کالمز

”جموں کے افسردہ واقعات“

تحریر:عدنان رشید ملک

جموں جو کہ مقبوضہ ریاست جموں کشمیر کا صدر مقام ہے وہاں پر آج کل افسردگی کے سائے ڈیرے ڈال رہے ہیں۔ اگرچہ اِس شہر میں ہندوؤں کی آبادی اکثریت میں ہے تاہم سکھ اور مسلمان بھی کافی تعداد میں اب بھی موجود ہیں۔ ریاست کی تقسیم سے قبل یہاں پر مسلمان 60%کے قریب تھے لیکن اَب وہاں پر اِس کا اُلٹ سامنے آ گیا ہے ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہو چکی ہے اور مودی سرکار کے اگست 2019ء کے اقدام آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کر کے جموں کشمیر اور لداخ کو Union Territory کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ ابھی اِس علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی چنگاری اُسی طرح بھڑک رہی تھی اور یہاں کے لوگوں کے جذبات ٹھنڈے ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے کہ بی جے پی سرکار نے ایک اور درفنطنی چھوڑ دی ہے کہ ’’جموں کو کشمیر کے حصہ سے الگ کر دیا جائے“۔ یہ شرارت بی جے پی سرکار کے MLA شام لال شرما نے کی ہے اُنہیں نے علاقے میں جاری بحث و تکرار کے دوران جلتی پر تیل ڈالتے ہوئے یہ مطالبہ داغ دیا ہے کہ جموں کی حیثیت کو علیحدہ کرتے ہوئے اِسے الگ صوبے کا درجہ دے دیا جائے اِس درفنطنی پر فوری ردِ عمل دیتے ہوئے فاروق عبداللہ سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ جموں کشمیر نے اِسے سختی سے مسترد کیا ہے اور اپنے ہی ایک بیان میں کہا ہے کہ جموں کشمیر کو دو الگ حیثیت میں کسی صورت تقسیم نہیں کیا جا سکتا یہ بات اُنہوں نے نروال فروٹ منڈی کے دورے کے دوران بتائی اُنہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کا رشتہ ایسا ہے جیسے سر اور جسم کا ہوتا ہے کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ سر کو جسم سے الگ کر دیا جائے۔ فاروق عبداللہ نروال فروٹ منڈی کے عہدیداروں سے اُن کے مسائل بارے گفتگو کر رہے تھے اور اُنہیں فوری حل کیلئے یقین دہانی بھی کروا رہے تھے کہ اِس موضوع پر بھی اُنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اِس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر کر سکتا کہ ریاست جموں کشمیر ایک وحدت ہے اِس کے تین صوبے جموں کشمیر اور لداخ ہیں اور یہی تینوں تقسیم ہند سے قبل بھی موجود تھے۔ ہندوستان نے قائم بی جے پی حکومت نے اپنی سیاسی ساکھ کو بحال رکھنے کیلئے اگست 2019ء کو جو قدم اُٹھایا تھا وہ بری طرح رد کر دیا گیا تھا۔ ہندوستان پوری دُنیا میں بے نقاب ہو چکا ہے ہندوستان حکومت کے اِس اقدام پر اعتراضات اور غم و غصے کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے یہ کوئی صرف علاقائی تقسیم کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ اِس میں آباد کروڑوں مسلمانوں کی زِندگی سے جڑا ہے۔ کشمیر کے مسئلہ کا حل ریاست کے مسلمانوں کی پہچان، سالمیت اور بقا سے منسلک ہے۔ اس کی وحدت کو کوئی تقسیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہندوستان چاہے جس قسم کے حربے استعمال کر لے کشمیری مسلمان اِس پر کبھی سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہونگے بلکہ اُن کے اندر یہ تڑپ روزبروز بڑھ رہی ہے کہ ریاست کی آئینی حیثیت کو فی الفور بحال کیا جائے اُسے اگست 2019ء سے قبل کی شکل میں واپس لایا جائے اور ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عمل میں لایا جائے۔
کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق جموں ہی میں ایک اور چونکا دینے والی خبر نے مایوسی کے سائے مزیدگہرے کر دیئے ہیں سرینگر سے رکن پارلیمنٹ مسٹر آغا سید روح اللہ نے بتایا ہے کہ راشٹریہ سوک سنگھ نے ”جموں میں قائم ماتا وشوو دیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس“ میں مسلمان طلبہ کے میرٹ پر داخلے کی پابندی لگا دی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہندو انتہاء پسند تنظیم کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم طلبہ و طالبات کے داخلوں کی نگرانی کریں۔ اور اپنی مرضی سے مسلمان بچوں کو اِس کے حق سے محروم کر دیں۔ آغا روح اللہ نے ریاست جموں کشمیر کے علاقے کنگن ضلع گاندربل میں بتایا کہ ہندوتوا گروپ جموں کو مخصوص طبقے کیلئے محدود کرنا چاہتا ہے۔ جموں کو Communalise کرنے کی حتی المقدور کوشش کی جا رہی ہے وہاں پر ہندو قوم پرستوں کو لاکر آباد کیا جا رہا ہے تاکہ مسلمان مزید اقلیت کا شکار ہو جائیں اُن کے بچوں کو بنیادی سہولیات سے محروم کیا جاتا ہے حتی کہ مسلمان طالب علموں کو تعلیمی اداروں میں میرٹ پر دیئے گئے داخلوں سے دُور رکھنے کی سازشیں آئے روز پروان چڑھائی جا رہی ہیں۔ ہندوتوا سوچ نے بی جے پی کی قیادت کو اِس حد تک نچلی سطح تک گرا دیا ہے کہ وہ اب تعلیمی اداروں کو بھی اپنا ٹارگٹ بنانے سے اجتناب نہیں کرتے۔ جموں میں آباد اکثریت لوگوں نے ایسے اقدامات کی شدید مخالفت کی ہے اور اُن کی طرف سے خاص طور پر بچوں کو تعلیم سے محروم کرنے پر سخت برہمی کا اظہار سامنے آیا ہے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق جموں میں قائم حکومت نے حال ہی میں پاور ٹیرف میں بھی اضافہ کر دیا ہے اِس پر عوامی حلقوں کی طرف سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے کہ یہاں کی غریب آبادی پر مزیدبوجھ ڈالنا کسی صورت بھی مناسب نہیں۔ عوامی قیادت نے حکومت وقت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ اِس اضافہ کو فی الفور واپس لیا جائے تاکہ معاشی لحاظ سے غریب طبقات پر بوجھ کر کم سے کم کیا جا سکے اُن کی مشکلات کم ہوں اور وہ سکھ کے ساتھ اپنی زِندگی گزار سکیں۔ شدید سردی کے موسم اور مہنگائی کے اِس دور میں بجلی کے بلات میں ہوشربا اضافہ لوگوں کیلئے قابل قبول نہیں۔ بلکہ ایک مقامی شخص نے تو یہاں تک بیان دیا ہے کہ اگر حکومت ہمارے بجلی کے بلات کو کم نہیں کر سکتی تو ہمارے گھروں کے کنکشن کاٹ دیئے جائیں ہم بجلی کے بغیر بھی گزار کر لیں گے۔
جموں جو کبھی مہاراجہ ہری سنگھ کا پسندیدہ شہر ہوا کرتا تھا وہ اپنے دور میں ڈوگرہ راج کے دوران اِس کی تعمیر و ترقی پر خصوصی توجہ دیا کرتے۔ جموں شہر کو وسیع کرنے کیلئے اُنہوں نے اُس زمانے میں بھی بے شمار ضروری اقدامات اُٹھائے تھے لیکن آج کی ہندوستان حکومت نے اِس کی آئینی حیثیت کو ختم کر کے Union Territory کا درجہ دینے کے باوجود جموں کے مسلمانوں کو بنیادی سہولیات اور آسائشوں سے محروم کر رکھا ہے۔ ایسے افسردہ ماحول میں یقینا صرف مسلمان آبادی ہی زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ اِن اقدامات پر جتنی تنقید اور مذمت کی جائے وہ کم ہے مگر ریاست کے مسلمان یہ اُمید بھی اپنے دِل میں جگائے رکھتے ہیں کہ ”لمبی ہے غم کی شام۔۔مگر شام ہی تو ہے“۔
٭٭٭٭٭

Related Articles

Back to top button