
شب برأت توبہ و بخشش کی رات ہے۔ گناہوں سے توبہ کرنے والا نرم دل ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی غمی خوشی، جشن و سوگ اورمعاملاتِ زِندگی میں سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اپنا کر دنیا و آخرت کی کامرانی حاصل کرنا ہے۔ فضیلت والی راتوں میں توبہ و مغفرت کے خزانہ سمیٹ کر قرب خداوندی حاصل کرنا ضروری ہے۔ جب ماں اپنی اولا کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تو اللہ تعالیٰ 70 ماؤں سے زیادہ بندہ سے محبت فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امت رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کیلئے توبہ کا دروازہ تا دمِ آخر کھلا رکھا ہے۔ شب برأت مغفرت کے خزانے لوٹاتی ہے۔ توبہ کا دَر دکھاتی ہے۔ عالم اسلام کو قربِ الٰہی کی طرف بلاتی ہے۔ شعبان المعظم رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا پسندیدہ مہینہ ہے۔ نسبت مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی برکت حاصل کرنے کیلئے اس ماہ مقدس کو عبادت و ریاضت میں بسر کرنا چاہیے۔ ہمیں مقدس راتیں جہاں توبہ و معافی کی طرف بلاتی ہیں وہاں اجتماعی عبادات و نوافل ہمیں ہمدردی، احترام انسانیت اور غمگساری بھی سکھاتی ہیں۔ برما میں مسلمانوں پر ظلم و ستم عالم اسلام کے حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہے۔ برمی مسلمان ہمارے بھائی ہیں۔ ہمیں دنیا کے مسلمانوں کے حقوق کی آواز بلند کر کے قرب مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم حاصل کرنا ہے۔ مسلم حکمران باہمی اختلافات مٹا کر متحد ہو جائیں اور کشمیر، برما سمیٹ جہاں جہاں مسلمان ظالموں کے ظلم کا شکار ہیں اُن کی مدد اور آزادی کی صدا بلند کرنی چاہیے۔ شب برأت کی آمد آمد ہے ہمیں اپنے اعمال کا احتساب کرنا ہو گا۔ ملک و ملت کو اس وقت مذہبی و سیاسی اتحاد کی ضرورت ہے۔ استحکام پاکستان اور عالم اسلام کی سربلندی کیلئے ’گنبد خضریٰ کے سائے تلے ہم ایک ہیں“ کا نعرہء مستانہ بلند کرنا ہے۔ آج ہمیں اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے۔ جو بندہ سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے مخلوق میں عزت عطا فرماتا ہے۔ مومن رحمتِ خدا سے کبھی نااُمید نہیں ہوتا۔ ماں باپ کا نافرمان، عادی شرابی وزانی، سود خور، جادوگر اور قطع تعلقی کرنے والے توبہ کے بغیر نہیں بخشا جا سکتا۔ شب برأت پر اسلام کے بنیادی ارکان کا مکمل نفاذ کا اعلان کر دیا جائے تو ملک خوشحال ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے بے حد محبت کرنے والا ہے آج کی رات اہل اسلام کثرت سے ذِکر الٰہی میں مشغول ہو کر خدا کو راضی کر سکتے ہیں خوش قسمت ہیں وہ اہلیان ایمان جن کو شب برأت جیسی بابرکت رات نصیب ہو رہی ہے آج کی رات زیادہ سے زیادہ نوافل، صلوٰۃ التسبیح، ذِکر و اذکار اور اپنے گناہوں کی اللہ کے حضور گڑگڑا کر معافی مانگی جائے۔
حضرت اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو تمام مہینوں سے زیادہ پیارا مہینہ شعبان تھا۔
خود خالق دو جہاں اس رات کی تعریف اپنے قرآن مجید میں اس طرح فرماتا ہے: (ترجمہ) ”قسم ہے اس روشن کتاب کی ہم نے اسے برکت والی رات میں اُتارا۔ بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام۔ ہمارے پاس کے حکم سے بے شک ہم بھیجنے والے ہیں تمہارے رب کی طرف سے رحمت، بے شک وہ سنتا ہے جانتا ہے“۔ (پارہ ۵۲، سورت دخان)
حدیث شریف میں ہے کہ شعبان کی پندرہویں رات میں خدئے ذوالجلال اس سماء دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے۔ یعنی اس کی رحمت نازل ہوتی ہے اور کارکنان غیبی اللہ تعالیٰ کے سامنے سال بھر کے اعمال نامے پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد احکم الحاکمین اپنی شفقت سے بندوں کو پیارے خطاب سے فرماتا ہے: ”خبردار ہے کوئی مغفرت مانگنے والا کہ میں اس کے گناہوں کو بخش دوں، خبردار ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اس کو رزق دوں، خبردار ہے کوئی کسی مصیبت میں گرفتار کہ میں اس کو معافی عطا کرو، خبردار ہے کوئی ایسا ایسا یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے“۔ (رواہ ابن ماجہ والبہیقی)۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات میں لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس رات میں اس قدر لوگوں کے گناہ معاف فرماتا ہے کہ ان کی تعداد بنی کلب کے قبیلہ کی بکریوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ (غنیۃ الطالبین ج ۱۔ص ۱۹۱، مشکوٰۃ ۴۱۱)
سیدنا حضرت علی المرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: (ترجمہ)”جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو اس رات میں قیام کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو“۔ (مشکوٰۃ ص ۵۱۱)
ایک روایت میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ آلہٖ وسلم نے فرمایاکہ: جو میرا نیاز مند اُمتی شب برأت میں دس رکعت نفل اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد قل ھو اللہ احمد گیارہ گیارہ بار پڑھے تو اس کے گناہ معاف ہوں گے اور اس کی عمر میں برکت ہو گی۔ (نزہۃ المجالس ج۱ص۲۹۱)
اج کی رات کے صدقے اللہ پاک میرے والدین کی بخشش اور مغفرت فرمائے میرے بھانجے جس نے وطن پاکستان کی سالمیت کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا میجر سید رب نواز طارق گیلانی جام شہادت نوش کرنے والے اللہ جی میرے بھانجے کو شہادت کو قبول فرما اور اسے اس کے درجات کو بلند فرما ے اور اس کی شہادت کے صدقے ملک پاکستان میں امن نصیب فرما ے اللہ پاک ہم سب پہ اپنا خصوصی کرم فرمائے ہر نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ا یک دوسرے کے ساتھ دلوں کو جتنی قدورتیں بھی ہیں وہ دور فرمائے اور سب کو بامشیر و شکر کر دے امین ثم امین




