
مظفرآباد شہر بے ہنگم ٹریفک نے عام شہری کو حواس باختہ کر رکھا ہے بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ ٹریفک کا پھیلاؤ اور اِس کا قابو میں نہ رہنا اب معمول کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ شہر میں آبادی کے اضافے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اب گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلز (بائیکیا) پر تکیہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اِک زمانہ تھا کہ لوگ پیدل چلنے کو ترجیح دیا کرتے تھے ہمارے دیہاتی بھائی تو پیدل سفر کو ہی اپنا طرزِ زِندگی بنائے رکھتے دِن کو شہر میں آتے اور شام کو اپنی ملازمت یا کاروبار وغیرہ کی دیہاڑی لگاکر رات کے سائے ڈھلنے سے قبل گاؤں کو پیادہ پا جانبِ منزل ہو جاتے۔ یہ اُن کا ایک سماجی روّیہ سا بن کر رہ گیا تھا۔ تب بھی ہم سب کی مسافت اور فاصلہ اتنا ہی ہوا کرتا تھا جتنا آج ہے شہر سے دومیل، چھتر اور چہلہ بانڈی یا گوجرہ کوئی دُور نہیں چلے گئے اپنی اپنی جگہوں پر آج بھی قائم ہیں۔ پہلے ہم روزمرہ اُمور اِن جگہوں پر جاکر پیدل ہی طے کر لیا کرتے تھے اَب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آرام طلبی اور آسائشوں نے ہمیں بُری طرح سے جھکڑ لیا ہے۔ اِس کی ایک بڑی وجہ مصروفیات اور تیزترین زِندگی بھی ہو سکتی ہے اَب ہمیں ہر کام بعجلت ممکنہ کرنا ہوتا ہے۔ہم قریب ترین جگہ پر بھی جانے کیلئے گاڑی پر اپنا شوق پورا کرتے ہیں یا پبلک ٹرانسپورٹ جن میں رکشہ یا بائیکیا کے ذریعے پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پیدل چلنے کی نہ عادت رہی اور نہ ہی روایت۔ پیدل چلنے والے کو اَب عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے بلکہ یہ جملے کسے جاتے ہیں کہ اِس کو دیکھو کہ تمام ترسہولیات ہونے کے باوجود پیدل ہی جانبِ سفر ہے شہر کے چوک، چوراہے، سڑکیں، گلیاں سب ہی رکشوں اور بائیکیا سے بھرے ہوئے نظرآتے ہیں۔ اس بے ہنگم ٹریفک نے عوام الناس کا جینا دوبھرو کر رکھا ہے ذرا اندازہ کریں کہ ہمارے شہر کا سب سے پرانا اور بڑا مین بازار ہے جن میں لوگوں کی خرید و فروخت کیلئے ایک ہجوم ہمیشہ رہتا ہے۔ اِس بازار میں بھی بڑی گاڑیاں، رکشے اور موٹرسائیکل دِن دیہاڑے گھس جاتے ہیں اور بمشکل آٹھ فٹ کے چوڑے بازار میں گاڑیوں کو ایک دوسرے سے کراس کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور نتیجتاً دونوں اطراف کے لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں جبکہ گاڑیاں آگے پیچھے کر کے گزرنے کا راستہ نہ بنا لیں۔ اِن میں ہمارے بزرگ، خواتین اور بچے سب ہی شامل ہوتے ہیں جنہیں اِس دِشواری کا بلاوجہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے تاجر بھائی اِس معاملے کو ضرور دیکھیں اور مل کر کوئی لائحہ عمل مرتب کر لیں تاکہ بازار میں لوگوں کی آمدورفت میں خلل نہ پڑے۔ باالخصوص سامان سے لدی ہوئی جو گاڑیاں بازار کے اندر داخل ہوتی ہیں اُن کیلئے رات کا کوئی مخصوص وقت مقرر کر لیا جائے تاکہ وہ مقررہ وقت میں دوکانوں کے آگے جاکر بغیر کسی دِشواری کے سامان کی ترسیل کر سکیں کم و بیش اِسی طرح کی صورت حال مدینہ مارکیٹ میں بھی دیکھنے کو آتی ہے۔ اِس پر بھی انتظامیہ کی خصوصی توجہ درکار ہے۔ چند روز میں رمضان المبارک کا آغاز ہوا چاہتا ہے لہٰذا اِس معاملے کو ابھی سے حل کرنے کیلئے مناسب اقدامات اُٹھانا بے حد ضروری ہیں۔
شہر میں ہر چوک، چوراہے پر پیلے رنگ کے ہیلمٹ سروں کو ڈھانپے یا ہینڈل پر لٹکائے موٹرسائیکل سوار بکثرت موجود ہوتے ہیں یہ بائیکیا والے حضرات گروہ در گروہ ہر موڑ، گلی، نکڑ میں کھڑے نظرآتے ہیں۔ نہ معلوم کہ اِن کی رجسٹریشن کا کوئی طریقہ کار انتظامیہ نے وضح کر رکھا ہے یا نہیں یا اِن کی لائسنسنگ کی پڑتال کا کوئی انتظام موجود ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر گاؤں کا دیہاتی جو صبح شہر میں اپنے روزمرہ کے کام کیلئے آتا ہے وہ پیلا ہیلمٹ پہنے چوک میں کھڑا نظرآتا ہے تاکہ کوئی اِکا دُکا سواری مل جائے تو میں شہر آنے کا خرچ پورا کر لوں۔ یہی حالت سکول، کالج کے طلبہ کی بھی نظرآتی ہے اکثر نوجوان ہیلمٹ پہنے چوراہے پر کھڑے نظرآتے ہیں وہ بھی اِس انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں کہ کوئی سوار مل جائے تو چارپیسے ہی اکٹھے ہو جائیں۔ ہمارے ہاں کی روزمرہ کی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری نے ہمارے نوجوان کو شاید ایسا کرنے پر مجبور کر دیا ہے، گرانی کے اِس دور میں کسی بھی جائز طریقے سے محدود رقم کا حصول ہو جائے تو لوگوں کو زِندگیوں میں آسانی نظرآتی ہے۔ خصوصاً وہ نوجوان جس کا کوئی ذریعہ معاش نہ ہو وہ اِن جیسے ذرائع سے ہی چند پیسے حاصل کر کے اپنی ضروریات کو پورا کر لیتے ہیں۔ مگر یہاں ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ آبادی کے کنٹرول کیلئے منصوبہ بندی اَشد ضروری ہے تبھی ہمارا معیارِ زِندگی بہتر ہو گا، تعمیر و ترقی کے ذرائع دستیاب ہونگے اور ہر ایک کو سماجی تحفظ مل سکے گا۔
شہر میں ٹریفک کی روانی کو بحال رکھنے کیلئے قواعد و ضوابط کے مطابق اِسے ڈھالنا ضروری ہے ایسی بے ہنگم ٹریفک نے عام شہری کی زِندگی بری طرح متاثر کر رکھی ہے لوگوں کو اپنی ضروریات کے پیش نظر یا ایمرجنسی کی صورت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے میں مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صرف اَپر اڈہ ہی کو لے لیں تائیکیا کا ایک جم غفیر ہمیشہ وہاں کھڑا نظرآئے گا پیدل چلنے والے کو راستہ ملنا دِشوار ہو چکا ہے۔ اگر کسی بائیکیا والے کو راستہ دینے کیلئے پیچھے ہٹنے کا کہا جائے تو وہ ماتھے پر شکن ڈال کر اِس کا اظہار کرتا ہے۔ بائیکیا کی یہ بہار جو شہرمیں اُمڈ آئی ہے اِس کے کچھ اُصول اور ضوابط مرتب کیے جائیں اِن لوگوں کی پارکنگ کا مناسب انتظام اور جگہ کا تعین ضروری ہے اِن کے کرائے نامہ کو مختص کیا جائے تاکہ ہر کوئی منہ بولے دام سے رقم اُچکنے کی کوشش کرتا ہے اِس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ اِن کا لائسنس لے کر اِن کی باقاعدہ رجسٹریشن کا اہتمام کرے شہر میں نوعمر بچوں نے بھی بائیکیا کو ذریعہ معاش کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اِن میں اکثر کئی بچے تو اِس پر وَن ویلنگ کرتے بھی دیکھے گئے ہیں۔ اِن سارے معاملات پر انتظامیہ کی کڑی نظر درکار ہے۔ شہر میں اکرچہ سڑکوں کی کمی اور آبادی کے پھیلاؤ اِن تمام مسائل کا بنیادی سبب بن رہے ہیں مگر اِس کیلئے انتظامیہ کو چوکس اور چوکنا ہونا پڑے گا۔ شہر کے چوراہوں میں ٹریفک کنٹرول کرنے والے اہلکاران اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے موجود تو ضرور ہوتے ہیں لیکن اُن میں سے اکثر کونے میں کھڑے گپ شپ میں مصروف ہی نظر آتے ہیں یا موبائل پر بات کر رہے ہوتے ہیں جب چوک میں ٹریفک مکمل طور پر بلاک ہو جاتی ہے تو یہ بمشکل اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر سیٹی نکال کر منہ میں رکھ کر بجانا شروع کر دیتے ہیں یہ ٹریفک جام ہونے پر حرکت میں آتے ہیں ایسی تساہل پسندی سے شہر کی ٹریفک کا نظام کیسے درست ہو گا ہر ایک کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ بڑی شاہراؤں جن میں سی ایم ایچ، یونیورسٹی، کالج روڈ سرفہرست ہے یہاں پر ٹریفک کا مستعد اور کمربستہ عملہ ہمہ وقت موجود رہنا چاہیے جو تجاہل اور تغافل کا مظاہرہ کرتے نظرنہ آئیں۔ اربابِ اختیار کو چاہیے کہ اگر پبلک ٹرانسپورٹ شہریوں کیلئے مہیا کر دی جائے تو اِس سے سڑکوں پر ٹریفک کا رش کم ہو سکتا ہے اور گاڑیوں کی روانی بھی قائم رہے گی۔ ایک وقت تھا کہ ملازمین کیلئے سرکاری ٹرانسپورٹ چلا کرتی تھی اَب وہ بھی قصہئ پارینا ہو گئی ہے۔ ہم بحیثیت شہری آئے روز اِن مسائل کا سامنا کرتے ہوئے یہی کہہ سکتے ہیں کہ شاید تیرے دل میں اُتر جائے میری بات۔
٭٭٭٭٭



