میرواعظ عمر فاروق کا ٹویٹر تنازعہ

چند دن قبل میرواعظ عمر فاروق کے ایکس ہینڈل سے ان کے تعارف کا ایک سب سے مضبوط حوالہ اچانک حذف ہوگیا۔یہ ایک جملہ جس کی ٹویٹر سے غائب ہونے نے سب کو چونکا دیا تھا چیرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس کل جماعتی حریت کانفرنس۔اس تبدیلی کو کشمیر میں نوٹ کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی تبصروں اور تجزیوں کا ایک سیلاب سا آگیا۔ہر شخص اپنے انداز سے اس پر تبصرہ کرنے لگا۔کوئی اسے میرواعظ کی مصلحت پسندی سے تعبیر کرنے لگا تو کوئی یہ ان کے کسی نئے سیاسی سفر کا آغاز اور اشارہ قرار دینے لگا وہیں ایسی آوازیں بھی تھیں جن کے مطابق یہ میرواعظ عمر فاروق کا عالم مجبوری میں ہونے والا فیصلہ ہے۔ سری نگر میں ایک دل جلے کشمیری نوجوان کا تبصرہ تھا کہ میرواعظ عمر فاروق نے اس مرحلے پر ایکس اکاونٹ کی قربانی نہیں دی جب قوم کے لئے عملی قربانی کا وقت آئے گا تو ان سے کیا توقع کی جا سکے گی؟۔جموں وکشمیر کونسل برائے انسانی حقوق لندن کے سیکرٹری جنرل سید نذیر گیلانی نے بھی اس پر بھرپور تبصرہ اور تجزیہ کرتے ہوئے حریت کانفرنس کی ماضی کی غلطیوں کا تذکرہ کیا۔جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر یہ اتحاد وقت پر اپنے کارڈز اچھے انداز میں کھیلتا تو آج بے بسی کی یہ کیفیت نہ ہوتی۔انہوں نے ایک طنزیہ جملہ یوں بھی کہا ایکس اکاونٹ تو بچ گیا مگر بھروسہ ٹوٹ گیا۔ سری نگر سے حریت کانفرنس کے سابق راہنما بلال غنی لون میرواعظ عمر فاروق کی مدد کو آئے اور انہوں نے ایک طویل بیان میں اس فیصلے کا دفاع کیا اور ان مجبوریوں کا ذکر کیا جو اس فیصلے کا موجب بنیں۔ان کا کہنا تھا جس معاشرے میں ایک فیس بک پوسٹ کو صرف لائیک کرنے پر ایک بچے کو یواے پی اے یعنی ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے نام پر گرفتار کیا جائے وہاں حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔یوں انہوں نے میرواعظ عمر فاروق پر پڑنے والے دباؤ کا ملفوف انداز میں ذکر کیا۔خود میرواعظ عمر فاروق کی طرف سے بھی یہ وضاحت آئی کہ ان کا یہ فیصلہ مجبوری کے تحت تھا۔محبوبہ مفتی نے بھی کہا کہ میرواعظ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا تعارف کسی بھی حوالے سے کرائیں۔خود میرواعظ عمر فاروق نے بھی یہ انکشاف کیا کہ بھارتی حکام نے انہیں ایکس اکاونٹ سے چیرمین حریت کانفرنس کا عہدہ حذف کرنے پر مجبور کیا۔میرواعظ عمر فاروق کی اس وضاحت میں جان ہے کیونکہ حریت کانفرنس بھارت کی طرف سے ممنوع قرار پانے والا کشمیریوں کا سیاسی اتحاد ہے۔ خود میراواعظ ابھی بھی پابندیوں کی زد میں ہیں۔وہ کئی برس سے خانہ نظر بند ہیں۔انہیں آئے روز جامع مسجد میں جمعہ کا خطبہ دینے سے روکا جاتا ہے۔انہیں اپنی بات کہنے اور سرگرمیاں جاری رکھنے کی جو اجازت ہے وہ بہت محدود ہے اور کسی حد تک کمپرومائزڈ بھی ہے۔کشمیر میں اس وقت بھارت کا جس انداز سے کنٹرول ہے اس میں مخالفانہ تو درکنار اعتدال پر مبنی آوازوں کا بلند ہونا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔میرواعظ تو سری نگر میں موجود ہیں اور ان کی مسلم شناخت ہے اس ماحول میں امریکہ میں مقیم جموں سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی انورادھا بھسین بھی اعتدال پسند آواز بلند کرنے اور آزاد روش اپنانے کی پاداش میں مقدمات کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ایسے میں میرواعظ عمر فاروق کو اظہار رائے کی آزادی دیا جانے ایک خواب کے سوا کچھ نہیں۔میرواعظ کو پانچ سالہ نظر بندی کے بعد جب محدود آزادی ملی تھی تو یہ کچھ شرائط کے تحت ہی تھی۔نظر بندی کے خاتمے سے پہلے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی خاتون مشیر اوقاف مسز اندرابی نے ان کی رہائش گاہ پر جا کر ملاقات کی تھی اور اس کی تصویر میڈیا کی زینت بنی تھی۔اس سے انداز ہورہا تھا کہ میرواعظ کا بابِ قفس تھوڑا سا کھول تو دیا گیا ہے مگر ان کی آزادی اظہار اور آزادانہ نقل وحمل کے پر بھی ساتھ ہی کاٹ دئیے گئے ہیں۔اسی لئے وہ جامع مسجد کے منبر سے اب مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت اور کشمیر میں ہونے والے مظالم کی بات کرنے کی بجائے دعائیں اور مناجات کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے حالا ت میں حریت کانفرنس نہ صرف غیر متعلق ہوگئی ہے بلکہ عوامی رائے پر راج کرنے کی اس کی صلاحیت بھی قریب قریب ختم ہو کر رہ گئی ہے۔اب حریت کانفرنس اسلام آباد میں ہی نظر آتی ہے اور وہ کچھ عجب نہیں یہ ٹمٹماتا ہوا چراغ بھی کسی دن بھڑکے بغیر ہی خاموشی سے بجھ جائے اوریوں اس کشمیر کے سماج اور سیاسی منظر پر کئی دہائیوں سے غالب رہنے والا یہ اتحاد قصہ پارینہ بن جائے۔میرواعظ عمر فاروق اس اتحاد کے ایک مضبوط اور پاکستان کے اندر اور باہر قبولیت رکھنے والے دھڑے کے سربراہ ہیں۔حریت کانفرنس کا یہ دھڑا سید علی گیلانی کے دھڑے کے مقابلے میں بین الاقوامی سطح پر اعتدال پسند کہلاتا رہا ہے۔نوے کی دہائی میں بے نظیر بھٹو کا دوسرا دور حکومت اس اتحاد کے عروج کا زمانہ تھا جب پاکستان میں نواب زادہ نصراللہ خان جیسی قد آور سیاسی شخصیت کشمیرکمیٹی کے چیرمین تھے اور حریت کانفرنس کی قیادت کو او آئی سی اور کئی دوسرے عالمی فورمز تک رسائی حاصل تھی۔دہلی میں امریکی سفیر فرینک وزنر حریت کانفرس کو سری نگر کے تخت پر بٹھانے کے لئے سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے تھے اور کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے لئے نظریں ایک حریت راہنما شبیر احمد شاہ پر جم چکی تھیں۔یہ شمالی آئر لینڈ طرز پر مسئلہ حل کرانے کی ایک کوشش تھی۔یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔اس کے بعد جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس اتحاد کو دوبارہ عروج حاصل ہوا مگر اس وقت یہ جنگ اور سفارتی محاذ آرائی کی بجائے امن اور صلح کا زمانہ شروع ہوچکا تھا اور اسلام آباد کی پالیسی میں بڑی تبدیلی رونما ہو چکی تھی۔حریت کانفرنس میرواعظ نے امن کی لہروں کا حصہ بننے کا فیصلہ کرکے خود کو منظر پر نمایاں کیا تھا۔پانچ اگست کو بھارت دھڑلے سے کشمیر کو ہضم کر بیٹھا ہے۔وہ پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرنے سے گریزاں ہے۔بھارت کا مزاج برہم مزاج کیسے ٹھنڈا ہوگا؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔عین ممکن ہے کہ بھارت اس کے لئے آزادکشمیر کے پاکستانی علاقوں میں مرحلہ وار انضمام کی شرط پر تعلقات بحال کر ے گا۔پانچ اگست 2019کی طرز پر ہی کوئی فیصلہ بھارت کو مطمئن کر سکتا ہے۔اسی لئے آزادکشمیر کی سیاست بتدریج خرابی کی راہوں پر چل رہی ہے۔منظر پر موجود پرانی سیاسی قیادت غیر متعلق ہو رہی ہے۔سیاست کی ایسی نئی پنیری لگ رہی ہے جس کو آزادکشمیر کے موجودہ سٹیٹس کا راز معلوم ہے نہ اس مقام تک پہنچنے کے لئے راہ کی کھٹنائیوں کی تاریخ سے واقفیت ہے۔اس کلی طور پر بدلے ہوئے ماحول میں میرواعظ عمر فاروق کے ٹویٹر ہینڈل سے چند الفاظ کے حذف ہونے کی اہمیت نہیں۔جہاں حریت کانفرنس نہیں رہی وہاں چیرمین کے عہدے کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہی اور یہ منظر یکطرفہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر اور گرینڈ مفاہمت کا نتیجہ ہے جس کا آغاز پانچ اگست کو ہوا تھا۔




