
اکیسویں صدی کو اگر اطلاعات اور ابلاغ کی صدی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا اور اس انقلاب کی بنیاد سوشل میڈیا ہے۔ فیس بک، یوٹیوب، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور ویب سائٹس نے دنیا کو ایک گلوبل گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج خبر، خیال، تصویر اور ویڈیو لمحوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچ جاتی ہے۔ مظلوم کی فریاد ہو یا کسی علمی و دعوتی پیغام کی اشاعت، سوشل میڈیا نے وہ کردار ادا کیا ہے جو ماضی میں بڑے بڑے ادارے بھی نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست، صحافت، تعلیم، دعوت، تجارت اور سماجی تحریکیں سب اس پلیٹ فارم سے جڑی نظر آتی ہیں۔ سوشل میڈیا کی یہی طاقت اسے نعمت بھی بناتی ہے اور آزمائش بھی۔ یہ وہ ذریعہ ہے جس سے خیر بھی پھیل سکتا ہے اور شر بھی، اصلاح بھی ہو سکتی ہے اور فساد بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام جیسے جامع اور ہمہ گیر دین نے انسان کو صرف اعمال کا نہیں بلکہ ذرائع اور نتائج کا بھی پابند بنایا ہے۔ جب کسی چیز کا اثر معاشرے پر پڑنے لگے تو شریعت اس پر خاموش نہیں رہتی۔ سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے ساتھ ایک نیا رجحان جس نے تیزی سے جنم لیا وہ ہے مفت کمائی یا آن لائن ارننگ جسے آج کی اصطلاح میں مونیٹائزیشن کہا جاتا ہے۔ آج کا نوجوان سوشل میڈیا کو محض اظہارِ خیال یا رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ آمدن کا آسان ترین راستہ سمجھنے لگا ہے۔ یوٹیوب چینل بنانا، فیس بک پیج یا ویب سائٹ مونیٹائز کرنا ایک خواب بن چکا ہے جسے یہ کہہ کر بیچا جاتا ہے کہ نہ سرمایہ چاہیے، نہ دکان، نہ محنت بس موبائل اٹھائیں اور پیسے کمانا شروع کر دیں۔ لیکن افسوس کہ اس خواب کی چکاچوند میں حلال و حرام، جائز و ناجائز اور شرعی حدود کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اسی پس منظر میں ایک نہایت اہم اور بروقت استفتاء پاکستان اور بھارت کے بڑے دینی اداروں کے دارالافتاء کو بھیجا گیا جس میں سوشل میڈیا مونیٹائزیشن کی شرعی حیثیت دریافت کی گئی۔ دارالعلوم دیوبند جو برصغیر میں فقہ اسلامی کا سب سے معتبر اور مستند علمی مرکز سمجھا جاتا ہے اس کے علاوہ دیگر بڑے مدارس کے دارالافتاء نے اس سوال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا اور متفقہ طور پر موجودہ صورتِ حال میں سوشل میڈیا مونیٹائزیشن کو ناجائز قرار دیا۔ اس فتوے کی بنیاد سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مونیٹائزیشن کے عملی نظام کو سمجھیں۔ جب کوئی شخص اپنا چینل، پیج یا ویب سائٹ مونیٹائز کرتا ہے تو اس کے مواد کے ساتھ اشتہارات آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ اشتہارات کسی ایک فرد کے نہیں بلکہ کمپنی یا پلیٹ فارم کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ کون سا اشتہار دکھایا جائے گا، کب دکھایا جائے گا اور کس نوعیت کا ہوگا اس پر مواد بنانے والے کا کوئی حقیقی اختیار نہیں ہوتا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے شرعی قباحت پیدا ہوتی ہے۔ عملاً دیکھا جائے تو ان اشتہارات میں موسیقی، فحاشی، بے پردگی، عورتوں کی نمائش، نیم عریاں مناظر اور بعض اوقات صریحاً غیر اخلاقی مواد شامل ہوتا ہے۔ یوں ایک ایسا شخص جو بظاہر خود کوئی فحش یا غیر شرعی مواد تیار نہیں کر رہا ہوتا درحقیقت ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کے سامنے گناہ پہنچانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کرام نے اسے محض ذاتی فعل نہیں
بلکہ سببِ گناہ قرار دیا ہے۔ اسلامی شریعت کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ گناہ کے کام میں تعاون بھی گناہ ہے۔ قرآن کریم صاف لفظوں میں حکم دیتا ہے: وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدہ: 2)
یعنی گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ فقہاء کرام نے اس آیت کی روشنی میں یہ اصول مرتب کیا ہے کہ اگر کسی جائز کام کا لازمی یا غالب نتیجہ حرام ہو تو وہ کام بھی ناجائز ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا مونیٹائزیشن میں یہی صورت پیدا ہوتی ہے کیونکہ اشتہارات کا غیر شرعی ہونا کوئی اتفاقی بات نہیں بلکہ ایک معمول بن چکا ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء نے اپنے جواب میں واضح طور پر لکھا کہ چونکہ یہ اشتہارات غیر اختیاری ہیں اور ان میں شرعاً ممنوع امور شامل ہوتے ہیں، اس لیے اس ذریعے سے حاصل ہونے والی کمائی حلال نہیں۔ انہوں نے فقہ حنفی کے معتبر حوالہ جات پیش کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے اجارے یا کمائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی جس میں حرام کا غلبہ ہو۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ یہی مؤقف پاکستان اور انڈیا کے دیگر بڑے مدارس کے دارالافتاء نے بھی اختیار کیا۔ دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوریہ، مظاہر العلوم سہارنپور اور دیگر اداروں کی آراء اس بات پر متفق نظر آتی ہیں کہ موجودہ ڈیجیٹل نظام میں مونیٹائزیشن شرعی اصولوں سے متصادم ہے۔ یہ اجماعی رائے اس امر کی دلیل ہے کہ مسئلہ محض ایک فرد یا ایک مدرسے کا نہیں
بلکہ پوری امت کے دینی تشخص سے جڑا ہوا ہے۔ البتہ جامعۃ الرشید کراچی کے دارالافتاء نے ایک مشروط صورت میں اس کمائی کو جائز قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر اشتہارات کو فلٹر کے ذریعے مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکے اور فحاشی، موسیقی اور دیگر ممنوع امور کی مؤثر روک تھام ممکن ہو تو کمائی کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ لیکن اسی فتوے میں یہ شرط بھی واضح طور پر موجود ہے کہ اگر یہ روک تھام ممکن نہ ہو تو کمائی ناجائز ہوگی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عملی طور پر ایسا ممکن ہے؟ زمینی حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اشتہارات کمپنی کی طرف سے خودکار نظام کے تحت آتے ہیں۔ فلٹر کے دعوے کے باوجود مکمل کنٹرول ممکن نہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی ویڈیو پر مختلف اوقات میں مختلف نوعیت کے اشتہارات دکھائے جاتے ہیں۔ اس لیے جامعۃ الرشید کی بیان کردہ جائز صورت عملاً نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ مسئلہ صرف فقہی بحث تک محدود نہیں بلکہ اس کے اخلاقی اور سماجی اثرات بھی نہایت سنگین ہیں۔ مفت اور آسان کمائی کے اس رجحان نے نوجوانوں کو محنت، ہنر اور ذمہ داری سے دور کر دیا ہے۔ پیسہ کمانا مقصد بن گیا ہے اور ذریعہ ثانوی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اسلام میں رزق کی اہمیت ضرور ہے لیکن اس سے زیادہ اس کی پاکیزگی کو اہمیت دی گئی ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ یہ کہہ کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ ہم خود تو فحش مواد نہیں بناتے اشتہارات کمپنی کی ذمہ داری ہیں۔ لیکن شریعت اس منطق کو قبول نہیں کرتی۔ اگر کسی کے فعل سے گناہ پھیل رہا ہو تو محض نیت کی صفائی کافی نہیں ہوتی۔ سبب بننا بھی ذمہ داری ہے اور اسی بنیاد پر علماء کرام نے اس کمائی کو ناجائز قرار دیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلام سوشل میڈیا کے استعمال کے خلاف ہے۔ سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے اور اگر اسے دعوت، تعلیم، اصلاح اور مثبت شعور کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ صدقہ جاریہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح حلال اسپانسرشپ، براہِ راست تعاون (ڈونیشن) یا اشتہارات کے بغیر مواد پیش کرنا ایسے متبادل راستے ہیں جن پر چل کر انسان شبہات سے بچ سکتا ہے۔ بلوچستان کے ایک قدیم دینی درسگاہ مدرسہ عربیہ بحر العلوم گھوڑا ہسپتال روڈ چمن کے بانی شیخ الحدیث حضرت مولانا فتح محمد چمنی نوراللہ مرقدہ نے ایک دفعہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا ہمارے ہاتھ میں ایک تلوار کی مانند ہے۔ یہ تلوار اگر حق کے لیے استعمال ہو تو طاقت بن جاتی ہے اور اگر نفس اور لالچ کے لیے استعمال ہو تو خود اپنے ہی خلاف چل پڑتی ہے۔ مفت اور آسان کمائی کا یہ خواب وقتی آسائش تو دے سکتا ہے لیکن اگر اس کی بنیاد حرام یا مشتبہ ذرائع پر ہو تو یہ خواب بالآخر خسارے میں بدل جاتا ہے۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم اکابر علماء کی رہنمائی کو سنجیدگی سے لیں، وقتی فائدے کے بجائے دائمی نفع کو ترجیح دیں اور اپنی آمدن کو ہر قسم کے شبہ سے پاک رکھنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ حلال رزق ہی وہ بنیاد ہے جس پر عبادت قبول ہوتی ہے، دعا میں اثر پیدا ہوتا ہے اور زندگی میں حقیقی سکون نصیب ہوتا ہے۔




