سال 5 فروری کو پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری عوام یومِ یکجہتی کشمیر مناتے ہیں۔ بعض حلقے اسے محض ایک علامتی یا علاقائی سرگرمی سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ دن عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک اخلاقی صدا ہے۔ یہ دن ہمیں ایک ایسی قوم کی یاددہانی کراتا ہے جو تاریخ، قانون اور عالمی ضمیر کے ہاتھوں نظرانداز ہوتی چلی آئی ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، نئے اتحاد تشکیل پارہے ہیں، تنازعات سرحدیں بدل رہے ہیں اور انسانی حقوق کے دعوے کسوٹی پر پرکھے جا رہے ہیں، مسئلہ جموں و کشمیر نام نہاد قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کی ساکھ کے لیے ایک فیصلہ کن امتحان بن چکا ہے۔
جموں و کشمیر تنازع کی جڑیں 1947 کی خونریز اور نامکمل تقسیمِ ہند میں پیوست ہیں۔ برطانوی اقتدار کے خاتمے پر برصغیر کی ریاستوں سے توقع کی گئی تھی کہ وہ جغرافیے اور عوامی خواہشات کے مطابق پاکستان یا بھارت سے الحاق کریں گی۔ جموں و کشمیر میں مسلم آبادی کو واضح اکثریت حاصل تھی اور اس خطے کے پاکستان کے ساتھ گہرے سماجی، معاشی اور جغرافیائی روابط تھے۔ منطقی طور پر تو اسی اصول کے تحت فیصلہ ہونا چاہیے تھا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا، اور یوں یہ ریاست دہائیوں پر محیط تنازع کی نذر ہو گئی۔
اس وقت ریاست پر مہاراجہ ہری سنگھ کی حکمرانی تھی، جو ایک ہندو حکمران تھا جبکہ آبادی کی اکثریت مسلمان تھی۔ تقسیم کے ہنگاموں کے دوران مہاراجہ کی حکومت نے خصوصا جموں میں مسلمانوں کے خلاف سخت جبر کیا، جس کے نتیجے میں قتلِ عام اور وسیع پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔ پونچھ اور دیگر علاقوں میں پاکستان سے الحاق کے حق میں عوامی بغاوت کے بعد مہاراجہ نے بھارت سے فوجی مدد طلب کی اور اکتوبر 1947 میں دستاویزِ الحاق پر دستخط کیے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جسے پاکستان نے جبرا اور غیرقانونی قرار دیا۔ بھارتی مداخلت کا نتیجہ پہلی پاکبھارت جنگ کی صورت میں نکلا اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک جا پہنچا۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے آزاد اور منصفانہ رائے شماری کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ کی وہ قراردادیں آج تک نافذ نہیں ہو سکیں اور اس طرح ایک مستقل بین الاقوامی ذمہ داری کی صورت میں برقرار ہیں۔
بعد کی دہائیوں میں بھارتی پالیسی سیاسی استحکام سے بڑھ کر قانونی اور آبادیاتی تشکیلِ نو تک جا پہنچی۔ ریاست کی محدود خودمختاری کو بتدریج کمزور کیا گیا، جس کا نقط عروج 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35اے کی یکطرفہ منسوخی تھا۔ یہ محض داخلی آئینی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک متنازع خطے میں عوام کی مرضی کے بغیر سیاسی حیثیت اور آبادیاتی توازن بدلنے کی کوشش تھی۔
آج بھارتی غیرقانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ عسکریت زدہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ دلکش وادیوں کا پسِ منظر روزمرہ کرفیو، مواصلاتی بندش، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل جیسے مظالم سے عبارت ہے۔ یومِ یکجہتی کشمیر اسی لیے منایا جاتا ہے کہ کشمیریوں کی تکالیف ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ مزید شدت اختیار کر گئی ہیں۔
کشمیر میں ہونے والے واقعات کو دو اہم زاویوں سے دیکھنا ضروری ہے: زمینی انسانی صورتِ حال اور بھارت کے اندر ابھرنے والی وہ وسیع تر نظریاتی تبدیلی جس نے اکثریتی سطح پر انتہاپسندی کو جنم دیا ہے۔ گزشتہ دہائی میں ہندو قوم پرستانہ بیانیے نے اداروں، میڈیا اور عوامی مکالمے کو اس طرح سے متاثر کیا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کو اندرونی خطرہ اور اختلافِ رائے کو غداری کے مترادف قرار دیا جانے لگا ہے۔ کشمیر اس رجحان سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور ایسی پالیسیوں کی تجربہ گاہ بن چکا ہے جہاں سیاسی حقِ نمائندگی سلب کر دیا گیا ہے اور آبادیاتی ڈھانچے میں تبدیلی کو معمول بنایا جا رہا ہے۔
نسل کشی اور اجتماعی مظالم کے ماہرین کچھ متواتر مراحل کی نشاندہی کرتے ہیں: شناخت، غیرانسانی تصور، عسکریت پسندی، اجتماعی سزا، آبادیاتی انجینئرنگ اور اختلافِ رائے کو خاموش کرنا۔ ان مراحل میں سے کئی عناصر کشمیر میں نمایاں ہو چکے ہیں۔ کشمیریوں کو سیاسی حقوق کی حامل قوم کے بجائے محض سکیورٹی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ ہر طرح کی مزاحمت کو دہشت گردی کا لیبل دینا ریاست کو بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں کرتا، اور نہ ہی یہ جائز مزاحمت اور مجرمانہ تشدد کے فرق کو مٹا سکتا ہے۔
قانونی اعتبار سے بھارت کا مقف کمزور ہے۔ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر اب بھی متنازع علاقہ تسلیم کیا جاتا ہے؛ سلامتی کونسل کی رائے شماری سے متعلق قراردادیں کبھی منسوخ نہیں ہوئیں۔ اقوامِ متحدہ کا منشور طاقت کے زور پر علاقے کے حصول کی ممانعت کرتا ہے، جبکہ بین الاقوامی انسانی قانون اجتماعی سزا اور شہریوں کو نشانہ بنانے سے روکتا ہے۔ من مانی گرفتاریاں، طاقت کا ناجائز استعمال اور طویل مواصلاتی بندشیں ان بنیادی انسانی حقوق کے معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں جن کا بھارت خود فریق ہے۔ بھارت کے یکطرفہ داخلی اقدامات اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو ختم نہیں کر سکتے۔
عالمی برادری کی طویل خاموشی اور چند من پسند مسائل پر ردِعمل سے جنوبی ایشیا سے کہیں آگے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جب طاقتور ریاستیں بین الاقوامی قانون توڑیں اور ان کی جوابدہی نہ ہو تو وہ ان اصولوں کو کمزور کرتی ہیں جو دنیا بھر کے کمزور لوگوں کا تحفظ کرتے ہیں۔ اگر حقِ خودارادیت کو کشمیر میں دفن کیا جا سکتا ہے تو کہیں بھی ایسا ممکن ہے۔ اگر ایک متنازع علاقے میں آبادیاتی انجینئرنگ معمول بن جائے تو اس سے ایک خطرناک نظیر قائم ہوتی ہے۔
پاکستان کا مقف ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی رائے شماری کے ہی نتائج قبول کرے گابشرطیکہ یہ بین الاقوامی قانون اور حقِ خودارادیت کے اصول سے ہم آہنگ ہے۔ کشمیریوں کا مطالبہ نہایت سادہ اور آفاقی ہے: فیصلہ کشمیری عوام کو کرنے کا حق دیا جائے۔
کشمیری عوام سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیاروں کو دفن کیا، یتیم بچوں کی پرورش کی اور ناقابل برداشت حالات میں بھی امید کو زندہ رکھا۔ یومِ یکجہتی کشمیر دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے: طاقت کے بجائے قانون، سہولت کے بجائے انصاف، اور خاموشی کے بجائے انسانیت کا انتخاب کیا جائے۔ بین الاقوامی قانون کی ساکھ، جنوبی ایشیا میں امن کے امکانات اور عالمی انصاف کا مستقبل اسی انتخاب سے وابستہ ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ دنیا کو کشمیر کی پرواہ ہونی چاہیے یا نہیں، سوال اب یہ ہے کہ دنیا کب تک کشمیریوں کی پرواہ نہ کرنے کی متحمل ہو سکتی ہے؟
٭٭٭




