
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے اپنی کور کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں آزاد کشمیر اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کے حلقہ جات میں مرحلہ وار ورکر کنونشنز منعقد کرنے کا جو فیصلہ کیا، وہ محض ایک تنظیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک بھرپور سیاسی، نظریاتی اور عوامی پیغام تھا۔ اس فیصلے کے تحت پہلے مرحلے میں ڈویژنل سطح، دوسرے مرحلے میں ضلعی سطح اور تیسرے مرحلے میں حلقہ جاتی سطح پر ورکر کنونشنز منعقد کرنے کا لائحہ عمل طے پایا۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقد ہونے والا عظیم الشان“کشمیر بنے گا پاکستان”ورکر کنونشن تھا، جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث، نئی روح اور نئی امید کو جنم دیا۔ڈڈیال، بھمبر، گوجرہ نوالہ اور راولپنڈی میں کامیاب ورکر کنونشنز کے بعد مظفرآباد کا انتخاب اس لیے بھی اہم تھا کہ یہ شہر نہ صرف آزاد کشمیر کا سیاسی و انتظامی مرکز ہے بلکہ تحریکِ آزادی کشمیر اور مسلم کانفرنس کی تاریخ کا بھی امین ہے۔ چیئرمین مسلم کانفرنس یوتھ ونگ سردار عثمان علی خان نے جنوری کے پہلے ہفتے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مسلم کانفرنس مظفرآباد ڈویژن کے سینئر عہدیداران، تنظیمی ذمہ داران اور سابق ٹکٹ ہولڈرز سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ان مشاورتوں کے بعد 19 جنوری کو مظفرآباد میں ورکر کنونشن منعقد کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔فیصلہ ہوتے ہی مسلم کانفرنس کے کارکنان اور عہدیداران میدان میں نکل آئے۔ دن رات کی محنت، انتھک جدوجہد اور خلوصِ نیت کے ساتھ اس کنونشن کو کامیاب بنانے کے لیے کام شروع ہوا۔ اس مہم میں نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک، مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ یہ منظر قابلِ دید تھا کہ مسلم کانفرنس کے وہ بزرگ، جو مجاہدِ اول سردار محمد عبدالقیوم خان کے دیرینہ ساتھی رہے، ایک بار پھر نظریے کی شمع روشن کرنے کے لیے متحرک نظر آئے۔ غلام محی الدین قریشی، سردار ارباب عباسی، سید غلام مصطفیٰ شاہ نقوی، غیاث الدین کھوکھر، ریاض احمد پلہاجی،گل نواز میر،محکم دین اور الطاف عباسی جیسے سینئر کارکنان کی محنت اور تجربے نے اس کنونشن کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ورکر کنونشن کے تمام انتظامات کی ذمہ داری چیئرمین یوتھ ونگ سردار عثمان علی خان کے سپرد تھی، جنہوں نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ نہایت منظم اور مؤثر انداز میں یہ ذمہ داری نبھائی۔ کنونشن کی کامیابی میں سردار عثمان علی خان اور ان کی ٹیم کا کردار نمایاں اور قابلِ تحسین رہا۔کنونشن سے قبل 17 جنوری کی شام پیر علاؤالدین گیلانیؒ کے مزار پر یوتھ ونگ کے زیر اہتمام ختم شریف کا اہتمام کیا گیا، جس میں صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے خصوصی شرکت کی۔ دعا کے بعد لنگر تقسیم کیا گیا، جو اس بات کی علامت تھا کہ یہ کنونشن محض سیاسی اجتماع نہیں بلکہ روحانی وابستگی اور نظریاتی عزم کا مظہر بھی ہے۔19 جنوری کو مظفرآباد کا منظر یکسر بدلا ہوا تھا۔ شہر کو دلہن کی طرح سجایا گیا، بینرز، پینا فلیکس، آزاد کشمیر اور پاکستان کے جھنڈے ہر طرف لہرا رہے تھے۔ رائس الاحرار چوہدری غلام عباس، چیف آف آرمی آسٹاف جنرل سید عاصم منیر، مجاہدِ اول سردار عبدالقیوم خان اور صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کی تصاویر نمایاں مقامات پر آویزاں تھیں۔“کشمیر بنے گا پاکستان”کے نعروں سے شہرِ اقتدار گونج رہا تھا۔ورکر کنونشن کا آغاز دن 11 بجے ہونا تھا، مگر صبح 9 بجے سے ہی کارکنان کے قافلے ریلیوں کی صورت میں پنڈال پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ چیئرمین یوتھ ونگ سردار عثمان علی خان تمام ریلیوں کا خود استقبال کرتے رہے۔ صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان ایم ایل اے ہاسٹل سے ایک بڑے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے کنونشن کے لیے روانہ ہوئے۔ عوام کی کثیر تعداد کے باعث وہ سفر، جو چند منٹوں کا تھا، تقریباً ایک گھنٹے میں طے ہوا۔ موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور پیدل چلنے والے کارکنان کا ایک سمندر تھا جو اس تاریخی اجتماع کا حصہ بن رہا تھا۔یہ کنونشن مظفرآباد میں منعقد ہونے والے دیگر سیاسی اجتماعات سے اس لحاظ سے مختلف اور نمایاں تھا کہ یہ مکمل طور پر منظم، خود انحصاری اور عوامی جذبے پر مبنی تھا۔ عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے ذریعے شرکت کی۔ اس کے برعکس، حکومت یا دیگر سیاسی جماعتیں بھاری وسائل اور سرکاری مشینری استعمال کرنے کے باوجود ایسے منظم اور مؤثر اجتماعات منعقد کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔پنڈال مکمل طور پر بھر چکا تھا، باہر بھی کرسیاں لگانی پڑیں۔ ہر طرف مسلم کانفرنس اور پاکستان کے ترانے گونج رہے تھے، اور“کشمیر بنے گا پاکستان”کے نعروں سے فضا گرم تھی۔ خواتین کی بڑی تعداد نے بھی اس کنونشن میں شرکت کر کے یہ پیغام دیا کہ مسلم کانفرنس کی جدوجہد صرف مردوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین بھی اس نظریاتی سفر کا اہم حصہ ہیں۔کنونشن کے دوران ایک اہم سیاسی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب نیلم ویلی سے مجاہدِ اول مرحوم کے دیرینہ ساتھی محمد افضل بٹ مرحوم کے فرزند، سینئر اینکر عابد عندلیب افضل بٹ نے مسلم کانفرنس میں شمولیت کا اعلان کیا۔ افضل بٹ مرحوم نیلم ویلی کا ایک بڑا اور معتبر نام تھے، اور ان کے صاحبزادے کی شمولیت سے بالخصوص اپر نیلم میں مسلم کانفرنس کو نئی تقویت ملے گی۔مسلم کانفرنس کی مرکزی سیکرٹری جنرل محترمہ مہرالنساء نے ان کے ہمراہ غلام حسین بٹ کے علاوہ دیگر مہاجر کیمپ امبور، مانک پیاں،چہلہ بانڈی سے ایک بڑے قافلے کی شکل میں جس میں خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی۔نیلم سے شمیم علی ملک سابق وزیر حکومت کی قیادت میں ایک بڑا قافلہ پنڈال پہنچا۔ اس کے علاوہ حلقہ لچھراٹ سے شیر لچھراٹ سید یاسر نقوی کی قیادت میں ایک بہت بڑے قافلے نے پنڈال میں شرکت کی جس میں سینکڑوں افراد شریک تھے۔ جہلم ویلی سے راجہ وقار سابق امیدوار اسمبلی کی قیادت نے کنونشن میں شرکت کی۔ حلقہ چار سے سید تصور عباس موسوی، گوہر الرحمان عباسی ایڈووکیٹ، جانداد عباسی، غلام نبی شاہنے الگ الگ جلوسوں کی قیادت کرتے ہوئے پنڈال پہنچے۔ حلقہ کوٹلہ سے سابق امیدوار اسمبلی سلیم اعوان، وکلاء بورڈ کے سیکرٹری میر رضوان الرحمان ایڈووکیٹ کی قیادت میں الگ الگ بڑے قافلے پنڈال میں شریک ہوئے۔ مسلم کانفرنس شعبہ خواتین کی چیئرپرسن محترمہ سمیعہ ساجد راجہ نے خواتین کی ایک بڑی تعداد میں کی ان کے ہمراہ کوثر اعوان ایڈووکیٹ، مکثوم کاظمی، مریم مبشر جانداد بھی ان کے ہمراہ تھیں۔حلقہ کھاوڑہ سے قذافی الطاف، جبار عباسی،راجہ گل مجید ایڈووکیٹ،راجہ مہتاب زرین و دیگر کی قیادت میں نوجوانوں اور بزرگوں کی بڑی تعداد نے بھرپور جوش وخروش کا مظاہرہ کر کے شرکاء کے دل جیت لیے۔گوجرہ سے مسلم کانفرنس مجلس عاملہ کے ممبر مبشر جہانداد، توقیر جہانداد کی قیادت میں قافلے کی ورکرز کنونشن میں پرجوش نعرے لگاتے ہوئے شرکت مظفرآباد سٹی جلال آباد سے کونسلر بلدیہ منیب اسحاق قریشی، منیر قریشی کی قیادت میں ایک بڑے قافلے نے شرکت کی۔ لوئر نیلم سے طلباء بورڈ کے چیئرمین سید ثقلین فدا کاظمی کی قیادت میں بڑی تعداد میں شریک افراد کے قافلے نے شرکت کی۔ اپر نیلم سے کمانڈر شفیق احمد سابق امیدوار اسمبلی نے جلوس کی شکل میں کنونشن میں شرکت کی۔ مظفرآباد سٹی سے مسلم کانفرنس ایم ایس ایف جامعہ کشمیر کے صدر ابراہیم میر، خواجہ عنان پلہاجی، سکندر حبیب میرایک بڑے قافلے کی صورت میں شریک ہوئے، جس میں ایم ایس ایف یوتھ ونگ کے رہنماؤں کی کثیر تعداد بھی ان کے ہمراہ تھی۔مظفرآباد سٹی سے سابق اُمیدوار اسمبلی سجاد انور عباسی، سٹی صدر شیخ مقصود احمد، و دیگر کی قیادت میں بڑے قافلے نے کشمیر بنے گا پاکستان ورکرز کنونشن میں شرکت کی۔مسلم کانفرنس طالبات ونگ کی چیئرپرسن میمونہ کیانی ایڈووکیٹ،آمنہ انور عباسی کی قیادت میں طالبات کی کثیر تعداد میں کشمیر بنے گا پاکستان ورکرز کنونشن میں شرکت۔ممبر ضلع کونسل نسرین اختر راجہ کی قیادت میں خواتین کی بڑی تعداد نے ورکرزکنونشن میں بھرپور شرکت کی۔مظفرآباد سٹی مسلم کانفرنس سیکرٹری جنرل سجاد قریشی کی قیادت میں ایک بڑے قافلے نے ورکر کنونشن میں شرکت کی۔آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے زیر اہتمام منعقدہ کشمیر بنے گا پاکستان ورکرز کنونشن کو کامیاب بنانے کیلئے چیئرمین یوتھ ونگ مسلم کانفرنس سردار عثمان عتیق اپنی ٹیم کے ہمراہ متحرک رہے، بزرگ رہنماؤں،نوجوانوں سے پرجوش انداز میں ملتے رہے اور انہیں خوش آمدید کہا۔طویل عرصہ بعد آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے زیر اہتمام دارالحکومت مظفرآباد میں منعقدہ کشمیر بنے گا پاکستان ورکرز کنونشن اپنی نوعیت کا بے مثال سیاسی مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔کنونشن میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض سید ثقلین فدا کاظمی، خواجہ عنان پلہاجی، سکندر حبیب میر نے سرانجام دیئے جنہوں نے کشمیر بنے گا پاکستان ورکرز کنونشن میں شرکت کرنے والے ہر رہنما اور کارکن کو پرجوش انداز میں خوش آمدید کہتے رہے۔
صدرمسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان جب خطاب کیلئے سٹیج پر خطاب کرنے کیلئے تشریف لائے تو بھرپور نعرے بازی کی گئی کشمیر بنے گا پاکستان،مسلح افواج پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجتے رہے،ورکر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر اور مسلم کانفرنس ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ مسلم کانفرنس آنے والی نسلوں کی وقار کی ضمانت ہے۔کورکمیٹی کے فیصلے کے نتیجے میں مسلم کانفرنس نے آئندہ انتخابات میں آزادکشمیر کے تمام انتخابی حلقوں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وقت حالات اور تجربات نے مسلم کانفرنس کی اہمیت اور افادیت میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان صرف نعرہ ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے محفوظ مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔کشمیر میں آج تک دی جانے والی تمام قربانیوں کا تعلق صرف اور صرف الحاق پاکستان سے ہے۔کشمیرمیں آج تک دی جانے والی 5لاکھ سے زائد انسانی قربانیوں کی بنیاد صرف اور صرف کشمیر بنے گا پاکستان ہے۔ہماری موجودہ آزادی کی بنیاد بھی یہی نظریہ الحاق پاکستان ہے۔کشمیر میں کسی دوسرے نظریے پر کوئی انسان تو کیا بلی کا بچہ بھی قربان نہیں ہوا۔صدرمسلم کانفرنس نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں عدم استحکام کے تانے بانے کئی سازشوں سے ملتے ہیں۔آزاد کشمیر میں عدم استحکام ہندوستان کی دیرینہ خواہش کا نتیجہ ہے۔ بعض مغربی طاقتیں چین کے دروازے پر افراتفری کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہیں۔خود مختار کشمیر کا تصور آزادی ہند کے اصولوں سے متصادم اور اہل کشمیر کو بند گلی میں دھکیلنے کا سبب بن سکتا ہے۔ کئی قابل فہم وجوہات کی بنیاد پر خود مختار کشمیر کا نعرہ قطعا ناقابل عمل ہے۔ اس خطے میں کسی بھی ایک ریاست کا خود مختار ہونا سارے خطے کو تقسیم کے عمل سے دوچار کر سکتا ہے۔صدرمسلم کانفرنس نے کہا کہ مسلم کانفرنس کو کمزور کرکے سیاسی کارکنوں اور جماعتوں کو بے توقیر کردیا گیا ہے۔۔تقریب میں میجر (ر)نصراللہ خان،راجہ تبارک علی،راجہ ساجد اقبال،ملک امان،نواز عباسی،مسعود عباسی،راجہ منیر خان،ڈاکٹر عابد عباسی،راجہ زرین خان،اجمل نکیالوی،رانا غلام حسین،عرفان عباسی،عامر نور عباسی،عاصم عباسی و دیگر نے شرکت کی۔مسلم کانفرنس کی کور کمیٹی نے تمام حلقہ جات میں امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کنونشن سے مسلم کانفرنس کے سابق صدر مرزا محمد شفیق جرال ایڈووکیٹ، سیکرٹری جنرل میڈم مہرالنساء، مقصود احمد شیخ، میڈم شمیم علی ملک، چیئرمین یوتھ ونگ سردار عثمان علی خان، سید یاسر نقوی ایڈووکیٹ، سید تصور عباس موسوی،سید غلام نبی شاہ،صوبیدار منظور عباسی، سجاد انور عباسی،راجہ وقار احمد خان، میڈم سمعیہ ساجد، میمونہ کیانی ایڈووکیٹ، سجاد قریشی،محمد سلیم اعوان، میر رضوان ایڈووکیٹ، راجہ احسان حیدر، راجہ قذافی الطاف، مہتاب رسمی ایڈووکیٹ، اشفاق احمد ڈار، منیر احمد قریشی، سردار مبشر جہانداد، سردار جہانداد عباسی، گوہر زمان عباسی، ثقلین فدا کاظمی، ذیشان عباسی، سردار شفیق الرحمان اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ اس موقع پر اپر نیلم سے معروف سیاسی خاندان کے چشم وچراغ مجاہد اول کے دیرینہ ساتھی محمد افضل بٹ کے فرزند عابد عندلیب بٹ نے مسلم کانفرنس میں شمولیت کا اعلان کیا۔مجموعی طور پر“کشمیر بنے گا پاکستان”ورکر کنونشن مظفرآباد نہ صرف ایک کامیاب سیاسی اجتماع تھا بلکہ یہ مسلم کانفرنس کی نظریاتی طاقت، تنظیمی صلاحیت اور عوامی مقبولیت کا واضح ثبوت بھی تھا۔ یہ کنونشن اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ مسلم کانفرنس آج بھی ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے دلوں میں زندہ ہے اور آنے والے سیاسی معرکوں میں ایک بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔مظفرآباد میں منعقد ہونے والے کامیاب کشمیر بنے گا پاکستان ورکرز کنونشن میں ڈویژن بھر سے بڑے بڑے جلوسوں کے ہمراہ قافلے جلسہ گاہ پہنچے۔آخر میں مظفرآباد میں منعقدہ“کشمیر بنے گا پاکستان”ورکرز کنونشن ڈویژن بھر سے آنے والے بڑے جلوسوں، عوامی جوش و خروش اور بھرپور تنظیمی نظم و ضبط کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔مظفرآباد کا یہ اجتماع اس بات واضح ثبوت بن گیا کہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس آج بھی ریاست کے عوام کے دلوں میں زندہ اور آنے والے سیاسی معرکے میں کامیابی کیلئے بھرپور طرح تیار ہے۔ کنونشن نے یہ واضح پیغام دیا کہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس آج بھی ریاست کے عوام کے دلوں میں زندہ ہے اور نظریہ الحاقِ پاکستان پر غیر متزلزل یقین رکھتی ہے۔ یہ اجتماع نہ صرف مسلم کانفرنس کی سیاسی قوت، عوامی مقبولیت اور تنظیمی صلاحیت کا مظہر تھا بلکہ آنے والے سیاسی معرکوں میں جماعت کے بھرپور کردار کی پیشگی جھلک بھی ثابت ہوا۔




