کالمز

عُرس مبارک قلندرِ کشمیر حضرت سیدسخی سائیں سہیلی سرکارؒ مظفرآباد

کشمیر اولیاء کرام کی سر زمین ہے۔ یہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر اولیاء کرام کی زیارات، خانقائیں اور مسند نشینی کے مقامات آج بھی زندہ و تابندہ موجود ہیں جن کی کرامات زباں زد عام ہیں۔صرف خطہ مظفرآباد جسے باب کشمیر کہا جاتا ہے اس سے لے کر سرینگر تک ہزاروں اولیاء کرام کی زیارات ومزارات موجود ہیں۔صرف سرینگر و گردو نواح میں سوا لاکھ اولیاء کرام کا مدفن بتایا جاتا ہے۔آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد کے دریائے نیلم وجہلم کے سنگم دومیل میں قلندر کشمیر حضرت سید سائیں سخی سہیلی سرکار کی زیارت مرجع خلائق اور روحانی فیوض و برکات اور کرامات کے آفاقی درجے پر فائز موجود ہے۔ جہاں پر سینکڑوں بندگان خداداد حاضری دیتے ہیں۔جس طرح برصغیر پاک و ہند کے اولیاء کرام خصوصاً سندھ میں سید لال شہباز قلندر، کراچی میں سید عبداللہ شاہ غازیؒ،لاہور میں حضرت داتا گنج بخش المعروف سید علی ہجویری،سوات میں سید پیر بابا شاہؒ،اسلام آباد میں حضرت سید بری امام،گولڑہ شریف میں پیر مہر علی شاہ گیلانی اور میرپور کھڑی شریف میں پیرے شاہ غازی المعروف دمڑی والی سرکار کو حاصل ہے۔ اسی طرح مظفرآباد آزاد کشمیر میں سید سائیں سہیلی سرکار کو حاصل ہے۔
سید سائیں سہیلی سرکار کاتعلق سادات گھرانے سے ہے۔آپ کا نام سید ذوالفقار شاہ بتایا جاتا ہے۔ آپ جس سے مخاطب ہوتے تو اڑیا کہتے تھے اور اکثر سہیلی بھی کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ تحقیق کے مطابق آپ کا اصل نام سید شیر شاہ ولد حسن شاہ ہے۔ آپ ایک بڑے عالم دین بھی تھے۔ جب آپ پر فقر و درویشی کا غلبہ ہواتواس وقت پنجاب کے مشہور بزرگ خواجہ شمس الدین سیالوی کے سامنے زانوئے تلمذ رکھا۔کہا جاتا ہے کہ روحانی منازل طے کرنے کے بعد جب آپ کو خلعت فقیری و درویشی کی عباء پہنائی گئی تو اپنے مرشد کے حکم سے بندگان خدا کو فیوض و برکات اور اپنی دعاؤں کے ذریعے بیابانی اور سفر و حضر کا راستہ اختیار کیا۔تمام آسائش کو ترک کر کے ایک گودڑی اور تہمند پہن کر جذب کی کیفیت میں چلے گئے۔لیکن ان کی فقیری و درویشی کی یہ شان تھی کہ جس وقت بھی کسی حاجت مند نے دعا کی استدعا کی اُسی وقت صاف صاف دعائیہ فرمان جاری فرمادیا۔آپ کچھ عرصہ کراچی میں سید عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار پر رہے، سندھ میں حضرت سیدلعل شاہ قلندرؒ کی زیارت پر حاضر ہو کر معتکف رہے۔بعد ازاں علاقہ ہزارہ میں خصوصاً ہری پور و حویلیاں کے مقام پر قیام کیاجہاں آپ کی بیٹھک ہے۔ گڑھی حبیب اللہ کے ارد گرد علاقوں میں بھی دورہ کرتے رہے۔ گڑھی حبیب اللہ سے مظفرآبا کی جانب کوئی سڑک نہ تھی آپ چلتے ہوئے زمین پر نشان لگاتے تھے کہ یہاں سڑک بنے گی بعد میں لوہار گلی سے مظفرآباد تک سڑک بنی اور لوہار گلی کے مقام پر اب بھی آپ کی بیٹھک موجود ہے۔ آپ کے الفاط سے معلوم ہوتا تھا کہ آپ کی زبان ہندکو،پوٹھواری تھی۔خصوصاً ہزارہ وایبٹ آباد میں انگریز ڈپٹی کمشنر ایبٹ جس کے نام پر ایبٹ آباد مشہور ہے،آپ کی خدمت میں پیش ہوا تھا۔
آپ سرینگر تک گئے ہیں۔ مظفرآباد سے گڑھی دوپٹہ،کٹھائی اور کشمیر کے علاوہ سڑک کے راستے چکوٹھی سے مظفرآباد آتے رہے۔ ایک بار چکوٹھی سے مظفرآباد کی جانب آ رہے تھے کہ ایک سکھ آپ کے پیچھے چلتے ہوئے آیا آپ نے فرمایا سکھا توں میرے پیچھے کیوں چل رہا ہے۔ اُس نے کہا کہ میں غریب ہوں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ نیچے پڑا ہوا کیا ہے؟ سکھ نے کہا سرکار یہ ککھ ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا جاؤ یہ لکھ ہو گا۔بعد میں وہ سکھ امیر ہو گیا اور اس کی گاڑیاں بھی چلتی تھی۔کہا جاتا ہے کہ کشمیر کا مہاراجہ پرتاب سنگھ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا جس نے چکوٹھی کے جنگل سے آپ کے مچ کے لیے لکڑیوں کا اہتمام کیا تھا۔حضرت سائیں سہیلی سرکارؒ اپنے وقت کے قلندر تھے جو بات زبان سے نکلی اُسی وقت پوری ہوگئی۔آپ پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتے تھے۔اکثردودھ پیتے تھے۔ جس نے دودھ پیش کیا اس کی نسل میں دودھ کی کمی نہیں رہی۔مظفرآباد میں جب آ گئے تو وہاں آپ کی بیٹھک موجود ہے۔ ایک بار ایک ہاشمی خاندان کے گھر گئے تو دودھ مانگا تو اس نے کہا کہ دودھ نہیں رہا اب اُسی دن یا دوسرے دن ایک گائے فروخت کرنے والا گھر آ گیا اور دودھ ہو گیا۔آپ اکثر داڑھی منڈواتے تھے جس کی وجہ سے وقت کے علماء کرام کو بھی شرعی اختلاف تھا جو سنت ِ نبی ؐکے مطابق درست بھی تھا۔وصال سے کچھ دن پہلے آپ گڑھی حبیب اللہ کے علاقے میں اس وقت کے ایک معروف خضری ولی اللہ اور صاحب کشف بزرگ میاں محمد اسحاق باجی ؒکے گھر تشریف لے گئے۔ جنہیں روحانی بزرگی وکشف کی بناء پر پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا کہ سائیں سہیلی سرکار ان کے گھر آر ہے ہیں۔ انھوں نے اپنے خادم کو تمباکو لانے کے لیے ایک دوکان پر بھیجا۔ سہیلی سرکار جب گھرپہنچ گئے تو انھوں نے تمباکو چلم میں ڈال کر سہیلی سرکار کو پیش کیا تو سائیں سہیلی سرکا رنے تمباکو پینے کے بعد فرمایا کہ مولوی گھبراؤ نہیں ہماراوقت قریب ہے۔ مظفرآباد کے علماء نے ہمارے جنازے پر فتوی دینا ہے۔ اس لیے میرا جنازہ تم نے پڑھانا ہے۔سائیں سہیلی سرکار نے اپنی وفات سے ایک دن پہلے داڑھی منڈوائی تھی۔دوسرے دن بھی بیمار رہے اور تیسرے دن دوپہر کے وقت اپنے مریدوں سے فرمایا کہ میرا وقت قریب ہے میں نماز کا سجدہ کرتا ہوں۔ انتقال کی صورت میں میرے منہ پر میری گودڑی کا پردہ ڈال دیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ سائیں سہیلی سرکار کی روح پرواز ہو گئی۔راقم نے خود ایک بزرگ سے سنا ہے۔ دوسرے دن شہر کے علماء او ر عوام اکٹھے ہوئے داڑھی نہ ہونے کی بناپر شرعی فتوے کا جواز تیار کر رہے تھے کہ اُسی وقت دبگلی مظفرآباد کے راستے گھوڑے پر سوار میاں محمد اسحاق باجیؒ نام کے بزرگ نمودار ہوئے۔ انھوں نے آ کرفرمایا کہ نماز جنازہ کے لیے صفیں سیدھی کریں۔ نماز جنازہ پڑھانے کے بعد انھوں نے فرمایا کہ سرکار اپنے آپ کو دکھائیں جب پردہ اٹھایا گیا تو سائیں سہیلی سرکار کے منہ پر داڑھی موجود تھی۔بعد میں عمائدین شہر اور دیگر اردگردکے لوگوں کی موجودگی میں سہیلی سرکار کو سپرد خاک کیا گیا۔ حضرت سائیں سہیلی سرکار کی وفات1900 عیسوی میں ہوئی تھی۔آپ کی وفات کے بعد کرامات کا سلسلہ جاری رہا۔1947-48 میں کشمیر میں لڑی جانے والی پاک بھارت جنگ کے دوران انڈین جنگی جہاز مظفرآباد میں بم باری کرنے آئے اور خصوصاً مظفرآباد شہر میں دونوں پلوں کو نشانہ بنایا گیا تو ایک شرما نامی بھارتی پائلٹ جب بم گراتا تو دومیل پُل پر کھڑے ایک سبز پوش بزرگ ہاتھ کے اشارے سے بم کو دریا میں پھینک دیتے۔ جب بھارتی پائلٹ کے جہاز میں آگ لگ جانے کی وجہ سے پائلٹ پیراشوٹ کے ذریعے ہوائی جہاز سے چھلانگ لگا کر زمین پرآ گرا جسے بعد میں پکڑ کر مظفرآباد جیل میں لایا گیا۔ اُس پائلٹ نے بعد میں بتایا کہ مجھے پہلے اُس درویش فقیر کے پاس لے چلو کہ ان کا دیدار کر لوں۔ میں جب بھی بم گرانے کے لیے پُل کانشانہ لیتا تھا تو ایک بزرگ سبز پوش اپنے ہاتھ کے اشارے سے بم کو دریا میں پھینک دیتا تھا اور بم پھٹ بھی نہیں سکے۔ اس کے بیان کے بعد اُس پائلٹ کو سائیں سہیلی سرکار کی زیارت پر لے جایا گیا۔ اسی طرح سہیلی سرکار کی سیکڑوں کرامات موجود ہیں۔ اہل نظر صاحب بصیرت بزرگوں کے بقول سائیں سہیلی سرکار کا عمل دخل دارلحکومت مظفرآبادکی حکومت اور حکومتی کاغذات پر ہے۔کئی بار آزاد کشمیر کے اس دارلحکومت کو دوسری جگہوں اور مقامات پر منتقل کرنے کا عملی فیصلہ کیا گیا لیکن یہ دیکھا گیا کہ بجائے دارلخلافہ تبدیل ہونے کے بجائے حکومتیں تبدیل ہو گئیں۔حضرت سائیں سہیلی سرکار کا عرس 13 جنوری سے21 جنوری تک منایا جاتا ہے۔ عرس کی اس تقریب کو مقامی زبان میں میلہ بھی کہا جاتا ہے۔ بغیر کسی دعوت نامے کے آزاد کشمیر و پاکستان کے شہروں سے لوگ شرکت کرتے ہیں۔جبکہ قوال حضرات بھی عرس کی تقریبا ت میں حمد،نعت،قصیدے، منقبت اور دیگر صوفیانہ کلام پیش کرتے ہیں۔جبکہ دوسری جانب زیارت سائیں سہیلی سرکار کے سابق سجادہ نشین سید ذاکر حسین بخاری کے فرزند اور سجادہ نشین سید عابد حسین شاہ بخاری جو چوتھی پُشت میں حق سجادہ نشینی انجام دے رہے ہیں اسی طرح کی تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ جو آخری دن کی صبح سہیلی سرکار کے تبرکات جن میں گودڑی شریف بھی شامل ہے۔عام دیدار کروایا جاتا ہے۔ جبکہ سرکاری طور پر صدر آزاد کشمیر،وزیراعظم آزاد کشمیر اور دیگر زیارت پر حاضری کے بعد مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہیں۔1978؁ء سے زیارت شریف کا انتظام محکمہ اوقاف آزاد کشمیر کے زیر تحویل ہے۔

Related Articles

Back to top button