کالمز

کنن پوش پورہ سانحہ،عالمی ضمیر کی خاموشی کب ٹوٹے گی؟

تحریر۔ریحانہ خان چیئرپرسن وویمن کمیشن

کنن پوش پورہ کا سانحہ تاریخِ کشمیر کے اُن المناک ابواب میں شامل ہے جنہیں وقت گزرنے کے باوجود فراموش نہیں کیا جا سکا۔ 23 فروری 1991 کی شب ضلع کپواڑہ کے علاقوں کنن اور پوش پورہ میں پیش آنے والا واقعہ آج بھی انسانی ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران خواتین کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے الزامات سامنے آئے، جنہوں نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا امر یہ ہے کہ تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود متاثرین کو مکمل انصاف فراہم نہیں کیا جا سکا۔ یہ صورتحال انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور اقوام عالم کے کردار پر سوالیہ نشان چھوڑتی ہے۔ اگر دنیا کے کسی اور خطے میں اس نوعیت کا واقعہ پیش آئے تو فوری تحقیقات اور عالمی ردعمل سامنے آتا ہے، مگر کشمیر کے معاملے میں خاموشی اختیار کی جاتی ہے، جو لمحہ فکریہ ہے۔کنن پوش پورہ کا واقعہ محض ایک سانحہ نہیں بلکہ کشمیری خواتین کی جدوجہد، صبر اور استقامت کی داستان بھی ہے۔ کشمیری خواتین نے تمام تر مظالم اور دباؤ کے باوجود اپنے حقوق اور آزادی کی جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ ان کی ہمت و بہادری تاریخ کا روشن باب ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ United Nations، عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی عدالتی ادارے غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو۔ انصاف کی فراہمی نہ صرف متاثرہ خاندانوں کا حق ہے بلکہ عالمی امن اور انسانی وقار کے تقاضوں میں بھی شامل ہے۔کنن پوش پورہ کا سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری میں دوہرا معیار عالمی نظام کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے اور انصاف کی راہ ہموار کرے تاکہ متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے اور تاریخ میں سچ کو جگہ مل سکے۔بھارتی فوجیوں نے 23 فروری 1991 کی رات کو ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران آٹھ سے اسی سال کی عمر کی تقریبا 100 خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی تھی۔کنن پوش پورہ کا المناک سانحہ بھارتی حکام کی طرف سے کشمیری خواتین کو جدوجہد آزادی سے دور رکھنے کے لیے ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔کشمیری خواتین کو تحریک آزادی میں ان کے فعال کردار اور قربانیوں پر شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہیں کشمیری خواتین بزدل بھارتی فورسز کا سب سے بڑا نشانہ ہیں۔بھارتی فوجی کشمیریوں کو سزا دینے، ان کی تذلیل اور ڈرانے دھمکانے کے لئے خواتین کی آبروریزی کوہتھیارکے طور پر استعمال کرتے ہیں۔کنن پوش پورہ کے ہولناک واقعہ کو نام نہاد بھارتی جمہوریت کے چہرے پر ایک بڑا داغ ہے۔عصمت دری کا شکار خواتین کو انصاف فراہم نہ کرنا قابل مذمت ہے۔ اس وحشیانہ عمل میں ملوث فوجی اہلکاروں کو بچانے کے لئے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی۔انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کریں۔ قابض سفاک بھارتی فوجیوں کی جانب سے کشمیری خواتین پر جنسی حملوں اور تشدد کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنا بھارت کیلئے شرم کا مقام ہے۔سانحہ کنن پوش پورہ کو ہم کبھی نہیں بھلا سکتے آزای کی جدوجہد مزید تیز کریں گے۔23 فروری 1991 کا دن کشمیری عوام کے لئے یوم سیاہ ہے جس روز کشمیری خواتین پر جنسی حملے بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم کے منہ پر طمانچہ ہیں، 22 اور 23 فروری 1991 کی درمیانی شب بھارتی دہشت گرد فوجیوں کے ہاتھوں عفت مآب کشمیری خواتین پر ہوئے عصمت ریزی کے بیہانک حملے کوچونتیس برس گزر جانے کے باوجود اس خوفناک حملے میں ملوث بھارتی سفاک فوجیوں کیخلاف کوئی کاروائی نہ ہونے کو کشمیری عوام کے خلاف بھارتی حکمرانوں اور عدلیہ کی جانب سے نفرت، بغض اور عداوت ہے۔
٭٭٭٭٭

Related Articles

Back to top button