بھوشن بزاز اور ایک معدوم ہوتا ہوا ورثہ

کشمیری پنڈتوں کی تنظیم پنن کشمیر(اپنا کشمیر)ایک احتجاجی مظاہرے میں 1990میں کشمیری پنڈتوں کے وادی سے انخلاء اور ان کے مبینہ قتل عام کے خلاف ہولو کاسٹ ڈے منانے کا اعلان کیا۔مظاہرین نے مودی حکومت سے اس نسل کشی کے حوالے سے قانون سازی کا مطالبہ کیا۔پنن کشمیر وادی سے نقل مکانی کرجانے والے ان کشمیری پنڈتوں کی تنظیم ہے جو وادی میں اپنے لئے الگ ہندو ہوم لینڈ کا مطالبہ کرتے ہیں۔اسی مطالبے کی آڑ میں بھارتی حکومت نے کشمیر پنڈتوں کے لئے الگ بستیاں آباد کرنے کے منصوبے پر کام کا آغاز کیا تھا۔کشمیری پنڈتوں کے اس احتجاج کے حوالے سے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے بھی سوال پوچھا گیا جو اس 1990میں اس وقت وزیر اعلیٰ تھے جب پنڈتوں نے جنوری کی یخ بستہ راتوں میں کشمیر سے جموں کی جانب نقل مکانی شروع کر دی تھی۔ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے پنڈتوں کے مطالبات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری پنڈت اس سماج کا حصہ ہیں وہ جب چاہیں اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں اور پہلے ہی بہت سے پنڈت گھرانے وادی میں رہ رہے ہیں مگر یہ معاملہ اب یوں پیچیدہ ہو کر رہ گیا ہے بہت سے پنڈت گھرانے اب دہلی اور جموں میں اپنی دنیا بسا چکے ہیں وہ واپس کشمیر نہیں آنا چاہتے۔فاروق عبداللہ نے ایک حقیقت بیان کی ہے۔پنڈتوں کی اکثریت اب وادی میں واپس منتقل ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتی ان کی نئی نسل اب بھارت کے ماحول میں رچ بس چکی ہے۔اس کے باوجود بھارت پنڈتوں کے مسئلے کو پروپیگنڈے کے لئے زندہ رکھنا چاہتا ہے۔پنن کشمیر جب وادی میں اپنے لئے الگ ہوم لینڈ کا مطالبہ کر رہے تھے تو جموں میں بھی وادی کشمیر سے الگ ہونے کی آوازیں بھی بلند ہو رہی تھیں یا ایسی آوازوں کو ایک مقصد کے تحت بلند ہونے میں مدد دی جا رہی ہے۔یہ کشمیر تنازعے کی مائیکرو مینجمنٹ کی بھارتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔بھارت تنازعہ کشمیر کو سے جموں کے ہندووں اور لداخ کے بدھسٹ کو الگ کر نا چاہتاہے۔اس کے بعد وادی کے عوام کو پنڈت اور کشمیری مسلمان میں تقسیم کرنا چاہتا ہے اور وادی کے مسلمانوں کو پہاڑی مسلمان گوجر مسلمان اور وادی کے مسلمان کے خانوں میں بانٹ کر دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر حقیقت میں وادی کشمیر کے کشمیری سپیکنگ مسلمانوں اور ایک محدود پٹی میں رہائش پزیر لوگوں کامسئلہ ہے۔ایک طرف کشمیر کے مسئلے کی نوعیت اور تاریخی حیثیت کو خراب کرنے کی بھارتی کوششیں زوروں پر ہیں تو دوسری طرف ریاست جموں وکشمیر میں وحدت یگانت اور اتحاد کی علامتیں اور کڑیاں ایک ایک کر کے وقت کے بہتے دھاروں میں ٹوٹتی جا رہی ہیں۔جب کشمیری پنڈتوں کی نئی نسل وادی کے مسلمانوں سے الگ ہونے کے مطالبات دہرا رہے تھے تو دہلی میں ایک نامی گرامی کشمیر ی پنڈت بزاز خاندان کے چشم وچراغ اور جموں وکشمیر ڈیموکریٹک فرنٹ نامی تنظیم کے سربراہ پنڈت بھوشن بزاز اس دنیا سے کوچ کر رہے تھے۔بھوشن بزاز کا گھرانہ کشمیر میں اتحاد یک جہتی اور رواداری کا بے مثال نمونہ تھا۔یہ وہ گھرانہ تھا جس نے کشمیری مسلمانوں کے سیاسی رجحانات کی نہ صرف حمایت کی بلکہ خود اس دھارے کا حصہ رہا۔ بھوشن بزاز کے والدپنڈت پریم ناتھ بزاز کشمیرکی مزاحمتی تاریخ کا ایک بے مثال کردار ہیں۔پنڈت بھوشن بزاز کوقریب سے جاننے والے معروف کشمیری صحافی افتخار گیلانی نے بھارتی نیوز پورٹل ”دی وائر“ میں ان کی شخصیت اور کردار اور خاندان کی جدوجہد کے حوالے سے ایک طویل مضمون کالم لکھا ہے۔جس سے پریم ناتھ بزاز کے ساتھ ساتھ بھوشن بزاز کے جدوجہد اورخیالات کے بارے میں بھی بڑی حد آگاہی ہوتی ہے۔اکیانوے سالہ بھوشن بزازبھی اپنے والد پنڈت پریم ناتھ بزاز کی طرح بھائی چارے،کشمیریت کے علمبردار کے طورپر پہچانے جاتے تھے۔جنہوں نے اپنی پوری زندگی مفاہمت بھائی چارے اور مکالمے کے لئے وقف کر رکھی تھی۔دہلی میں ان کا گھر کشمیری لیڈروں بالخصوص میرواعظ عمر فاروق اور ان کے اہل خانہ کا مسکن ہوتا تھا۔ان کے گھر کی پہلی منزل میرواعظ خاندان کے لئے وقف ہوتی تھی۔بھوشن بزاز 2000میں حریت راہنما عبدالغنی لون کے صاحبزادے سجادلون اور لبریشن فرنٹ کے قائد امان اللہ خان کی صاحبزادی اسماء خان کی شادی میں شرکت کے لئے اسلام آباد آئے تھے۔یہ شادی منقسم ریاست کی وحدت اور مختلف اکائیوں کی شرکت کا ایک منفرد ثقافتی نمونہ اور منظرپیش کررہی تھی۔پریم ناتھ بزاز ہندو ہونے کے باوجود کشمیری مسلمانوں کی تنظیم مسلم کانفرنس سے قریب تھا ان کا اخبار روزنامہ ہمدرد بھی مسلم کانفرنس کی ہی ترجمانی کرتا تھا۔وہ شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی سیاست کے کڑے ناقد تھے۔اپنے ان نظریات کی وجہ سے انہیں نہ صرف قید وبند سے گزرنا پڑا بلکہ قاتلانہ حملہ بھی سہنا پڑا۔21اکتوبر 1947کو شیخ عبداللہ انتظامیہ نے انہیں تین سال کے لئے جیل میں ڈالے رکھا اور اس کے بعد انہیں جلاوطن کر دیا گیا اور وہ دہلی میں جلاوطنی کے دن گزارتے رہے۔1952میں پنڈت پریم تاتھ بزاز نے ایک اور کتاب ”سٹرگل فار فریڈم ان کشمیر“ کے عنوان سے لکھی۔جو تنازعہ کشمیر کے پس منظر اور منظر پر ایک سند کی حیثیت رکھتی ہے۔ان کی کئی دوسری کتابوں میں ان سائیڈ کشمیر کے نام سے لکھی گئی کتاب بھی شامل ہے۔پنڈت نہرو نے انہیں کشمیری اورپنڈت ہونے کی قدر مشترک کی بنا پر بھارت میں کئی عہدوں کی پیشکش کی مگر پریم ناتھ بزاز نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا وہ ایک آزاد ضمیر اور آزاد منش انسان اور کشمیر کی الگ شناخت پر ایمان کی حد تک یقین رکھنے والے انسان تھے۔بھوشن بزاز نے ہر ممکن حد تک اپنے والد کے اس ورثے کو آگے بڑھایا۔ایسے ماحول میں جب کشمیری پنڈتوں کی نئی نسلوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے تصورات کی چھاپ گہری ہوتی جارہی ہے بھوشن بزاز رواداری پر مبنی ایک گم گشتہ اور ڈوبتی ہوئے ورثے کی آخری علامتوں میں شامل تھے ایک ایسا ورثہ جو بدلتی ہوئی قدروں کے سمندر میں گھرے برفانی جزیرے کی طرح پگھلتا اور معدوم ہوتا جا رہا ہے۔




