کالمز

5 فروری یوم یک جہتی کشمیر۔۔۔۔!

5 فروری یوم یک جہتی کشمیر,اللہ پاکستان و آزادکشمیر کو سلامت رکھے،مقبوضہ کشمیرکو آزادی نصیب ہو،عالم اسلام کی خیر ہو،سول و مسلح افواج پاکستان کے شہداء کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔اللہ پاک شہداء کے درجات بلند کرے۔وزیراعظم آزادکشمیر جناب راجہ فیصل ممتاز راٹھور کے احکامات پر 5 فروری یوم یک جہتی کشمیرکو ضلع بھمبر کے صدر مقام،تینوں تحصیلوں میں بھرپور انداز میں منایاجارہاہے،تمام انتظامات مکمل ہیں 5 فروری کوپنجاب سرحدی باونڈری بڑھنگ باب کشمیرچڑویالہ گیٹ کے مقام بھمبر و گجرات انتظامیہ عوام کے ہمراہ پرانسانی ہاتھوں کی زنجیربنائے گی،10 بجیسائرن بجا کر ایک منٹ خاموشی،ٹریفک روک دی جائے گی،ڈپٹی کمشنر چوہدری حق نواز کے احکامات پر داخلی خارجی رستوں پر پاکستانی و کشمیری پرچم،جھنڈیاں لگانے،قومی تقریبات کمیٹی کومتحرک،ویڈیوکوریج ویڈیوپیغامات کی ریکارڈنگ،سوشل میڈیا و دیگر ذرائع ابلاغ پر بھرپور کوریج،ملازمین کی حاضری،واٹس ایپ گروپ بنانے،سپورٹس کے خصوصی مقابلہ جات،بلڈڈونیشن کیمپ،ترانوں کی عملی مشقوں،ڈی ایچ کیو،ڈی ایچ او آفس میں بینرز،خون کے عطیات،تمام سرکاری عمارات پر پرچم،بلدیہ و ضلع کونسل کی حدود میں پرچم کشائی،جیل قیدیوں کوکھانا،مساجد میں دعاوں،مقبوضہ کشمیر کی آزادی،ملی نغموں،سیکورٹی ٹریفک پلان سمیت دیگر تمام انتظامات پر عمل ہوگا۔بنک،پاسپورٹ و دیگرنجی فرنچائز پرپرچم کشائی ہو گی۔پانچ فروری کومساجد میں صبح کاآغازدعاوں سے ہوگام 9 بجے صبح ڈی سی آفس سے باب کشمیر گیٹ کی جانب مارچ کرے گا۔ ڈی ایچ کیو میں بلڈ بنک،باب کشمیر پر شجرکاری،4 فروری کو شام کے وقت میرپور چوک میں شمعیں روشن کرنے،200 بائیکرز کو پنجاب سے ویلکم کرنے داخلی خارجی رستوں پرپرچم لگانے ایس ڈی ایم محمدسہیل بشیر کو تقریب کا منتظم،افسر مال قیصرمحمودشمس کو فوکل پرسن مقرر کرنے،دستخطی مہم،میڈیکل کیمپ لگانے،خون کے عطیات،سٹیڈئیم میں فٹ بال ودیگر کھیلوں کے انعقاد،پریس کلب میں کیک کاٹنے کشمیر بلڈ بنک کے دورے،ویڈیو پیغامات،خصوصی سیکورٹی و ٹریفک پلان،سرکاری و پرائیوٹ سکولز میں یکم سے 5 فروری تک آگاہی و ترتبیتی سیمیناز جاری ہیں۔۔اب اس دن کاتاریخی پس منظر بھی قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔(پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو منایا جاتا ہے، اس دن دنیا کو یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام جو اپنا حق خودارادیت مانگ رہے ہیں وہ ان کا بنیادی حق ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں،مقبوضہ وادی کے مظلوم کشمیریوں سے پاکستان و آزادکشمیر کی حکومتیں سول سوسائٹی و عوام مشترکہ کاوشوں سے یہ دن مناتی ہیں،انسانی ہاتھوں کی زنجیر خصوصی توجہ کا مرکزہوتی ہے)یوم یکجہتی کشمیر، پاکستان میں قومی تعطیل کا دن ہے۔ اس دن پاکستانی حکومت و عوام مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کرتی ہے۔پاکستان 5 فروری کو منقسم کشمیر کے سبھی حصوں میں بسنے والے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کا دن مناتا ہے۔ یہ دن منانے کا سلسلہ گذشتہ کئی سال سے بلا تعطل جاری ہے جس میں پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں احتجاجی جلسے منعقد کرتی ہیں اور سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت 1975ء میں وزیر اعظم پاکستان ذوالفقارعلی بھٹو نے 28 فروری کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا۔ اس دور کی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ احتجاج بھرپور قوت و شدت سے تھا پاکستان بھر لوگوں نے اپنے مویشیوں کو پانی تک نہیں پلایا۔ یہ دن منانے کی تجویز وزیر اعظم بھٹو کو دینے والوں میں جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد مرحوم کے علاوہ آذاد کشمیر کے اس وقت کے صدر و بانی صدر آزاد حکومت سردار محمد ابراہیم خان پیش پیش تھے۔تاہم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ایک دن مخصوص کرنے کا مطالبہ 1990ء میں قاضی حسین احمد نے میاں نواز شریف کی مشاورت سے کیا اور اس کی فوری تائید وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی کی۔یوں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین کی تحریک پر 5 فروری 1990ء کووفاقی حکومت کی طرف سے یوم یکجہتی کشمیر کو سرکاری سطح پرہر سال منانے کا اعلان کیاگیا جو آج بھی جاری ہے۔

Related Articles

Back to top button