کالمزمظفرآباد

ادب، ادیب اور قاری

از قلم: شبیراحمد ڈار

ادب عربی زبان کا لفظ ہے جسے انگریزی میں Literature کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ادب کیا ہے نیز اس کی ضرورت اور اہمیت کے بارے میں جاننے اور لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ ایسے کئی سوالات ہیں جو ایک صاحب علم کے ذہن میں عموماً گردش کرتے ہیں۔ اکثر اوقات جب طلبہ سے ادب کے بارے میں سوال کیا جائے تو ان کا جواب اخلاقیات ہوتا ہے۔ ہر شخص ادب کو مختلف النوع مفہوم کا حامل سمجھتا ہے۔ ادب کا دائرہ کار اتنا مختصر نہیں جتنا ہم تصور کرتے ہیں۔ ادب دراصل کسی معاشرے کا وہ تابندہ چہرہ ہے جس سے اس عہد کے تہذیبی، جمالیاتی اور اخلاقی شعور کا علم ہوتا ہے۔ ادب کسی بھی تخلیق کار کا وہ فن ہے جس میں جذبات و احساسات کے ساتھ مشاہدات کو مؤثر اسلوب کا روپ دیا جاتا ہے۔ اصناف سخن ہو یا اصناف نثر ادب تخلیق کار کے فکر و فن سے تخلیق ہوتا ہے وہ کسی ہیت کا محتاج نہیں ہوتا۔
ہمارے معاشرے میں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ لوگ سوچتے تو ہیں مگر اس تخیل کو محدود کر کے دبا دیتے ہیں، اظہار کا سلیقہ تو ہے مگر الفاظ کی بندش سے گھبراتے ہیں اور جو لکھنے کی کوشش کرتے ہیں ان میں سے کچھ داد و تحسین کو مد نظر رکھ کر لکھتے ہیں اور کچھ تنقید برائے تنقید کے پیکرو کار۔ ادب ایک ایسی فکر احساس کا نام ہے جو اپنے عہد کے ان تمام پہلوؤں کی عکاس ہوتی ہے جس سے ایک معاشرہ دوچار ہوتا ہے۔
ادب کو عملی جامہ پہنانے والا تخلیق کار ادیب کہلاتا ہے۔ ادیب اپنے اظہار تخلیق سے ان احساسات کی ترجمانی کرتا ہے جو انسانی جذبات اور مشاہدات سے منسلک ہیں۔ ادیب معاشرے کا وہ فرد ہے جو اپنے ارد گرد موجود قدرت کے حسین مناظر ہوں یا انسانی رویے انہیں کبھی نظر انداز نہیں کرتا۔ وہ اپنے اندر کے ہر جذبے کو، اپنے تخیل کے ہر پہلو کو اور اس معاشرے کے ہر رویے کو ایک خاص نکتہ نگاہ سے پرکھتا ہے پھر اسے فن لطافت سے تخلیق کرتا ہے۔
ادب کو تخلیق کرنے والا ادیب کسی بھی طور پر قاری کو نظر انداز نہیں کرتا۔ قاری وہ شخصیت ہے جو ادیب کو محتاط رکھتی ہے اس کا مرتبہ اس کے ادب سے مرتب کرتی ہے۔ قاری ادب پر اثر انداز ہوتا ہے کیونکہ کوئی بھی ادیب ایسا ادب تخلیق نہیں کرے گا جس کا تعلق یا دلچسپی اس عہد کے صاحب علم طبقہ سے نہ ہو یعنی قارئین اسی ادب کا انتخاب کرتے ہیں جس سے اس کو لطف پہنچے۔ ادب اور ادیب دونوں قاری کے محتاج تصور ہوتے ہیں۔ قاری وہ شخصیت ہے جو کسی بھی ادب کو پرکھتا ہے اور پھر اس کا مقام و مرتبہ متعین کرتا ہے۔ ہمارے ہاں مطالعہ وسیع نہ ہونے کی صورت میں محض چند ادبا کی تخلیقات کا ہی مطالعہ کیاجاتا ہے۔ ادیب کا نام پہلے دیکھا جاتا ہے اور پھر اس کے تخلیق کردہ ادب کو سراہا جاتا ہے جبکہ کسی بھی ادیب کو دوسرے ادیب سے اگر ممتاز کرنا مقصود ہو تو ان کے تخلیق کردہ ادب کے اثرات اور ان کی فکری گہرائیوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے اس معاشرے میں مثبت تبدیلیاں اگر رونما کرنی ہیں تو ہمیں ادب کو تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ ادیب کی حوصلہ افزائی اور قارئین کی تعداد میں اضافہ کرنا ہوگا۔ ادب تخلیق ہی اسی لیے ہوتا ہے کہ اسے پرکھا جائے اور جب تخلیق کار اپنے تخلیق کردہ ادب کو معاشرے میں دادو تحسین کا مستحق ہوتا دیکھتا ہے تو وہ مزید اس روش کو روشن کرنے کا خیال کرتا ہے اگرچہ ادب کو محض داد و تحسین کے لیے نہیں لکھناچاہیے مگر انسانی رویوں کا اس پر بھی کسی نہ کسی طور پر اثر ضرور ہوتا ہے۔ سرکاری سرپرستی میں بھی کتب کی اشاعت ہونی چاہیے اور ساتھ ساتھ ادیب کی حوصلہ افزائی بھی۔ جتنا ہم اس معاشرے میں ادب کو عام کریں گے اتنا ہی یہ معاشرہ مستحکم ہو گا۔

Related Articles

Back to top button