جموں و کشمیر کا تنازع برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا ناسور ہے جو تقسیمِ ہند کے فورا بعد ابھرا اور آج تک عالمی سیاست، علاقائی امن اور لاکھوں انسانوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ یہ محض دو ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازع نہیں، بلکہ ایک انسانی، اخلاقی اور قانونی جدوجہد ہے جس میں کشمیری عوام کی امنگیں، ان کا حقِ خودارادیت اور وہ قربانیاں شامل ہیں جو انہوں نے دہائیوں کے دوران دی ہیں۔ اس مسئلے کے پائیدار اور منصفانہ حل کے لیے عالمی حمایت کا حصول ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ آج کے بین الاقوامی نظام میں کوئی بڑا تنازع صرف دو طرفہ خواہشات یا جذباتی نعروں سے حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے مثر سفارت کاری، عالمی رائے عامہ کی تشکیل، بین الاقوامی اداروں کا فعال کردار اور طاقتور ریاستوں کی اخلاقی و سیاسی تائید ضروری ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے واضح قراردادیں منظور کیں جن کے تحت کشمیری عوام کو رائے شماری کے ذریعے حقِ خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا۔ تاہم دہائیاں گزر جانے کے باوجود یہ قراردادیں محض کاغذی وعدے بن کر رہ گئی ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں عالمی طاقتوں کے بدلتے مفادات، سرد جنگ کے اثرات، خطے کی اسٹریٹجک اہمیت اور بھارت کی وہ مسلسل کوششیں شامل ہیں جن کے ذریعے وہ کشمیر کے مسئلے کو اپنا اندرونی معاملہ ثابت کرنے کی سعی کرتا رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صرف اصولی موقف دہرانا کافی نہیں، بلکہ ایک منظم، مستقل اور کثیرالجہتی حکمتِ عملی کے ذریعے عالمی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔
عالمی حمایت کے حصول کا سب سے پہلا اور اہم پہلو یہ ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو مثر انداز میں دنیا کے سامنے ایک انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر پیش کیا جائے۔ آج کی دنیا میں انسانی حقوق عالمی سیاست کا ایک طاقتور ہتھیار بن چکے ہیں۔ فلسطین، یوکرین اور میانمار جیسے تنازعات میں ہم نے دیکھا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی میڈیا، سول سوسائٹی اور عالمی اداروں کے ذریعے کس طرح اجاگر کیا گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، پیلٹ گنز کا استعمال، اظہارِ رائے پر پابندیاں، طویل کرفیو اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے اقدامات وہ تلخ حقائق ہیں جنہیں ٹھوس شواہد، معتبر رپورٹس اور متاثرین کی شہادتوں کے ساتھ عالمی فورمز پر اٹھایا جانا چاہیے۔ اگر یہ بیانیہ مضبوطی سے پیش کیا جائے تو عالمی رائے عامہ خود بخود کشمیر کے حل کے لیے دبا پیدا کرے گی۔
سفارت کاری عالمی حمایت کے حصول میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان کو اپنی سفارت کاری کو محض روایتی بیانات اور احتجاجی خطوط تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ جدید سفارت کاری میں لابنگ، تھنک ٹینکس، میڈیا اور ڈیجیٹل سفارت کاری کلیدی اجزا بن چکے ہیں۔ دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں کشمیر پر مسلسل مکالمے، سیمینارز اور بریفنگز کا انعقاد، غیرجانبدار ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو شامل کرنا، اور جموں و کشمیر کے متاثرین کی آواز کو براہِ راست دنیا تک پہنچانا ایک مثر حکمتِ عملی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی سفارت کاروں کو مقامی سیاسی جماعتوں، پارلیمانی گروپس اور سول سوسائٹی کے ساتھ روابط مضبوط بنانے ہوں گے تاکہ جموں و کشمیر کا مسئلہ صرف سرکاری سطح تک محدود نہ رہے بلکہ عوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل کرے۔
عالمی میڈیا کشمیر کے مسئلے کے حل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے کشمیر اکثر بین الاقوامی میڈیا کی ترجیحات میں شامل نہیں ہو پاتا، جس کی ایک وجہ خطے کی پیچیدہ سیاست اور دوسری وجہ مثر میڈیا حکمتِ عملی کا فقدان ہے۔ پاکستان اور کشمیری قیادت کو بین الاقوامی میڈیا کو معتبر مواد، رپورٹس، دستاویزی فلمیں اور متاثرین کی ذاتی کہانیاں فراہم کرنی چاہئیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں یہ کام مزید آسان ہو چکا ہے، جہاں ایک ویڈیو، تصویر یا عینی شاہد کی گواہی عالمی توجہ حاصل کر سکتی ہے۔ اگر یہ مواد منظم اور پیشہ ورانہ انداز میں پیش کیا جائے تو عالمی میڈیا کشمیر کے مسئلے کو سنجیدگی سے لے گا۔
دنیا بھر میں مقیم کشمیری اور پاکستانی کمیونٹیز ایک طاقتور انسانی نیٹ ورک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ برطانیہ، امریکہ، یورپ اور مشرقِ وسطی میں کشمیری برادری نہ صرف مقامی سیاست پر اثرانداز ہو سکتی ہے بلکہ میڈیا، تعلیم اور سول سوسائٹی میں بھی اپنی آواز بلند کر سکتی ہے۔ اگر ان کمیونٹیز کو ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کیا جائے اور ان کی سرگرمیوں کو واضح حکمتِ عملی کے تحت ہم آہنگ کیا جائے تو عالمی حمایت کے حصول میں نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔
قانونی محاذ بھی عالمی تائید حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کشمیر میں بھارت کے اقدامات کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف، انسانی حقوق کونسل اور دیگر قانونی فورمز پر چیلنج کرنا ایک طویل مگر ضروری عمل ہے۔ اگرچہ یہ فورمز فوری حل فراہم نہیں کرتے، تاہم یہ عالمی سطح پر اخلاقی اور قانونی دبا پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ خاص طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے طور پر پیش کرنا عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ سکتا ہے۔
علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن بھی کشمیر کے حل کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے میں نہایت اہم ہے۔ چین، ترکی اور ملائیشیا جیسے دوست ممالک کی اخلاقی و سیاسی حمایت اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ، یورپی یونین اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ روابط بھی ضروری ہیں۔ ان ممالک کے بھارت کے ساتھ معاشی اور اسٹریٹجک مفادات ایک حقیقت ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم یہی ممالک انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے علمبردار ہونے کا دعوی بھی کرتے ہیں۔ اگر پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کو ان ممالک کے اپنے دعووں کے تناظر میں مثر انداز سے اجاگر کرے تو عالمی حمایت کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
داخلی استحکام اور قومی یکجہتی بھی کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے عالمی حمایت کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ صرف ایک مضبوط، مستحکم اور معاشی طور پر مستحکم پاکستان ہی مثر سفارت کاری کر سکتا ہے۔ اندرونی تقسیم، کمزور معیشت اور ادارہ جاتی عدم استحکام عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو کمزور کرتے ہیں۔ اس لیے کشمیر پر قومی اتفاقِ رائے، مستقل پالیسی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر متحدہ مقف پیش کرنا ناگزیر ہے۔ جب دنیا ایک قوم کو اپنے اصولی موقف پر متحد دیکھتی ہے تو اسے زیادہ سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
تعلیم، تحقیق اور علمی مکالمہ بھی عالمی حمایت کے حصول میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دنیا کی ممتاز جامعات اور تحقیقی اداروں میں کشمیر پر سنجیدہ تحقیق، کانفرنسز اور پالیسی پیپرز کی ضرورت ہے۔ اگر کشمیر کو محض سیاسی تنازع کے بجائے ایک کثیرالجہتی مسئلے کے طور پر علمی سطح پر زیرِ بحث لایا جائے تو یہ عالمی پالیسی سازوں کی سوچ کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں پاکستانی اور کشمیری اسکالرز کو بین الاقوامی تحقیقی نیٹ ورکس میں شامل کرنا اور انہیں وسائل فراہم کرنا ایک دانشمندانہ قدم ہوگا۔
آخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ عالمی حمایت ایک رات میں حاصل نہیں ہوتی؛ یہ ایک طویل، صبر آزما اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جموں و کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کو جذباتی ردِعمل کے بجائے طویل المدت، حقیقت پسندانہ اور کثیرالجہتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ انسانی حقوق، سفارت کاری، میڈیا، قانونی اقدامات اور داخلی استحکام سمیت تمام عناصر کی مشترکہ کوشش ہی عالمی حمایت کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ جب عالمی ضمیر بیدار ہوگا، جب دنیا یہ سمجھے گی کہ جموں و کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار اور بین الاقوامی قانون کا امتحان ہے، تب ہی منصفانہ حل کی راہ ہموار ہو سکے گی۔ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ صرف کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم رکھے گا بلکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کی بنیاد بھی رکھے گا اور یہی وجہ ہے کہ عالمی حمایت کا حصول اس وقت کی سب سے اہم اور فوری ضرورت بن چکا ہے۔
٭٭٭




