کالمز

فکری انتشار میں مبتلا قوم

آزاد کشمیر کی بعض سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کی زبان سے بار بار یہ نعرے سنائی دیتے ہیں کہ
“ریاست جموں و کشمیر ایک اکائی اور ناقابلِ تقسیم وحدت ہے”
“کشمیر ہمارا ہے، سارے کا سارا ہے”
یہ نعرے سن کر اور پڑھ کر مجھے 1980ء کی اوائل میں مہاراجہ کرن سنگھ کی وہ گفتگو یاد آتی ہے جو انہوں نے کشمیر کے ایک گورنر سے کرتے ہوئے کی تھی:“مجھے حیرت ہے کہ ہمارے بزرگوں نے اس متضاد جغرافیے، مختلف ثقافتوں اور جداگانہ مذاہب پر مشتمل اکائیوں کو کس طرح ایک کچی ڈوری سے باندھے رکھا، حالانکہ ان میں نہ کوئی قدرِ مشترک تھی اور نہ ہی ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کا جذبہ۔”یہ محض ایک رائے نہیں بلکہ ریاست کے وارث کے منہ سے نکلا ہوا سچ ہے—یعنی
from the horse’s mouth
ریاستِ جموں و کشمیر کی بنیاد کسی فطری وحدت پر نہیں بلکہ طاقت، مصلحت اور توسیع پسندانہ حکمرانی پر رکھی گئی تھی۔ اس کا بنیادی یونٹ جموں تھا، جہاں ہندو حکمرانی قائم تھی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے 1822-23ء میں گلاب سنگھ ڈوگرہ کو یہ علاقہ بطور جاگیر عطا کیا۔ اس کے بعد ڈوگرہ خاندان نے فوجی طاقت کے بل پر بسوہلی، راجوری، کشتواڑ، اکھنور، پونچھ، لداخ اور گلگت کے بعض علاقوں کو شامل کیا، جبکہ کشمیر 1819ء سے ہی رنجیت سنگھ کے قبضے میں تھا اور گلاب سنگھ کی نگرانی میں رہا۔ یہ سب علاقے نہ اس وقت فکری طور پر ہم آہنگ تھے، نہ آج ہیں —اور یہی تاریخی سچ ہے جس سے ہم آنکھ چرا رہے ہیں، وحدت اور اکاء کا راگ الاپ رہے ہیں جس کی تردید اس کی ہر اکاء کی کی زمینی اور سیاسی حالت سے نظر آتی ہے جہاں وادی جل رہی ہے، جموں دفعہ 370 کے خاتمے پر شادیانے بجا رہا ہے، لداخ اور گلگت بلتستان لا تعلق اور آزاد کشمیر روز مرہ کی زندگی میں مصروف ہیں – آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان اسی متضاد اور غیر ہم آہنگ ریاست کے بکھرے ہوئے حصے ہیں —اگرچہ پاکستان کی حد تک ان میں ایک عملی ہم آہنگی ضرور پیدا ہو چکی ہے۔ ان کی جغرافیائی شناخت واضح ہے، مگر سیاسی و قانونی حیثیت آج بھی“پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں و کشمیر کے متنازعہ حصے”سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ ریاست کا اصل اور بڑا حصہ ہندوستان کے زیر انتظام رہا، جسے سلامتی کونسل نے ریاست جموں و کشمیر کے طور پر تسلیم کیا، کیونکہ آخری حکمران، دارالحکومت اور ریاستی ڈھانچہ وہیں موجود رہا۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں نے آزاد کشمیر کی حکومت کو باقاعدہ ریاستی حیثیت تو نہ دی، البتہ یہاں کے عوام کی جدوجہد کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں سلامتی کونسل کے زیر اہتمام لوکل اتھارٹی قرار دیا—سیاسی و انتظامی اختیارات کے وعدے کے ساتھ، جو عملاً کبھی وفا نہیں ہو سکا۔ سلامتی کونسل میں مسئلہ پہنچنے سے پہلے ہی ریاست کے بعض حصے مقامی لوگوں کے کنٹرول میں آ چکے تھے، جبکہ باقی علاقوں میں جنگ جاری تھی۔ انہی حالات میں 24 اکتوبر 1947ء کو آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر قائم کی گئی—جو اپنے اعلامیے میں آزاد، خود مختار اور سیکولر تھی۔ سردار محمد ابراہیم خان صدر مقرر ہوئے، کابینہ میں پانچھ مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرنے والے لوگ اور آزاد کشمیر کا ایک نمائندہ شامل تھا، جبکہ عوام محاذوں پر اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھے ہوئے لڑ رہے تھے۔ یکم جنوری 1949ء کو ہندوستانی اور پاکستانی فوجی کمانڈروں نے جنگ بندی کردی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے، اور باقی ریاست ہندوستان کے زیرِ قبضہ سمجھے گئے۔ یوں 24 اکتوبر والا آزاد اور خود مختار حکومت کا تصور عملی طور پر دم توڑ گیا۔ 28 اپریل 1949ء کو معاہدہ کراچی طے پایا، جس نے آزاد کشمیر کو باضابطہ طور پر پاکستان کے دائر? اختیار میں اور گلگت بلتستان سے دست برداری دے دی —بغیر عوامی رائے، بغیر آئینی وضاحت کے – یکم جولائی 1949ء کو جنگ بندی لائن کھینچی گئی، جو آج بھی ریاست کی بین الاقوامی تقسیم کا قانونی حوالہ ہے۔ 1972ء کے شملہ معاہدے نے اسے لائن آف کنٹرول کا نام دیا، اور عالمی طاقتیں لائین آف کنٹرول کی محافظ بن گئیں۔ معاہدہ کراچی کے بعد سیاست کا محور آزادی نہیں، مفاد بن گیا۔ دھڑے بندیاں ہوئیں، وزارتِ امورِ کشمیر کی مداخلت بڑھی، مہاجر سیاسی کارکنوں کو وظائف کے ذریعے تابع کیا گیا۔ اپریل 1950ء میں مسلم کانفرنس اور کشمیر منسٹری کی ملی بھگت سے سردار محمد ابراہیم خان کی برطرفی نے اس انتشار کو پھیلا کے گہرا کر دیا – یوں منزل کا تصور محض تقریروں تک محدود ہو گیا اور فکری انتشار ایک مستقل کیفیت بن گیا۔ گلگت بلتستان پہلے ہی پاکستان کے زیر انتظام تھا۔ معاہدہ کراچی کے بعد آزاد کشمیر کی قیادت نے وہاں سے دستبرداری اختیار کی۔ آج بھی وہاں کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق اور صوبہ بننے کے وعدے پر قائم ہیں۔ ان میں فکری انتشار نہیں —مگر ایک گہری حیرت ضرور ہے کہ ان کی آواز کیوں نہیں سنی جاتی۔ آزاد کشمیر کے اندر سیاست دان، مرکزی بیوروکریسی اور وزارتِ امورِ کشمیر کے ساتھ اقتدار کے سودوں میں مصروف ہیں۔ آزادی کا نعرہ محض اقتدار کی سیڑھی بن چکا ہے۔ 24 اکتوبر کی روح دفن ہو چکی ہے، مگر یہ دن معاہدہ کراچی اور شملہ معاہدہ کے با وجود آج بھی رسمی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ نہ آزاد کشمیر آزاد ہے نہ غلام اور نہ ہی پاکستان کا آئینی حصہ۔ ایک عبوری آئین کے سہارے چلنے والا یہ نظام حقیقت میں بیوروکریسی کے رحم و کرم پر ہے۔ مر کزی اور مقامی قانون سازی، مقامی حکومت سازی اور پالیسی سازی سب کشمیر ایشو کے نام پر کنٹرول ہوتی ہے جس میں عوامی شمولیت فرض کی جاتی ہے۔ آزاد کشمیر کے سیاست دانوں کا صورت کو بحال رکھنے پر ایکا ہے — اس میں کسی بھی تبدیلی اور ان کے مفاد کے خلاف بات سے مسئلہ کشمیر خطرے میں پڑ جاتا ہے – پاکستان کے حق میں بلند و بانگ دعوے لیکن“ ریاستی ڈھانچہ کو کوء بدل رہا ہے اور ایکشن کمیٹی اس کا ساتھ دے رہی“ والی زو معنی باتیں کر کے لوگوں کو اکسایا جاتا – کہا جاتا ہے کہ آزاد کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں، مگر چلایا صوبے کی طرح جاتا ہے۔ اس کے باشندے پاکستانی شہری نہیں، مگر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پاکستانی ہیں۔ فیصلوں میں نمائندگی نہیں، مگر اطاعت مکمل زمہ داری ہے۔ سرکاری نو کریوں اور عوامی نمائیندگی کے اداروں میں الحاق پالستان کا حلف لازمی لیکن کشمیر صوبہ نہیں بن سکتا – یہی تضادات نئی نسل کو سب سے زیادہ ذہنی اضطراب اور فکری انتشار میں مبتلا کر رہے ہیں۔ اسی فرسٹریشن سے عوامی ایکشن کمیٹی نے جنم لیا، جو نعروں کے بجائے مسائل کی بات کر رہی ہے۔ کچھ مسائل دباؤ سے حل ہوئے، کچھ پر بات چیت جاری ہے—خصوصاً مہاجر نشستوں کا مسئلہ، جسے عوام استحصالی اور مقتدر حلقے مسئلہ کشمیر کا جز قرار دیتے ہیں۔ یہ سب مقامی مفاد پرست ٹولہ اور مرکزی انتظامی کنٹرول کے حربے ہیں جس کا تحفظ مر کز سے فیض پانے والے سیاست دان کرتے ہیں۔ عوام میں فکری انتشار کا علاج سٹرکچرل اور آئینی اصلاحات ہیں —جو سیاسی اقتدار کے حامل سیاستدان مرکزی بیرو کریسی کی ملی بھگت سے ہونے نہیں دیتے – کوئی ملکی اور قومی مفاد کی نظر سے نہیں بلکہ زاتی اور خاندانی مفاد سے سو چتا ہے – سیاست کو گھر اور برادری کا کارو بنایا ہے – ہر کوئی اپنے مفاد کے مطابق نظام، حکومت اور کشمیر کا حل چاہتا ہے۔ اب ذمہ داری حکومتِ پاکستان پر ہے کہ تاخیری حربوں اور وقتی مفاہمت کے بجائے پاکستان کے قومی اور دفاعی مفاد میں آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ ایک واضح، شفاف اور حقیقت پسندانہ عمرانی معاہدہ کرے—جو زمینی حقائق، عوامی خواہشات اور مسلمہ آئینی اصولوں سے ہم آہنگ ہو جس میں دو رنگی اور تضاد نہ ہو، یک رنگی اور یک سوء ہو – کشمیر یقینآ ایک مسلہ ہے جس کا پاکستانی فوج اور مقبوضہ کشمیر میں قربانی دینے والے کشمیریوں کو مکمل ادراک ہے – کشمیر کیمسئلے اور تحریک آزادء کشمیر کے نام پر بلیک میل کرنے والوں کا اپنا ایجنڈا ہے جن کا تعلق اقتدار کے ساتھ ہے کشمیر کے ساتھ نہیں – قوم کا فکری انتشار اس وقت تک بڑھتا رہے گا؛
جب تک آئینی ڈھانچہ واضح نہیں ہوگا،
جب تک قول و فعل میں تضاد رہے گا،
جب تک حکمران اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بحال نہیں ہوگا— نہ حب الوطنی پیدا ہوگی، نہ اطمینان۔ حب الوطنی کا مطلب صرف وطن پرستی ہو مطلب پرستی نہیں –
اسی ادراک کی ضرورت ہے اور یہی اصل سوال ہے
٭٭٭٭٭

Related Articles

Back to top button