کالمز

یتیم پوتے کی میراث — ایک علمی و فکری جائزہ

چند دن قبل مجھے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سنہ 2021 کے اس قانون کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا جس کے تحت یتیم پوتے اور پوتیوں کو، ان کے والد کے حصے کے بقدر، دادا کی طرف سے ہبہ کے ذریعے میراث دینے کا پابند کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ اگر دادا اس ہبہ کے بغیر فوت ہو جائے تو قانوناً یہ تصور کیا جائے گا کہ وہ ہبہ کر چکا تھا۔
بلاشبہ یہ ایک اچھا اور احسن قدم ہے کہ یتیم بچے، چچاؤں، پھوپھیوں اور کزنز کی ممکنہ سازشوں اور چیرہ دستیوں سے محفوظ ہو کر، اپنے والد کے قائم مقام کی حیثیت سے وراثت کے قانونی حق دار بن سکیں۔ تاہم، میرے لیے باعثِ حیرت یہ امر رہا کہ پاکستان میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت اس مسئلے کو جس سادگی، وضاحت اور سہولت کے ساتھ حل کیا گیا، وہی راستہ آزاد کشمیر میں کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟ اس قانون کی دفعہ 4 کا خلاصہ یہ ہے کہ: “اگر کسی شخص کا بیٹا یا بیٹی اس کی زندگی میں فوت ہو جائے، تو اس فوت شدہ بیٹے یا بیٹی کی اولاد (یعنی یتیم پوتے یا نواسے) اپنے والد یا والدہ کی جگہ وارث سمجھے جائیں گے، اور انہیں وہی حصہ ملے گا جو ان کے والد یا والدہ کو ملتا اگر وہ زندہ ہوتے”
اسمبلی کے بنائے ہوء قانون کا خلاصہ یہ ہے،
“اگر کسی شخص کا بیٹا اس کی زندگی میں فوت ہو جائے تو وہ پابند ہوگا کہ فوت شدہ بیٹے کی اولاد اور بیوہ کو اپنی جائیداد میں سے وہ حصہ بطور ہبہ دے جو بیٹے کو زندہ ہونے کی صورت میں ملتا۔ اگر نوّے دن میں ہبہ نہ ہو سکے یا اس مدت میں اس کا انتقال ہو جائے تو قانوناً یہ ہبہ تصور کیا جائے گا۔“
نیک نیتی کے باوجود، اس کے مقصد کے فوت ہو جانے کا خدشہ بہرحال موجود ہے۔ اس اندیشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یتیموں کے چچگان، پھوپھیاں یا دیگر قریبی رشتہ دار، وراثت کھلنے سے پہلے ہی جائیداد کسی نہ کسی طریقے سے اپنے نام منتقل کرا لیں۔ ایسی صورت میں تقسیم کے لیے بچے گا ہی کیا؟ اور یتیموں کو اس مشقت سے آخر کیا فائدہ پہنچے گا؟ اہم سوال یہ ہے کہ دادا کی وراثت تو اس کی فو تیدگی پر کھلے گی وہ پوتوں کو کیا، کس قدر منتقل اور کونسی جائیداد منتقل کرے گا؟ اس کے برعکس پاکستان بھر میں 1961 کے قانون کے تحت یتیم پوتے اپنے والد کی وفات کے ساتھ ہی اس کے قائم مقام تصور ہوتے ہیں اور دادا کے انتقال پر دیگر ورثاء کے ساتھ بلا کسی اضافی قانونی پیچیدگی کے اپنا حق پا لیتے ہیں —نہ دادا پر ہبہ کا دباؤ، نہ بعد میں ہبہ کو ثابت یا مفروضہ بنانے کی ضرورت۔ پاکستان میں اسلام ایک ہی قرآن پر مبنی ہے، اور اس کی تعبیر میں یکسانیت، قومی سالمیت اور قانونی ہم آہنگی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ہبہ کا ایک مسلمہ اصول یہ ہے کہ یہ واہب کی آزادانہ مرضی سے، بغیر کسی جبر یا دباؤ کے ہونا چاہیے۔ قانون کے جبر کے تحت ہبہ کرنا، یا ہبہ کیے بغیر اس کا مفروضہ قائم کر دینا، آخر ہبہ کیسے کہلا سکتا ہے—خواہ نیت کتنی ہی نیک کیوں نہ ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نظامِ وراثت میں یہ ایک بڑا خلا ہے، جو قرآن و سنت کی کسی قطعی نص پر نہیں بلکہ فقہی آراء کی بنیاد پر تواتر سے جاری ایک ناانصافی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یتیم پوتوں کا متوفی دادا کے ورثاء میں صراحت سے ذکر نہ ہونا، اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ اس کی نسل یا اولاد کی زنجیر سے خارج ہو گئے ہیں۔ محرومی کا قیاس قائم کرنے کے بجائے، ان کے اپنے والد کا قائم مقام ہونے کا قیاس کرنا، اللہ کی منشا سے زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے کہ بیٹے کے یتیم بچے بیٹے کے مماثل ہیں – خصوصاً اس لیے کہ یہ قرآن و حدیث کے کسی حکم سے متصادم نہیں۔
قرآنِ مجید میں:
• نہ“پوتے”کو بطور محروم وارث ذکر کیا گیا ہے،
• نہ“یتیم پوتے”کے لیے کوئی صریح نفی یا ممانعت وارد ہوئی ہے،
• اور نہ ہی کوئی ایسی آیت موجود ہے جو باپ کی وفات کے بعد اس کی اولاد کو دادا کی وراثت سے محروم رکھنے کا حکم دیتی ہو جو اس کی اولاد اور زریت کا ہی حصہ ہیں –
یوں یتیم پوتے کی محرومی کسی قرآنی نص کا نتیجہ نہیں بلکہ فقہی استنباط کا حاصل ہے۔ فقہی استنباط، ہر دور اور ہر معاشرتی حالت میں قرآن و حدیث کی تعبیر و توضیح کے لیے کیے جاتے ہیں؛ وہ خود قرآن و حدیث کا حصہ نہیں ہوتے۔
تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ فقہی آراء میں وقت کے ساتھ تبدیلی آتی رہی ہے۔ عثمانی دور میں قرآنِ مجید کی طباعت پر پابندی فقہی استنباط کی بنیاد پر عائد کی گئی، مگر بعد ازاں خود مسلمانوں نے حالات کے تقاضوں کے پیشِ نظر اسے ختم کر دیا۔ اسی طرح برصغیر میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان کو ایک زمانے میں فقہی بنیاد پر ناجائز قرار دیا گیا، مگر وقت بدلنے پر علما ہی کے کہنے سے یہ پابندی اٹھا لی گئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ فقہ، قرآن و حدیث کی تفہیم ہے—ان کا ہم مرتبہ درجہ نہیں رکھتی۔
فقہ میں تبدیلی کا مطلب نہ دین میں نرمی ہے، نہ بگاڑ؛ بلکہ عدل، سہولت اور مصلحت کے تقاضوں کے مطابق شریعت کے اصولوں کا زندہ اور بامقصد اطلاق ہے۔ اسلام نہ جامد ہے، نہ بے قاعدہ۔
فقہاء کا یہ اصول کہ“قریب، دور کو روکتا ہے”ایک علمی اختراع تھی رشتے کا انقطاح نہیں جس کا مقصد نظام کو منظم کرنا تھا، نہ کہ کسی یتیم پر ظلم روا رکھنا۔ یہی وہ نازک مقام ہے جہاں تجدیدِ فکر ناگزیر ہو جاتی ہے، اور روایت کو حتمی و ابدی جمود میں بدل دینا خود انصاف کے منافی بن جاتا ہے۔
قرآن کا اسلوب یہ نہیں کہ وہ خاموشی سے کسی حق کو ختم کر دے۔ جہاں کسی حق کی نفی یا حرمت مقصود ہو، وہاں قرآن صاف اور واضح بات کرتا ہے۔ خاموشی شریعت میں اکثر وسعت اور گنجائش کی علامت ہوتی ہے، نہ کہ ممانعت کی۔
اسی لیے قرآن بار بار یتیم کے بارے میں حساسیت پیدا کرتا ہے:
یتیم کو دھتکارنے سے روکتا ہے، اس کا مال کھانے کو جرم قرار دیتا ہے، اور کمزور کے تحفظ کو ایمان کا تقاضا بناتا ہے۔ یہ تصور کہ قرآن کسی یتیم کو محض قانونی باریکیوں کی بنیاد پر مالی تحفظ سے محروم رکھے، قرآن کی روح سے ہم آہنگ نہیں۔
سورۃ النساء کی آیت 8 میں قرآن خود وراثت کی تقسیم کے وقت ایک غیر معمولی اصول دیتا ہے:
“اور جب تقسیم کے وقت قرابت دار، یتیم اور مسکین موجود ہوں تو انہیں بھی اس میں سے کچھ دیا کرو۔”
یہ آیت اگرچہ حصے مقرر نہیں کرتی، مگر یہ واضح کر دیتی ہے کہ وراثت محض حساب کا معاملہ نہیں، سماجی احساس اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
یہ سوال دین دشمنی نہیں، بلکہ دین فہمی کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ فقہائے امت کا اصول ہے کہ زمان و مکان کے بدلنے سے احکام میں تبدیلی آتی ہے—یہ تبدیلی عقائد اور عبادات میں نہیں، بلکہ معاملات، نظمِ ریاست، معیشت اور سماجی امور میں ہوتی ہے۔ حضرت عمرؓ کا قحط کے زمانے میں حدِ سرقہ کو مؤخر کرنا اس کی روشن مثال ہے: حکم منسوخ نہیں ہوا، بلکہ مقصدِ شریعت کو مقدم رکھا گیا۔
دنیا کے دیگر قانونی و سماجی نظاموں میں بھی ابتدا میں یہ اصول رائج تھا کہ قریب تر وارث، دور کے وارث کو خارج کر دیتا ہے، مگر رفتہ رفتہ قانون سازی کے ذریعے کہیں وارث کو قائم مقام اور کہیں نمائندہ قرار دے کر اس محرومی کا ازالہ کیا گیا۔ ہندو، عیسائی اور کنفیوشس قوانین میں یتیم اپنے والد کا قائم مقام تسلیم کیا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ دنیا بھر میں ہمارے ہم مذہب شیعہ (جعفری) فقہ میں یتیم پوتے یا پوتیاں وراثت سے محروم نہیں ہوتے۔ اگر بیٹا یا بیٹی پہلے فوت ہو جائیں تو ان کی اولاد، دادا یا دادی کی موجودگی میں ہی اپنے والدین کی جگہ وارث بنتی ہے۔ یہ اصول عدل، خاندانی تسلسل اور یتیم کے تحفظ پر مبنی ہے، اور عقل و منطق کے عین مطابق ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے آج ہماری نوجوان نسل شدت سے محسوس کرتی ہے۔ نوجوان سوال کرتا ہے:
• اگر قرآن انصاف سکھاتا ہے تو یتیم کیوں محروم ہو؟
• اگر اسلام کمزور کے ساتھ کھڑا ہے تو سب سے کمزور وارث کیوں نظر انداز ہو؟
تفکر، تدبر اور تعقل کرنے سے سوال پیدا ہوتے ہیں اور یہ دین فطرت کا تقاضا ہے –
اسی فکری پس منظر میں پاکستان میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے ذریعے یتیم پوتے کو قانونی حق دیا گیا۔ یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ یہ اللہ کا منصوص حکم ہے، بلکہ یہ تسلیم کیا گیا کہ جہاں قرآن خاموش ہو، وہاں ریاست کو اختیار ہے کہ وہ انصاف کو ترجیح دے۔ پاکستان میں اس مسئلے کو 1961 میں سادہ، واضح اور مقدمہ بازی سے پاک انداز میں حل کر دیا گیا، تاکہ یتیم بچے چچگان اور پھوپھیوں کی لالچ اور فتنہ انگیزی کی بھینٹ نہ چڑھیں۔ اس کے برعکس، آزاد کشمیر کے قانون میں اگرچہ نیت قابلِ ستائش ہے، مگر حریص عناصر کی سازش اور قانونی دخل اندازی کی گنجائش باقی رہتی ہے، جو اس قانون کو عملاً بے اثر بنا سکتی ہے۔
یہ کالم علما، فقہا، وکلا، اہلِ دانش اور بالخصوص نوجوانوں کے لیے ایک دعوتِ فکر ہے:
ایک دوسرے سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ایک دوسرے کو سنیں؛
فقہ کو وحی نہ سمجھیں؛ استنباط کو ابدی جمود میں نہ بدلیں؛
روایت اور جدت کو ایک دوسرے کی ضد نہ بنائیں
اور قرآن کی اخلاقی روح کو محض قانونی فریم میں قید نہ کریں۔قرآن کا پیغام یہ نہیں کہ جو لکھا نہیں، وہ ممنوع ہے؛ بلکہ یہ ہے کہ جو واضح طور پر منع نہیں، وہاں خیر اور عدل کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔ یتیم کے لیے دروازہ بند کرنا نہ قرآن کی منشا اور نہ انصاف کا تقاضا ہے –
خلاصہ۔؛ یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ نہ دین سے انحراف ہے، نہ روایت شکنی، بلکہ قرآن کی اخلاقی روح کو زمانے کی قانونی زبان میں سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ جہاں قرآن خاموش ہے، وہاں محرومی کو اصول بنا لینا انصاف نہیں، اور جہاں یتیم ہو وہاں عدل کا تقاضا اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ فقہ انسانی فہم ہے، وحی نہیں؛ اس میں اجتہاد کی گنجائش ہی شریعت کی زندگی کی علامت ہے۔ پاکستان میں 1961 کا قانون اسی زندہ اجتہاد کی مثال ہے، جبکہ آزاد کشمیر کا قانون نیت میں درست مگر طریقِ کار میں مزید تحفظ کا متقاضی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ روایت کیا کہتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم قرآن کے اُس پیغام پر قائم ہیں جو کمزور کو سہارا اور یتیم کو تحفظ دینے کا نام ہے-

Related Articles

Back to top button