
یاسین ملک کا نام کشمیر کی معاصر سیاسی تاریخ میں ایک متنازع مگر نمایاں حوالہ بن چکا ہے۔ ان کی زندگی محض ایک فرد کی داستان نہیں بلکہ کشمیر کے مسئلے، اس سے جڑی سیاسی جدوجہد اور ریاستی و عدالتی رویّوں کی عکاسی کرتی ہے۔ برسوں سے جاری یہ کہانی آج بھی عدالتوں اور جیلوں کے درمیان اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
یاسین ملک نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز نوجوانی میں کیا۔ کشمیر کے پُرآشوب حالات میں انہوں نے ابتدا میں مسلح جدوجہد سے وابستگی اختیار کی، تاہم بعد ازاں انہوں نے کھلے عام تشدد ترک کرنے اور پُرامن سیاسی جدوجہد کا اعلان کیا۔ ان کا مؤقف یہ رہا کہ کشمیر کا مسئلہ طاقت یا جبر سے نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، انصاف اور عوامی رائے کے احترام سے حل ہو سکتا ہے۔ یہی تبدیلی ان کی سیاست کو ایک الگ شناخت دیتی ہے۔
2019 میں ان کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی جب مقبوضہ کشمیر غیر معمولی سیاسی اقدامات اور سخت سکیورٹی انتظامات سے گزر رہا تھا۔ یاسین ملک پر دہائیوں پرانے مقدمات کو دوبارہ فعال کیا گیا اور انہیں دہشت گردی اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ ریاستی مؤقف کے مطابق یہ کارروائی قانونی تھی، جبکہ ان کے حامیوں نے اسے سیاسی اختلاف کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران یاسین ملک نے ایک غیر روایتی مؤقف اپنایا۔ انہوں نے وکیل کی خدمات لینے سے انکار کرتے ہوئے اپنے دفاع میں دلائل پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انصاف کے عمل پر ہی سوالات موجود ہوں تو عدالتی کارروائی میں شرکت محض ایک رسمی عمل بن جاتی ہے۔ اس فیصلے کو قانونی اور سیاسی حلقوں میں ایک خاموش احتجاج کے طور پر دیکھا گیا۔
2022 میں نئی دہلی کی عدالت نے این آئی اے کے مقدمے میں یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنائی۔ یہ فیصلہ محض ایک فرد تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے کشمیر کی مجموعی سیاسی فضا پر بھی اثر ڈالا۔ انسانی حقوق کے حلقوں اور مبصرین کی جانب سے اس فیصلے پر مختلف آرا سامنے آئیں، جبکہ خطے میں اختلافِ رائے اور سیاسی آزادیوں کے مستقبل پر بحث مزید گہری ہو گئی-
بعد ازاں این آئی اے نے عمر قید کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اعلیٰ عدالت میں سزا میں اضافے کی درخواست دائر کی، جس کے بعد مقدمہ ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل ہو گیا۔ اسی سلسلے میں 28 جنوری 2026 کو یاسین ملک کی تازہ عدالتی پیشی ہوئی، جس نے ایک بار پھر اس کیس کو توجہ کا مرکز بنا دیا۔ سکیورٹی وجوہات کے باعث یہ پیشی بھی ویڈیو لنک کے ذریعے ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالت نے استغاثہ اور دفاع سے متعلق قانونی نکات پر غور کیا، فریقین کے مؤقف سنے اور آئندہ سماعت کے لیے نئی تاریخ مقرر کر دی۔ اگرچہ اس پیشی پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، تاہم یہ واضح ہو گیا کہ یہ مقدمہ اب بھی عدالتی عمل کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔
یاسین ملک اس وقت تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ ان کی صحت کے حوالے سے خدشات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ ان کا خاندان—خصوصاً ان کی اہلیہ اور کم سن بیٹی—اس قید کے انسانی اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک ایسا خاندان جو عدالتوں کی تاریخوں اور خبروں کے درمیان زندگی گزار رہا ہے، اس تنازع کی انسانی قیمت کو نمایاں کرتا ہے۔
یاسین ملک کی سیاسی زندگی پر اختلاف ممکن ہے۔ ان کے ماضی، نظریات اور فیصلے بحث کا موضوع رہیں گے، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ وہ کشمیر کی سیاست میں ایک اہم کردار رہے ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ محض گرفتاریوں اور سخت سزاؤں سے سیاسی مسائل حل نہیں ہوتے۔
کشمیر کا مسئلہ آج بھی ایک پیچیدہ سیاسی اور انسانی سوال ہے، جسے صرف سکیورٹی کے زاویے سے دیکھنا اس کی گہرائی کو محدود کر دیتا ہے۔ پائیدار حل مکالمے، سیاسی عمل اور انصاف سے جڑا ہے۔ یاسین ملک کی قید اور 28 جنوری 2026 کی عدالتی پیشی اسی طویل اور پیچیدہ کہانی کا ایک اور باب ہے—نہ آخری، نہ فیصلہ کن
میں دعا گو ہوں کہ اللہ پاک ہمارے قائد کو رہاء نصیب کرے اور کافروں کے ناکام ارادوں کو مٹی میں ملا دے آمین




