اسلامی معاشرے پر مغربی تہذیب کے برے اثرات امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا چیلنج)۔
تحریر: شمریزاحمدگل طالب علم شعبہ اردو گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد آزاد کشمیر

اسلامی تہذیب ایک مکمل آفاقی تہزیب ہے جس کا دائرہ کار زندگی کے ہر شعبے تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ ہمارے نزدیک دین اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے نہ کہ اس کا دائرہ کار صرف عبادات اور معاملات تک محدود ہے۔ اسلامی تہذیب اجتماعیت کا درس دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” تم بہترین امت ہو جو نکالے گئے ہو لوگو کی طرف کہ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللّٰہ پر ایمان لاتے ہو”۔(القرآن) ہم پر یہ بات بھی عیاں ہو جانی چائیے کہ ہماری پوری زندگی کا دستور اللّٰہ تعالیٰ کی بابرکت کتاب قرآن مجید اور احادیث نبوی کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اس کے علاوہ اگر ہم کوئی دوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں تو یقیناً یہ باطل ہے۔”اسلامی تہذیب اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے دیا ہوا ایک ایسا جامع اور مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں انسانی زندگی کے تمام رہنما اصول موجود ہیں ”۔ یہ تھی اسلامی تہذیب کی مختصر تعریف اور اب ہم مغربی تہذیب کا جائزہ لیتے ہیں۔ مغربی تہذیب ایک باطل نظام ہے جو انسانوں کا بنایا ہوا ہے اور اس کا دائرہ کار بہت محدود ہے ان کے نزدیک مزہب فرد کا ذاتی مسئلہ ہے نہ کہ اجتماعی طور پر ایک فرد کسی دوسرے کی اصلاح کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی فرد کسی دوسرے کی اصلاح کا زمہ دار ہے۔ المختصر یہ کہ ” یہ ایک ایسا باطل نظام ہے جو لوگوں کو اللّٰہ کی غلامی سے نکال کر بندوں کی غلامی کی طرف لے جاتا ہے اور من چائیی زندگی جس کی کسی حدود کا تعین نہیں ہے حلال،حرام،جائز اور ناجائز کا کوئی تصور موجود نہیں ہے”۔ مغربی تہذیب کے تمام اصول وضوابط انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور وہ جس طرح چاہتے ہیں اسی طرح ان میں ردو بدل کر دیتے ہیں اور ان کے نزدیک کامیابی اور ترقی کا دارومدار سودی نظام معیشت پر ہے جبکہ اسلام میں سود حرام ہے۔ عصر حاضر میں مغربی تہذیب کے برے اثرات یقیناً امت مسلمہ کے نوجوانوں پر بلخصوص اور بالعموم عوام الناس پر مرتب ہو رہے ہیں آئیے ہم جائزہ لیتے ہیں کہ مغربی باطل تہزیب امت کے نوجوانوں کو کیسے جھنجوڑنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔لوگو! اسلام ہی وہ ضابطہ ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے جس میں دو رنگی نہیں بلکہ یک رنگی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے” اے اہل ایمان! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرنا یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے”۔ جب ہمیں اس بات کا علم ہے کہ اسلام میں یک رنگی ہے ایک ایسا دین جس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہے جس نے ناکامی اور کامیابی کے راز بھی بتا دیے حلال اور حرام میں فرق بھی واضح کر دیا حتیٰ کے رب کائنات نے اپنی اطاعت کے فوائد اور نافرمانی کے نقصانات بھی بیان کر دیے پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کون سی چیز ہے جو انسان کو اپنے خالق حقیقی کی نا فرمانی پر آمادہ کرتی ہے اور ہم باطل پرستی میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ جس وقت شیطان نے رب سے مہلت مانگی تھی کہ لوگوں کو گمراہ کروں گا تو اللّٰہ نے فرمایا تھا” جو میرے خاص ہوں گے تو انہیں کبھی گمراہ نہیں کر سکے گا البتہ تجھے یہ مہلت دی جاتی ہے اور یاد رکھنا جو تیری اتباع کریں گے میرا وعدہ ہے کہ تیرے ساتھ ان کو بھی جہنم میں ڈالوں گا۔ اس سب کے باوجود ہم نے اپنے حقیقی رب کی رضا کو چھوڑ کر یہود ونصاریٰ کی رضا چاہتے ہیں ہمارے تعلیمی،معاشی،معاشرتی،سیاسی اور اقتصادی معاملات میں یہود ونصاریٰ کی مداخلت یہ سب کیا ہے ہم اپنے آپ کو مسلمان بھی کہلاتے ہیں اور دوسری جانب اسلام دشن عناصر کا سہارا بھی بنتے ہیں یہ تو سراسر منافقت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام ہر دور میں غالب رہا کسی بھی ایسے فتنے کو ابھرنے نہیں دیا جو اسلام دشمن ہو۔ بد قسمتی سے آج مغرب کا باطل اور دجالی نظام ہمارے درمیان حائل ہوگیا کہ جس کے خلاف ہمارے اسلاف نے خون کی قربانیاں دیں۔ یاد رکھیں جنگ کے لیے وہی ہتھیار استعمال ہوا کرتے ہیں جو دشمن کے پاس ہوں جن ہتھیاروں سے دشمن آپ کو شکست دیتا ہے چاہے وہ سیاسی محاذ ہو یا میدان قتال میں موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک بڑا پلیٹ فارم ہے لیکن ہمارے نوجوان اپنی تہزیب کو اجاگر کرنے باطل کو مسترد کرنے کے لیے قاصر ہیں۔ جو نوجوان ماضی میں میدان جنگ میں ہوتے تھے آج کا وہ نوجوان رقص کی محفلوں میں ہے وہ گانے بجا کر تو فخر کرے گا لیکن کتاب اللّٰہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہا مساجد میں جانے اور پانچ وقت کی نماز سے قاصر نوجوان دوسروں کی اصلاح کیسے کریگا۔ ہمیں تو دوسروں کی اصلاح کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن ہم اپنی ذات کے لیے بھی مخلص نہیں ہیں کہیں ہمیں یہ غفلت برباد نہ کر دے اور یاد رکھیں دنیا کی عارضی خواہشات آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں کچھ نہیں ہیں۔ زمانہ قدیم کے لوگ اگر کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے تو اتنا ضرور تھا کہ وہ بہت سارے ایسے گناہوں سے بچ جاتے تھے جو آج کے مسلمان کو سوشل میڈیا سے مل رہے ہیں جب بچہ پیدا ہوا دو تین سال کے اندر اس کے ہاتھ میں موبائل تھما دیا جاتا ہے وہ اپنے والدین سے کیا سیکھے گا جو عمر اس کو قرآن اور نماز سے جوڑنے کی تھی وہ عمر اور وقت اس نے موبائل پر یہود کی دی ہوئی گیموں میں صرف کر دیا۔ یاد رکھیں دشمن غلط نہیں ہے ہم خود غلط ہیں دشمن تو ہے ہی دشمن وہ آپ کا خیر خواہ کیسے ہو سکتا ہے جب ہماری مارکیٹ میں انگریز کے دیے ہوئے بت اشتہار کے طور پر نسب ہیں ہماری معیشت میں سود ہے ہماری یونیورسٹیوں میں اسلامیات کو انگریزی میں پڑھایا جا رہا ہے اسلام پسند تحریک و تنظیم کی کھلے عام مخالفت کی جا رہی ہے گانے اور رقص کی محفلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے ایسے حالات میں ایک با غیرت نوجوان کیسے خاموشی اختیار کر سکتا ہے اگر ہم اپنی تہزیب کی حفاظت نہیں کریں گے تو کسی صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم نے تو نی آنا آج کے نوجوان نے ہی معاشرے کی اصلاح کرنی ہے۔
اس سب کے باوجود اسلامی تنظیمیں اور تحریکیں امید اور یقین کی نوید سنائی دیتی ہیں اور عالم اسلام میں روح کی سی حیثیت رکھتی ہیں۔ جب دشمن ہر طرح سے مایوس ہوا اور اسے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے نزدیک گردن کٹا دینا ایک فخر کی بات ہے تو اس نے اسلام کو مغلوب کرنے کے لیے دیگر حربے آزمانا شروع کر دیے۔ مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ تمہارا مزہب تو امن کا درس دیتا ہے جبکہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا” ان (دشمنوں) سے لڑو یاں تک کہ فتنہ ختم ہو جائے اور دین سارے کا سارا خالص ہو جائے اور زمین میں امن قائم ہو جائے” (القرآن) اس آیت مبارکہ میں واضح کیا گیا ہے کہ جب دشمن کی طرف سے تمہاری تہذیب کو خطرہ ہو اور تمہارے ساتھ ظلم کا رویہ رکھا جائے ایسے حالات میں ان کا مقابلہ کرو۔ آج جو مغرب نے اپنے نظام تعلیم میں کتابیں رکھی ہیں ان کی تعداد کی لاکھوں کتابیں بھی وہ لے آئیں ہماری مقدس کتاب قرآن کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہمیں قرآن کو پڑھنے میں فخر محسوس کرنا چاہیے جبکہ آج کا نوجوان انگریزوں کے دیے ہوئے قانون کو فخر سے پڑھتا ہے اور قرآن کو پڑھنے والے اور مدرسے میں پڑھنے والے طالب علم کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ جس کو سرور کائنات محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے افضل قرار دیا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے” ”تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سیکھائے”۔ (صحیح بخاری) خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” لوگو! میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم انہیں مظبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوں گے ایک کتاب اللّٰہ (قرآن مجید) اور دوسری میری سنت” دنیا نے دیکھا کہ قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی کتاب بھی کامل اور معتبر نہیں ہے۔ آج کا امریکہ کا بنایا ہوا پیس آف بورڈ جو کہ مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کے بعد دشمن نے اپنی حفاظت کے لیے بنایا ہے کی ہمارے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہے اور ہم مسترد کرتے ہیں۔ہمارا پیس آف بورڈ آج سے ساڑھے 1400 سال پہلے بنا ہوا ہے۔ آج کا مغربی نظام جو کہ آبادی کو بڑھانے کی مخالفت کرتا ہے اس سے پوچھا جائے جو خدا رزق دیتا ہے اس نے آبادی کے بڑھنے پر پابندی نہیں لگائی اسی نے مخلوق کو پیدا کیا وہی رزق دیتا ہے اور امریکا پوری دنیا کا ٹھیکیدار بنا ہوا ہے دراصل یہ وہی خدائی دعویٰ ہے جو فرعون نے کیا تھا۔ ہماری کامیابی اسلام کے سنہری اصولوں میں ہے ہمارا مقصد خدا کی رضا اور خوشنودی ہونا چاہیے ہر وہ کام جس سے ہمارا دین ہمیں منع کرتا ہے اس سے ہمیں باز رہنا چاہئے اور جن کاموں کا حکم دیا گیا ہے ان پر عمل کرنا ہمارے لیے لازم ہے اگر ہم اجتماعی طور پر اتحاد عالم اسلام اور قومی یک جہتی کو فروغ دیں گے تو یقیناً ہم دشمن پر غالب آ سکتے ہیں اور یوں اسلام کی شمع پھر سے عالم میں جگمگائے گی لیکن اگر ہم نے اتحاد کی بجائے فرقہ واریت کو اور عدل کی بجائے نا انصافی کو فروغ دیا تو ہماری ہوا اکھڑ جائے گی اور دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں مغربی تہذیب اور دجال کے فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین




