
بدلے ہوئے عالمی حالات کے پیش نظر امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر گلگت ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے برطانیہ کے طول عرض میں جاکر اوورسیز کشمیریوں کی کشمیرکی آزادی اور آزاد خطوں میں نظام کی تبدیلی کی جدوجہدکی تحسین کے ساتھ ساتھ اس کو مہمیزبھی دی،آزاد کشمیر،گلگت بلتستان اور پاکستان میں مقیم کشمیریوں کو منظم کرنے کے بعد برطانیہ جیسے ملک میں کشمیریوں کو مزید فعال کیا،معرکہ حق میں کامیابی اور فلسطین میں ایک سیاسی جماعت کے ہاتھوں امریکہ کی پرستی میں چلنے والے اسرائیل کے غور کو خاک میں ملانے کے بعد جو عالمی منظرنامہ بنا ہے ا س میں کشمیریوں کے لیے امید کی کرن بنانے کے لیے ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے برطانیہ کا دورہ کیااور کامیاب دورہ کیا۔
تحریک کشمیریورپ کے صد رمحمد غالب،تحریک کشمیربرطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی،قمرعباس اور دیگرقائدین نے دورے کے دوران میں برطانیہ کے تمام بڑے شہروں میں پروگرامات کااہتمام کیا،لندن سے گلاسگواور کاٹ لینڈ تک بھرپور پروگرامات ہوئے،کشمیری کمیونٹی نے شاندار استقبال کیا،میڈیانے بھرپور کوریج دی اوراہل دانش اور سول سوسائٹی نے بڑھ چڑھ کر دانش کی ان پٹ کی صورت میں یونیک کام کیا۔
آزاد کشمیراور خاص کر مقبوضہ کے عوام میں چھائے مایوسی کے بادل چھٹے،امید کی کرن پیدا ہوئی اس دورے کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیرکے عوام کوپیغام ملا کہ جماعت اسلامی اور اس کی قیادت حقیقی طورپر کشمیریوں کی پشتیبان ہے اورصبح آزادی تک ساتھ رہے گی اوردنیا کاکوئی فورم چھوڑے گی نہیں جہاں کشمیرکی بات نہ کی جائے۔
برطانیہ میں 15لاکھ کشمیری مقیم ہیں جو آزاد کشمیرکے سیاسی حالات سے مایوس ہیں،موروثی قیادت اور باطل نظام سے صرف آزاد کشمیرکے عوام ہی تنگ نہیں ہیں بلکہ برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں رہنے والے کشمیری پریشان اورمایوس ہیں،ڈاکٹر محمد مشتاق خان کے دورے نے ان کو بھی امید دلائی کہ جماعت اسلامی اس نظام اور قیادت کو بدلنے کی کوشش کررہی ہے اور جلد اس نظام اور قیادت کو تبدیل کرے گی۔
جماعت اسلامی آزاد کشمیراور گلگت بلتستان نے اپنی ریلیف سرگرمیوں سے 20لاکھ افراد مستفید ہوئے اور ہورہے ہیں،چالیس ہزاریتیم بچوں کو مفت تعلیم دلائی اور 21ہزار یتیم بچے اب بھی زیر تعلیم ہیں،لاکھوں افراد کو صحت کی سہولت فراہم کی اور اب بھی کررہی ہے،پینے کے صاف پانی کا بندوبست کیا اور کررہی ہے،سینکڑوں بیواؤں کی کفالت کررہی ہے کشمیر کی آزادی کے لیے 11سونواجوان پیش کیے اور جدوجہد جاری ہے،جماعت اسلامی کی پارلیمانی خدمات سے پوری قوم واقف ہے،این ٹی ایس کرایا،فیئر پبلک سروس کمیشن قائم کرایا،قرآن کی تعلیم لازمی قراردلائی،ختم، نبوت کے بل کو قانون بنوایا،جماعت اسلامی نے ہر میدان میں بے لوث عوام کی خدمت کی اور کررہی ہے،جماعت اسلامی کی ان خدمات کو برطانیہ کے لاکھوں کشمیریوں کے سامنے اور میڈیا کے ذریعے بیان کیاگیاتو وہ حیران رہ گئے اس قدر خدمات حکمرانوں نے سرکاری وسائل سے عوام کوفراہم نہیں کیں جو جماعت اسلامی نے ایک اپوزیشن جماعت ہونے کے ہونے پیش کیں ہیں۔
ڈاکٹر محمد مشتا ق خان نے کھل کر کہاکہ اگرجماعت اسلامی کو اقتدار ملا تو عوام کو صحت تعلیم مفت فراہم کریں گے،نوجوانوں کو روزگار فراہم کریں گے،ایک ہزار میگاوٹ بجلی عوام کومفت فراہم کریں گے،سیاحت،ہائیڈل اور معانیات کے پوٹنشل کو بروئے کار لاکر ریاست کو خود کفیل بنائیں گے،اوورسیز کے مسائل حل کریں گے،ان کے پلاٹوں پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے،اوورسیز سے مل کر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے کلچر کو عام کریں گے،اپنے بھائیوں کے لیے سہولیات فراہم کریں گے،جماعت اسلامی کو عوام نے موقع دیاتو ترقیاتی بجٹ اپنے وسائل سے 5سو ارب تک لے جائیں گے۔برطانیہ میں کشمیری یہاں کی اچھی روایات کو آزاد کشمیرمنتقل کریں علاقایت اور قببیلہ ازم نے ہمیں پسماندہ رکھا ہے،اشرافیہ اس کااستعمال کرکے اپنے مفادات کاتحفظ کررہاہے جماعت اسلامی نے اس بت کوتوڑدیاہے۔
ڈاکٹرمحمد مشتاق خا ن نے اپنے دورے کے دوران میں اوورسیز کشمیریوں کے اندر ایک نئی امید پیدا کی اور اس سے کشمیریوں کے اندر نیا جوش اور جذبہ پیداہوا ہے۔یہ جوش اور جذبہ خیر لائے گا مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے لیے خیر ہے اور آزا دکشمیرکے عوام کے لیے بھی مفید ہے۔برطانیہ میں نسل نو کو اسلام کشمیراور مسئلہ کشمیر سے وابستہ رکھنے کے لیے بھی جماعت اسلامی کی قیادت نے پورا متبادل لائحہ عمل پیش کیاہے۔یوں امیر جماعت کے دورے سے ایک نئی جہت پیدا ہوئی اوریہی تبدیلی اور آزادی کاعنوان بنے گی۔




