
سیاست دراصل نام ہے عوام کی خدمت اور ان کے حقوق کی نگہبانی کا، اور اگر موجودہ عہد میں اس تعریف پر کوئی شخصیت پورا اترتی ہے تو وہ چوہدری یاسین ہیں۔ وہ صرف ایک سیاست دان نہیں بلکہ صحیح معنوں میں ایک حقیقی عوامی لیڈر ہیں جن کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا مظلوموں کے حقوق کی جدوجہد اور اپنے خطے کی تعمیر و ترقی ہے۔
اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ چوہدری یاسین آخر ہر الیکشن میں کامیابی کا جھنڈا کیسے گاڑھ لیتے ہیں؟ چاہے وہ چڑھوئی کا قلعہ ہو یا کوٹلی میں چار دہائیوں بعد پیپلز پارٹی کی تاریخی واپسی۔۔۔ان کی جیت کا فارمولا نہایت سادہ مگر ٹھوس ہے۔ جب ناقدین چوہدری یاسین اور ان کی ٹیم کو عوامی مسائل کے حل کے لیے دن رات عملی میدان میں مصروف دیکھتے ہیں تو وہ نہ صرف قائل ہو جاتے ہیں بلکہ ان کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی سیاست ڈرائنگ رومز تک محدود نہیں بلکہ گلی محلوں اور عام آدمی کی دہلیز تک پھیلی ہوئی ہے۔آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حالیہ حکومت کے قیام کے بعد چوہدری صاحب نے جس تندہی سے کام کیا وہ مثال ہے۔انہوں نے وزیراعظم کو کوٹلی کا تفصیلی دورہ کروا کر عوامی مسائل کی براہِ راست نشاندہی کی۔۔۔ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بڑے منصوبوں کے اعلانات کروائے اور صرف اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے اب ان تمام منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز بھی کروا دیا ہے۔ ان کی اسی متحرک قیادت کی بدولت آج کوٹلی کی ترقی کی نئی راہ کھل رہی ہے جس پر وہ بلاشبہ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔۔۔ ایک لیڈر کی پہچان اس کے کارکن ہوتے ہیں اور کارکن نوازی کے معاملے میں چوہدری محمد یاسین کا کوئی ثانی نہیں۔ وہ اپنے کارکنوں کو محض ووٹر نہیں بلکہ اپنے خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ مشکل ہو یا خوشی۔۔ وہ اپنے ورکرز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ہر کارکن ان کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا رہتا ہے۔
خلاصہ: اگر آج کے دور میں کسی کو سیاست کرنے کا حقیقی حق حاصل ہے تو وہ صرف چوہدری یسین کو ہے۔ کیونکہ ان کی سیاست کا محور اقتدار نہیں بلکہ ”عوام کی خدمت” ہے۔
بالعموم آزاد کشمیر اور باالخصوص ضلع کوٹلی کے لیے محمد مطلوب انقلابی شہید کے بعد چوہدری محمد یاسین بہت قیمتی اثاثہ ہیں۔




