
فلسطین کے لیے مجوزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت پاکستان کی غیر معمولی کامیابی کی عکاس ہے اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو غزہ کے لیے امن بورڈ جیسے اہم بین الاقوامی ڈھانچے میں کلیدی کردار ادا کرنے کی باضابطہ اور علامتی دعوت بلاشبہ قوم کے لیے ایک تاریخی سفارتی کامیابی ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کے اس دیرینہ اور اصولی جغرافیائی سیاسی موقف کی توثیق کرتی ہے جو وہ کئی دہائیوں سے فلسطینی مسئلے پر مختلف عالمی فورمز اور کثیر الجہتی مصروفیات کے دوران عالمی طاقتوں کی تبدیلیوں اور دباؤ کے باوجود اپنائے ہوئے ہے۔ عالمی طاقت کے اعلیٰ ترین حلقوں سے ابھرنے والی اس پیش رفت کو سفارتی حلقوں اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین پاکستان کی خارجہ پالیسی کے سفر میں ایک سنگ میل قرار دے رہے ہیں جو سرد جنگ، علاقائی تنازعات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے اتار چڑھاؤ سے گزرتے ہوئے اب عالمی سفارت کاری کے پیچیدہ ڈھانچے میں اپنی نئی حیثیت کو منوا چکا ہے۔ یہ دعوت دراصل انصاف کے عالمی اصولوں، پائیدار امن اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے پاکستان کی مسلسل اور اخلاقی بنیادوں پر مبنی وکالت کا ثمر ہے جو محض بلند بانگ دعووں تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی طور پر انسانی ہمدردی کی امداد، اقوام متحدہ میں سفارتی حمایت اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کی صورت میں ہمیشہ سامنے آتی رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں کی صورتحال عصر حاضر کی سیاست کا سب سے حساس اور تزویراتی چیلنج بن چکی ہے، پاکستان کی شمولیت عالمی طاقتوں اور خصوصاً امریکہ کی جانب سے پاکستان کی سفارتی پختگی، مسلم دنیا میں اس کے بلند اخلاقی مقام اور عالمی سطح پر تعمیری مذاکرات کی صلاحیت پر بھرپور اعتماد کا اظہار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دفتر سے براہ راست پاکستان کے منتخب وزیر اعظم شہباز شریف کو موصول ہونے والی یہ دعوت محض ایک رسمی کارروائی نہیں ہے بلکہ یہ اقوام متحدہ سے لے کر اسلامی تعاون تنظیم تک پاکستان کے اس بااثر کردار کا اعتراف ہے جو اس نے قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک مسلسل ادا کیا ہے جہاں پاکستان نے ہمیشہ دشمنی کے خاتمے، شہری جانوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک جامع سیاسی حل کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے اس اعلیٰ سطحی دعوت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ طاقت کے مراکز میں اب یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ مسلم دنیا کے مسائل اور تنازعات کے حل میں پاکستان کی آواز ایک منفرد وزن اور اعتبار رکھتی ہے جو کسی بھی تعطل کے شکار مذاکرات میں توازن اور عملیت پسندی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کو ملنے والی یہ عالمی شناخت کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ فلسطینیوں کے ساتھ کئی نسلوں پر محیط غیر متزلزل اخلاقی وابستگی اور ہر قسم کی حکومتوں کی جانب سے یکساں حمایت کا نتیجہ ہے جس کی جڑیں پاکستانی عوام کے جذبات میں پیوست ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور دیگر کثیر الجہتی پلیٹ فارمز پر جنیوا کنونشن کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی اور مالی و لاجسٹک سطح پر فلسطینیوں کی امداد جاری رکھی جس نے پاکستان کے امیج کو ایک ذمہ دار اور بااصول ریاست کے طور پر نکھارا ہے جو اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر مظلوموں کا ساتھ دینے کو اپنا مقدس فریضہ سمجھتی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی یہ سفارتی فتح ملکی قیادت اور تمام ریاستی اداروں، بشمول چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، کے ایک ہی موقف پر متحد ہونے کا نتیجہ ہے جس نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اس حساس معاملے پر ایک آواز ہو کر بات کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری اب اسے نظر انداز کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ پاکستان کی جانب سے فلسطینیوں کے دکھوں اور امنگوں کی مخلصانہ ترجمانی کو دنیا بھر میں وقار اور سچائی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ یہ سیاسی مصلحت کے بجائے تہذیبی یکجہتی اور اخلاقی ذمہ داری پر مبنی ہے جو ہر پاکستانی شہری کے لیے فخر کا باعث ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ امن بورڈ میں شمولیت پاکستان کے لیے اپنے اصولی موقف کو عملی سفارتی اثر و رسوخ میں بدلنے کا ایک بہترین موقع ہے جہاں وہ جنگ بندی، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی اور تعمیرِ نو جیسے معاملات میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکے گا اور ایک غیر عرب مسلم ریاست ہونے کے ناطے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان پل کا کام کر سکے گا۔ یہ پلیٹ فارم پاکستان کو موقع فراہم کرے گا کہ وہ تنازعہ کی بنیادی وجوہات جیسے کہ سرحدوں، بستیوں اور پناہ گزینوں کے مسائل پر عالمی برادری کو متوجہ کرے اور محض عارضی حل کے بجائے ایک مستقل اور پائیدار دو ریاستی حل کی طرف پیش رفت کرے۔
اس دعوت نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ میں اس وقت اضافہ کیا ہے جب عالمی سیاست نئے اتحادوں اور طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کی زد میں ہے اور ایسے میں کسی بڑی طاقت کا اعتماد حاصل کرنا پاکستان کو محض ایک علاقائی کھلاڑی کے بجائے عالمی اہمیت کی ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے جو پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے تزویراتی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس دعوت کو قبول کرنے کے بعد اب ایک جامع اور مربوط سفارتی حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ اس موقع کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور فلسطینیوں کے حقوق کو ہر مجوزہ امن اقدام کا مرکز بنایا جا سکے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غزہ کی تعمیر نو کے لیے مالی امداد متحرک کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی سیاسی حل بین الاقوامی قوانین اور فلسطینیوں کے مطالبات کے منافی نہ ہو۔ پاکستان کے کروڑوں عوام کے لیے یہ محض ایک سرخی نہیں بلکہ ان کی نسلوں کی جدوجہد اور جذباتی وابستگی کا اعتراف ہے جو ثابت کرتا ہے کہ اگر اصولوں پر استقامت سے قائم رہا جائے تو عالمی سطح پر احترام اور مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس اب یہ تاریخی موقع ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے دنیا میں اخلاقی قیادت کا مظاہرہ کرے اور فلسطینی عوام کے لیے ایک پروقار اور منصفانہ مستقبل کی راہ ہموار کرنے میں اپنا دائمی کردار ادا کرے۔



