کالمزمظفرآباد

کیا دنیا میں کچھ بڑا ہونے والا ہے؟

دنیا میں ایک بار پھر اسی کی دہائی کے اواخر کا سا منظر پیش کر رہی ہے۔عالمی سطح پر اس قسم کا ارتعاش اس سے پہلے اسی وقت دیکھا گیا جب سردجنگ اختتام کو پہنچ رہی تھی اور دنیا کا ایک نیا نقشہ تشکیل پا رہا تھا۔یوں لگ رہا تھا کہ ڈربہ کھل گیا ہے اور مرغیاں او ر چوزے اس سے نکل کر حیرت اور استعجاب کی دنیا میں اِدھر اُدھر بھاگے جا رہے ہیں۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی سیاست میں طوفان برپا کرنے والا ایک اور لمحہ نائن الیون بھی تھا مگر اس سے عالمی سطح پر افراتفری کا یہ منظر نہیں اُبھرا تھا۔دنیا نے نائن الیون پر امریکہ کا موقف من وعن قبول کر لیا تھا اور امریکہ کو ہمدردی کے اضافی نمبر مل گئے تھے جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ کی مہر کے ساتھ دنیا میں اپنا سکہ جمانے میں کامیاب ہوا تھا۔اس بار کی ہلچل اقتصادی ہے اور ایک بارپھر کرہ ارض کے ممالک دائیں بائیں بھاگے پھر رہے ہیں۔یوں لگ رہا کہ امریکہ کا معاشی فسوں ٹوٹ رہا ہے۔1990 میں ہر روز ایک نئی خبر سننے کو مل رہی تھی کہ سوویت یونین کا فلاح حصہ اعلان آزادی کر رہا ہے۔سہمے اور ڈرے ہوئے لوگ سڑکوں پر نکل کر ڈوبتے ہوئے سوویت یونین کے کنٹرول کو آخری سلام کرکے نئے راستوں پر چل رہے تھے۔مشرقی یورپ،وسط ایشیا کا ایک کے بعد دوسرا ملک اپنی راہیں جدا کر رہا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پالیسیوں نے بھی امریکہ کے زیر اثر ملکوں کو آج کا”مشرقی یورپ“ بنا دیا ہے۔سب سے حیرت انگیز کروٹ یورپ لے رہا ہے جو امریکہ کا قریب ترین اقتصادی اور عسکری اتحادی ہے۔یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ ایک فرد کے آنے سے منظر یکسر بدل جاتا ہے۔اسی کی دہائی میں سوویت یونین نے سرد جنگ کا آخری معرکہ صدربرژنیف کی قیادت میں لڑا تھا مگر یہی وہ زمانہ تھا جب سوویت معیشت کو بربادی کا گھن لگنا بھی شروع ہو گیا تھا۔برژنیف کی موت کے بعد آندروپوف سوویت حکمران بنے مگر وہ بھی زیادہ دیر جی نہ سکے اور قرعہ ء فال میخائی گورباچوف کے نام نکلا۔گورباچوف کی آمدتاریخ کے سٹیج پر اپنے وقت کی عظیم طاقت کا اینٹی کلائمیکس ثابت ہوئی اور وہ اس دیوہیکل عالمی طاقت کے زوال کو آسان بنانے کے سوا کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکے۔آج جب امریکہ کے دیرینہ معاشی اور فوجی اتحادی اس کی ٹوکری سے اُچھل اُچھل کر گرتے اور نکلتے جارہے ہیں تو یہ سب ایک فرد کا کمال ہے اور اس فرد کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔دنیا میں لالی ووڈ کی اداکاراؤں کی طرح نمبر ون کی دوڑ لگی ہے۔امریکہ چین کے لئے ڈرائیونگ سیٹ خالی نہیں کر رہا اورچین اب اپنے پر پرزے اس قدر نکال چکا ہے کہ وہ اس ڈرائیونگ سیٹ کو اپناحق سمجھ رہا ہے۔اس کشمکش میں امریکہ کے روایتی اتحادی اپنا مدار بدل رہے ہیں تو حالات امریکہ کو نمبر دو بننے کا حقیقت پسندانہ فیصلہ قبول کرنے پر مجبور کر تے دکھائی دے رہے ہیں مگر اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے مسئلے کا ایک رئیل سٹیٹ طرز کا حل نکال کر عرب دنیا کو چوکنا کر دیا تو گرین لینڈ پر نظریں جما کر یورپ کو عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کر ڈالا۔امریکہ کا سب سے بااعتماد خلیجی ملک متحدہ عرب امارات امریکی سیکورٹی سسٹم پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے دوڑا دوڑا بھارت جا پہنچا اور ایک اہم ترین دفاعی اور تجارتی معاہدہ کرنے پر مجبو رہوا۔سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا۔یورپ کے بڑھتے ہوئے احساس ِ عدم تحفظ نے یورپی یونین کو بھارت کے ساتھ دوعشروں پر محیط گفت وشنید کو ایک ایسے معاہدے پر مجبور کیا جسے دونوں نے مادرآف آل ڈیلز قراردیا۔برطانیہ جو پورپ کا اہم ملک تھا کے وزیر اعظم کئیر سٹارمر چین جا پہنچے اور جہاں انہوں نے طویل المدتی معاہدات کئے۔کئیر سٹارمر نے چین میں پیش کئے جانے والے گارڈ آف آنر کا جواب کمر جھکا دیا جس پر یہ تبصرہ ہوا کہ برطانوی وزیر اعظم نے تسلیم کرلیا ہے کہ طاقت کا مرکز تبدیل ہو گیا ہے۔گویاکہ یہ چین کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی ایک ادا تھی۔یہی نہیں شام کے صدر محمد الشرح امریکہ کے ساتھ قبول وایجاب کے اچھے پس منظر کے باوجود ماسکو پہنچ گئے۔برکس کے بعد یورپی یونین نے بھی نو بلین ڈالر مالیت کے امریکی سودی بانڈز فروخت کر دئیے حالانکہ ٹرمپ ایسا نہ کرنے کی دھمکی دے چکے تھے۔جس دن امریکہ کو بانڈز نے بیچنے کی دھمکی دی اس کے دوسرے ہی روز یورپی یونین نے یہ بانڈز فروخت کرکے امریکہ کو جیو پولٹیکل پیغام دیا۔ڈنمارک نے یورپی یونین کا رکن ہے۔ڈنمارک کے ادارے ڈینش پنشن نے ایک سوملین ڈالر کے امریکی بانڈز فروخت کر دئیے۔مجموعی طور پر یورپی ملکوں نے 8.9بلین ڈالر کے بانڈز فروخت کر دئیے۔یورپی یونین کے اس فیصلے کو معاشی کی بجائے سیاسی کہا جا رہا ہے۔جس کی وجوہات میں قانون کی حکمرانی سیاسی عدم استحکام اور امریکی خارجہ پالیسی کا رویہ قرار دیا جارہا ہے۔اس طرح ڈالر کو ضربات لگانے کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ٹرمپ نے یورپ کو گرین لینڈ اور ٹیرف کے معاملے پر جو جھٹکا دیا ہے اس نے فریقین کے درمیان بد اعتمادی کی ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے جس کو گرانا اب آسان نہیں ہوگا۔آئندہ اگر ڈالر منافع بخش بھی ہوگا تب بھی یورپ اسے محفوظ اثاثہ نہیں سمجھے گا۔یورپی یونین پنشن فنڈ نے ڈالر کو ہمیشہ خطرے سے خالی سمجھ کر سرمایہ کاری کی تھی۔اب اس کی فروخت سے دس سالہ روایت اور سوچ کی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔گرین لینڈ پر شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد یورپی یونین نے امریکہ کے 1.6ٹریلین ڈالر کے امریکی قرضے بھی روک دئیے ہیں۔پہلی بار ناٹو نے امریکہ کے بغیر فوجی مشقوں کا اعلان بھی کیا ہے۔اُدھر کینیڈا کے وزیر اعظم کارنی بلنٹی نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ البریٹا کی علیحدگی کی تحریک سے دور رہے اور کینیڈا کی سالمیت کا خیال رکھے۔ایسے میں امریکی ماہر معیشت پیٹر شیف نے پیشن گوئی کی ہے کہ امریکی ڈالر کا بلبلہ پھٹنے والا ہے۔دنیا اب امریکہ کے قالین کے نیچے سے نکل رہی ہے۔ڈالر گرنے جا رہا ہے سونا اس کی جگہ لے رہا ہے۔مرکزی بینک سونا خرید رہے ہیں۔ڈالر سے چھٹکارہ حاصل کیا جارہا ہے۔ہم ایک بار پھر مالیاتی بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔اس عالمی مالیاتی بحران سے باقی دنیا فائدہ اُٹھانے جا رہی ہے۔بس بلبلہ ڈالر میں ہے۔یہ وہی امریکی ماہر معیشت ہیں جنہوں نے جون2008کے مالیاتی بحران کی پیش گوئی کر کے خصوصی شہرت حاصل کی تھی۔گوکہ امریکہ نے بہت سے بحرانوں اور طوفانوں کے مقابلے کی محیر العقول منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور وہ فوری طور پر کسی بڑی مشکل میں پڑنے والا نہیں مگر ٹرمپ کی متلون مزاجی نے امریکہ کو پہلی پوزیشن سے دوسری کی جانب دھکیلے جانے کا عمل کچھ تیز کر دیا ہے۔

Related Articles

Back to top button