کالمزمظفرآباد

حلقہ کوٹلہ کے مسائل توجہ کے متقاضی

چوہدری غلام عباس پوڑ

سیانے کہہ گئے نے جی, کہ!
گل ویلے دی تے پھل موسم دا
درخت اور نسلیں پروان چڑھانے میں وقت لگتا ہے
انفراسٹرکچر کی تعمیر میں چند ماہ لگتے ہیں! ہمیں چاہیے کہ ہم!
نسل فروش نہیں، نسل سدھار بنیں۔
باعث ذلت نہیں،باعث وقار بنیں۔
باعث شرمندگی نہیں،باعث افتخار بنیں۔
باعث نفرت نہیں، باعث پیار بنیں۔
غدار نہیں، وفا دار بنیں۔
ہجوم نہیں، قوم بنیں۔
خوشامدی نہیں، خود دار بنیں۔
بھیکاری نہیں، حقدار بنیں۔
درباری نہیں، دور اندیش بنیں۔
لالچ مٹائیں، نسلیں بنائیں۔
جہالت مٹائیں، علم پھیلائیں۔
ایل۔ اے۔ 27 مظفراباد (1)حلقہ کوٹلہ میں حالیہ تعلیمی پیکج ابھی تک منظور نہیں ہوا جس کیوجہ سے حلقہ کوٹلہ کے لوگوں میں اضطرابی کیفیت پائی جاتی ہے۔اس سے پہلے ہیلتھ پیکج میں بھی ایل اے 27 مظفرآباد (1)حلقہ کوٹلہ کو محروم رکھا گیا۔ کیونکہ ہیلتھ پیکج ایک مخصوص طبقہ کے علاؤہ دیگر علاقوں میں گنجائش ہی نہیں تھی۔ ضرورت مند عوام کے مطالبے پر یہ جواب ملا کہ جن حلقوں کو ہیلتھ پیکج میں شامل نہیں کیا گیا ان حلقوں کو تعلیمی پیکج میں دو گنا حصہ دیا جائے گا۔ عوام حلقہ نے یہ سوچ کر صبر کر لیا کہ!
(ان پڑھ زندگی سے پڑھے لکھے کی موت بہتر ہے)۔
حلقہ کوٹلہ کے عوام کا بھرپور مطالبہ ہے کہ جن علاقوں کو ماضی میں تعلیمی سہولیات سے مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے ان علاقوں کو ترجیع بنیادوں پر جغرافیائی صورتحال، آبادی کے تناسب، ان پڑھ بچوں اور بچیوں کی کثیر تعداد کے لحاظ سے تعلیمی پیکج کے ذریعے اداروں کی اپگریڈیشن کی جائے، اور نئے اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے، تاکہ لوگوں کی مسلسل محرومیوں کا ازالہ ہو سکے۔تاکہ محروم و مایوس طبقات کا حکومت وحکومتی نمائندوں پر اعتماد بحال ہو سکے۔ ریاستی عوام کو تعلیم جیسی بنیادی سہولتیں میسر آ سکیں۔ صحت و تعلیمی سہولتیں مہیا کرنا ریاست کی پہلی ذمہ داری ہوتی ہے۔ موجودہ ایم۔ ایل۔ اے حلقہ سردار محمد جاوید ایوب خان وزیر حکومت جو صاحب احساس، درد دل رکھنے والے انسان اور ایک غیر جانبدار دار، منصف مزاج لیڈر کے طور پہ جانے جاتے ہیں ان کی غیر جانبدارانہ حیثیت کو مسلمہ بنانے کے لیے یہ تعلیمی پیکج امتحان ہو گا۔ اس تعلیمی پیکج کے ذریعے عوام دوستی، میرٹ پرسی، مسلسل محروم طبقات کی محرومیوں کا ازالہ واضح ہو گا۔ یا پھر حسبِ سابق چند حواریوں کی بھینٹ چڑھایا جائے گا۔ اگر بنیادی ضرورت اور میرٹ کی بنیاد پر منصفانہ تقسیم ہوئی تو یہ عمل سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ اور ہیلتھ پیکج کی کمی کا ازالہ سمجھا جائے گا۔
حالیہ تعلیمی پیکج کے ذریعے جن علاقوں کو جس سطح کے تعلیمی اداروں کی سب سے زیادہ اور فوری ضرورت ہے ان میں:
1۔(ہیر کوٹلی میں بوائز ہائی سکول اور گرلز مڈل سکول۔)
2۔(نڑہوتر مسلم آباد میں گرلز ہائی سکول۔)
3۔(سریاں میں بوائز ہائی سکول اور گرلز مڈل سکول۔)
4۔(دھتورا میں بوائز ہائی سکول اور گرلز مڈل سکول۔)
5۔(بانڈی کھٹانہ میں بوائز و گرلز مڈل سکولز۔) 6۔(پہالیاں میں گرلز ہائر سیکنڈری سکول۔) 7. (بٹناڑہ میں گرلز مڈل سکول۔)
8۔(گراں کوٹلی ہڑیالہ میں بوائز و گرلز مڈل سکولز۔)
9۔(نلہ کلس میں گرلز مڈل سکول)۔
10۔(صادقہ میں گرلز و بوائز مڈل سکولز۔)
11۔(چھکڑیاں میں گرلز مڈل سکول۔)
12۔(سیرنیاں بٹدرہ میں بوائز ہائی سکول۔)
13۔(کولی میں گرلز مڈل سکول۔)
14۔(مچیارہ میں گرلز ہائی سکول۔)
15۔(کیلگراں میں گرلز ہائی سکول۔)
16۔(گرٹناڑ میں بوائز مڈل سکول۔)
راقم نے جن دیہات /علاقوں کی نشاندھی کرتے ہوئے اداروں کے قیام کی استدعا کی ہے۔ ان کی ضرورت کا جائزہ لینے کیلئے یونیسیف کے زریعے سروے کروایا جائے تو اندازہ ہو جائے گا کہ تعلیمی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں کتنی کثیر تعداد میں بچے، بچیاں ان پڑھ رہ گئے ہیں۔جو اسلامی تعلیمات اور بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔حالیہ زیر بحث تعلیمی پیکج میں متذکرہ ادارے منظور کروا کر حلقہ کوٹلہ کے محروم و مجبور طبقات کیلئے عدل، انصاف، تعلیمی مساوات قائم کرتے ہوئے محرومیوں کا ازالہ فرمایا جائے تاکہ یہاں کے بچے بچیاں بھی زیور تعلیم سے آراستہ ہو سکیں۔ اور حلقہ کوٹلہ سے دیرینہ طبقاتی تقسیم کا کسی حد تک ازالہ ہو سکے۔ ان اداروں کی اپگریڈیشن اور قیام پرحکومت وقت اور متعلقہ حکام کا یہ کارنامہ ان کے لیے باعث اعزاز اور باعث بخشش ہوگا۔ امید ہے کہ وزیر موصوف مندرجہ بالا ادارے حالیہ تعلیمی پیکج میں شامل کروا کر اپنا حق نمائندگی مستحکم،اور مسلسل بنا ئیں گے۔ یہی تعلیمی ادارے آپ کی متواتر کامیابی کا باعث ہوں گے۔ بصورت دیگر محروم مجبور طبقات اپنی محرومیوں کے خاتمے،اور حقوق کی بازیابی کے لیے آپنا نمایندہ منتخب کرکے اسمبلی میں بھیجنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ پھر نہ کہنا کہ ہمیں خبر نہ ہوئی۔

Related Articles

Back to top button