کالمزمظفرآباد

ایک وزیراعلیٰ۔۔۔ دو صوبے،دومختلف رویے

تحریر:رشیداحمدنعیم

دنیا بھر میں سیاست اختلافِ رائے، تنقید اور باہمی مقابلے کے گرد گھومتی ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے نظریات، پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی پر سوال اٹھاتی ہیں۔ کبھی سخت زبان بھی استعمال ہوتی ہے اور کبھی وقتی مفادات کے تحت بیانات کی جنگ بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ سب کچھ کسی حد تک سیاسی عمل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم مہذب معاشروں میں ایک اصول ہمیشہ مقدم رہتا ہے کہ ریاستی عہدوں پر فائز منتخب نمائندوں کے ساتھ ذاتی یا جماعتی اختلاف کے باوجود آئینی احترام اور سرکاری شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جاتا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر یہ لکیر مٹتی دکھائی دیتی ہے جس کا حالیہ مظاہرہ خیبر پختونخوا کے منتخب وزیرِ اعلیٰ جناب سہیل آفریدی کے پنجاب کے دورے کے دوران دیکھنے میں آیا۔جناب سہیل آفریدی صاحب کسی جماعت کے نہیں بلکہ ایک صوبے کے منتخب وزیرِ اعلیٰ ہیں۔ آئینی طور پر وہ ایک وفاقی اکائی کے سربراہ ہیں اور ان کے ساتھ سلوک دراصل اس صوبے کے عوام کے احترام یا عدم احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب کے دورے کے دوران جس طرح کا سرد مہری پر مبنی، غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا گیا وہ محض ایک سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک نامناسب سرکاری طرزِ عمل کی مثال بن کر سامنے آیا۔ نہ صرف روایتی پروٹوکول سے گریز کیا گیا بلکہ مجموعی تاثر یہ دیا گیا کہ جیسے سیاسی مخالفت نے آئینی آداب پر سبقت حاصل کر لی ہو۔یہ رویہ اس لیے بھی افسوسناک ہے کہ پنجاب خود کو انتظامی تجربے، سیاسی بلوغت اور قومی قیادت کا مرکز سمجھتاہے۔ ایسے میں اگر عدم برداشت اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا پیغام جائے تو یہ صرف ایک صوبے یا حکومت کی ساکھ کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی وحدت اور باہمی اعتماد پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر اسے”ذاتی انا“ یا ”جماعتی ضد“ کی نذر کر دینا کسی بھی صورت میں دانشمندانہ عمل نہیں کہا جا سکتا۔اس کے برعکس جب یہی وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی سندھ کے دورے پر گئے تو وہاں کا منظر یکسر مختلف تھا۔ سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے نہ صرف جناب سہیل آفریدی کا خیرمقدم کیا بلکہ سرکاری سطح پر ان کے منصب کے مطابق پروٹوکول بھی فراہم کیا۔ صو بائی وزراء نے ایئرپورٹ پرجاکر ان کا پر تپاک استقبال کیا۔ ان کو سندھ کی روایتی ٹوپی اور اجرک پہنائی جس سے اخوت اور بھائی چارے کا خوبصورت منظر دیکھنے کو ملا۔اس غیر سگالی کے عملی مظاہرے سے پورے پاکستان میں خصوصاًہ خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے مثبت پیغام گیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اسے نیگ شگون تصور کیا جارہاہے جس سے سیاسی تلخیوں میں کمی آنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔یہ رویہ اس بات کا ثبوت تھا کہ سیاسی اختلاف کے باوجود آئینی احترام اور بین الصوبائی شائستگی کو مقدم رکھا جا سکتا ہے۔ سندھ حکومت کا یہ طرزِ عمل دراصل جمہوری بلوغت اور سیاسی برداشت کی ایک مثبت مثال ہے۔یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ سندھ اور خیبر پختونخوا کے درمیان بھی سیاسی اختلافات موجود ہیں۔نظریاتی فاصلے بھی ہیں اور ماضی میں سخت بیانات کا تبادلہ بھی ہوتا رہا ہے۔ اس کے باوجود سندھ حکومت نے یہ ثابت کیا کہ سیاست میں اختلاف دشمنی نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے ذاتی عناد میں بدلا جانا چاہیے۔ ایک صوبے کے منتخب سربراہ کا احترام دراصل وفاق کی مضبوطی کا احترام ہے۔پنجاب حکومت کا رویہ اس تناظر میں مزید سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا ہم بطور قوم اب اس مقام پر آ گئے ہیں جہاں ایک منتخب وزیرِ اعلیٰ کو صرف اس لیے نظر انداز کیا جائے کہ وہ مخالف سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہے؟ کیا آئینی عہدوں کی حرمت اب جماعتی مفاد کے تابع ہو چکی ہے؟ اگر یہی روش جاری رہی تو کل کوئی بھی صوبہ دوسرے صوبے کے نمائندے کو اسی پیمانے پر پرکھنے لگے گا اور یوں وفاقی ہم آہنگی ایک کمزور نعرہ بن کر رہ جائے گی۔سندھ حکومت کے ذمہ دارانہ رویے کو سراہنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ مثبت مثالوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جو حکومتیں برداشت، تحمل اور شائستگی کو اپنا شعار بناتی ہیں وہی دیرپا سیاسی ساکھ حاصل کرتی ہیں۔ اس کے برعکس غیر سنجیدہ اور تضحیک آمیز رویے وقتی سیاسی داد تو حاصل کر سکتے ہیں مگر تاریخ کے کٹہرے میں اکثر شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔آج پاکستان کو جس سب سے بڑے مسئلے کا سامنا ہے وہ سیاسی تقسیم نہیں بلکہ سیاسی عدم برداشت ہے۔ اگر صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کے منتخب نمائندوں کو عزت دینے میں ناکام رہیں گی تو عام شہریوں سے برداشت اور اتحاد کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب حکومت اپنے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کرے اور یہ سمجھے کہ سیاسی اختلاف ریاستی آداب کی نفی کا جواز نہیں بن سکتا۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سیاست کا حسن اختلاف میں ہے مگر ریاست کا وقار احترام میں پوشیدہ ہے۔ سندھ حکومت نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ سیاسی بالغ نظری اب بھی ممکن ہے جبکہ پنجاب حکومت کے رویے نے ایک افسوسناک مثال قائم کی۔ اب یہ پنجاب کے اربابِ اختیار پر ہے کہ وہ تاریخ میں کس صف میں کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ برداشت اور شائستگی کے علمبرداروں میں یا تنگ نظری اور عدم برداشت کی فہرست میں۔

Related Articles

Back to top button