی کھیر آج بھارت مزے لے کر کھارہا ہے۔ہم خود کو ڈیورنڈ لائن کی دوسری جانب محصور کر کے یہ منظر دیکھنے کا جبر سہنے پر مجبور ہیں۔اس لئے بنگلہ دیش میں آگ کا ایک سمندر ہے جس میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔بھارت آج بنگلہ دیش میں عوامی سطح پر اجنبی اور معتوب ہے۔بھارت کے لئے یہ صورت حال نئی نہیں ابھی چند ہی برس پہلے جب وہ کابل سے جہازوں میں بھر کر اپنے انسانی اثاثوں کو دہلی منتقل کر رہا تھا تو منظر بھی ایسا ہی تھا اور خوف اور خدشات کا بھی یہی عالم تھا مگر ہم اس امکان سے فائدہ نہ اُٹھا سکے اور آج وہ دوبارہ کابل میں ”راجا اندر“بنا پھرتا ہے۔خالدہ ضیاء کی موت کو بھارت نے حالات کا پانسہ پلٹنے کے لئے استعمال کرنے کے لئے استعمال کرنا شروع کیا۔یہ وہی خالدہ ضیاء تھیں جنہیں بھارتی ایما پر حسینہ واجد نے پروپاکستان قرار دے کر طویل قید میں ڈالا یہاں تک وقت کا دیمک انہیں اندر ہی اندر کھاگیا۔وہی حسینہ واجد انتقال کرگئیں تو نریندر مودی نے ٹویٹر پر آہ وبکا کا ایک منظر بنا دیا۔انہو ں نے اپنے ایک دورہ بنگلہ دیش میں خالدہ ضیاء کے ساتھ تصویروں کو ٹویٹ کرکے لکھا کہ خالدہ ضیاء کا ویژن اور وراثت ہماری راہنمائی کرتے رہیں گے۔ یہ وہی ویژن اور وراثت تھی جسے ان کی سرپرستی میں حسینہ واجد کچلنے ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہیں۔اس کے ساتھ ہی بھارت نے وزیر خارجہ جے شنکر کو خالدہ ضیاء کے جنازے میں بھیجنے کا اعلان کیا۔اس سے پہلے خالدہ ضیاء کے صاحبزادے طارق الرحمان جب بنگلہ دیش ائر پورٹ پر اُترے تو انہو ں نے استقبالی ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یا بھارت نہیں بنگلہ دیش ہماری ترجیح ہوگی۔طارق الرحمان کا یہ بیان ایک شاخ زیتون تھی جو بھارت کی جانب اُچھالی گئی تھی۔موجودہ ماحول میں خالدہ ضیاء کی جماعت کو پروپاکستان جماعت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا جو برسر اقتدار آکر بھارت کا اثر رسوخ مزید محدود کردے گی۔طارق الرحمان نے اس تاثر کو دور کرنے کی کوشش کی۔ان کا دوسرا مسئلہ بنگلہ دیش کا ہندو ووٹر ہے جو کئی حلقوں میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ ہند وووٹر کی پسندیدہ اور لبرل جماعت عوامی لیگ منظر سے غائب ہے تو ایسے میں بنگلہ دیش کی سیاست کے دو پولزکچھ یوں بن گئے ہیں کہ ایک طرف بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ہے تو دوسری طر ف جماعت اسلامی اور طلبہ تحریک کا اتحاد ہے۔اس ماحول میں ہندوووٹر کے لئے واحد آپشن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی رہ گئی ہے۔ماضی میں خالدہ ضیاء کو یہ گلہ رہا کہ بنگلہ دیش کا ہندو ووٹر تمام تر ناز برداریوں کے باوجود ان کی جماعت کے قریب آنے سے گریزاں رہتا ہے۔خالدہ ضیاء نے 2014کے انتخابات میں اس کرب کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے ہندوبدھسٹ فورم کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے ہندووں کو ہر طرح اکاموڈیٹ کرنے کی کوشش کی مگر مجھے ان کا دل جیتنے میں ناکامی ہوئی۔میں نے گوئے شور چندرا کو ڈھاکہ سے اور چندرارائے کو کرانی گنج سے ٹکٹ دیا ان حلقوں میں ہندوؤں کی اتنی تعداد تھی کہ وہ میرے امیدواروں کو کامیاب بنا سکتے تھے مگرا نہوں نے میرے ہندو امیدواروں کو ووٹ نہیں دیا بلکہ ایک سیٹ پر عوامی لیگ کا ہندو اور دوسری پر عوامی لیگ کامسلمان امیدوار کامیاب ہوا۔ اپنے ایک رکن کا بینہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ گوتم پال کو کابینہ کے رکن کے طور پر بہت سے مواقع فراہم کئے مگر اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ان کی اس گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بنگلہ دیشی دانشورنے لکھا کہ 2026میں ہند وووٹر بڑے پیمانے پر بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی کو ووٹ دینے جا رہا ہے مگر خالدہ ضیاء موجود نہیں۔خالدہ ضیاء کے یہ دونوں غیر مسلم امیدوار ایک بار پھر مشکلات کا سامنا کررہے ہیں کیونکہ اس بار بی این پی کے مسلم آزاد امیدوار ان دونوں کو ہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔یوں عوامی لیگ کے منظر سے غائب ہوجانے سے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا مخمصہ بڑھ گیا ہے انہیں جماعت اسلامی اور طلبہ تحریک سے فاصلہ بھی رکھنا ہے۔خودکو پروپاکستان چھاپ سے بچانا بھی ہے اور ہندو ووٹر کو کو اپنی جانب کھینچنا بھی ہے۔ظاہر ہے کہ طارق الرحمان خود کسی انقلاب کے نتیجے میں واپس نہیں آئے بلکہ وہ کسی اور کے برپاردہ انقلاب کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات سے فیضیاب ہونے جا رہے ہیں اس لئے نائید الاسلام اور طارق الرحمان کے لہجوں اور پالیسیوں میں واضح فرق دکھائی دے رہا ہے۔ اس فرق کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی آمد میں بین الاقوامی ضمانتیں بھی شامل ہوں گی۔بین الاقوامی ضمانتوں کا ہی نتیجہ ہوسکتا ہے کہ خالدہ ضیاء کے جنازے میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکراور پاکستان کے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے درمیان اتفاقیہ ٹائپ ملاقات بھی ہوئی گرم جوش مصافحہ بھی ہوا۔یہ مصافحہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی منجمد برف کو پگھلانے کے لئے اسلام آباد کی سارک کانفرنس میں واجپائی مشرف مصافحہ بھی ثابت ہو سکتا ہے اور پاکستان کی طرف سے اس بات کا اظہار بھی کہ وہ بنگلہ دیش کی عوامی قبولیت کو بھارت کا قافیہ مکمل طور پر تنگ کرنے کے لئے اس طرح استعمال نہیں کرے گا جس طرح کا مظاہرہ بھارت نے حسینہ واجد کے ذریعے جا ری رکھا۔یوں بھارت کو عوامی سطح پر تو نہیں مگر ریاستی سطح پر اپنی سپیس کسی حد تک واپس مل سکتی ہے اور عین ممکن ہے ا س کے بدلے بھارت افغانستان میں پاکستان کو کچھ سپیس لوٹانے پر تیار ہوجائے۔اس لئے بنگلہ دیش میں پھوٹ پڑنے والے محبت کے تازہ زمزم کو زمینی حقائق کی روشنی میں ہی دیکھنا ہوگا۔جتنی سپیس حالات نے پاکستان کے لئے پیدا کی ہے اسے کامیابی اور مہارت سے استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ الگ بات کی ہماری تاریخ کی فائلوں اور کتابوں میں ایسے امکانات سے فائدہ اُٹھانے اور ایسے مواقع کو مہارت سے استعمال کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔
٭٭٭٭٭

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button