
یومِ یکجہتی کشمیر پاکستان کے قومی شعور میں محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور مسلسل عہد کی علامت ہے۔ یہ دن ہمیں اس وعدے کی یاد دلاتا ہے جو پاکستان نے اپنے قیام کے اولین لمحے میں کشمیری عوام سے کیا تھا، اور جس پر سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پاکستان کی ریاست، اس کی عوام اور اس کے ادارے پوری استقامت کے ساتھ قائم ہیں۔ 5 فروری 2026 کو منایا جانے والا یومِ یکجہتی کشمیر اس حقیقت کا اعلان ہے کہ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے رجحانات، علاقائی طاقتوں کی کشمکش اور وقتی سفارتی دباؤ کے باوجود کشمیر پاکستان کے قومی بیانیے، نظریاتی اساس اور سلامتی کے تصور کا مرکزی جزو ہے۔ یہ مسئلہ نہ فراموش ہوا ہے اور نہ ہی اسے فراموش کیا جا سکتا ہے۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ کا یہ تاریخی اور دوررس جملہ کہ“کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے”محض ایک جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک مکمل ریاستی وژن اور اسٹریٹجک سوچ کا مظہر تھا۔ تقسیمِ ہند کے اصولوں، 3 جون 1947 کے منصوبے اور برصغیر کی مسلم اکثریتی ریاستوں کے فطری الحاق کے تصور کی روشنی میں کشمیر کا پاکستان سے تعلق کسی ابہام کا محتاج نہیں تھا۔ کشمیر کی مسلم اکثریت، اس کا جغرافیائی محلِ وقوع، اس کے آبی وسائل اور اس کی تہذیبی و ثقافتی وابستگی اس حقیقت کو مزید مستحکم کرتی ہے کہ کشمیر کا پاکستان سے رشتہ محض سیاسی نہیں بلکہ فطری، تاریخی اور تہذیبی ہے۔ قائداعظمؒ نے کشمیر کو صرف ایک علاقائی تنازع کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے پاکستان کی سلامتی، بقا اور نظریاتی تشخص کے تناظر میں سمجھا، اور یہی وژن آج بھی پاکستان کی ریاستی پالیسی کی بنیاد ہے۔
19 جولائی 1947 کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل کی جانب سے الحاقِ پاکستان کی قرارداد کی منظوری کشمیری عوام کے اجتماعی شعور، سیاسی بصیرت اور قومی امنگوں کا واضح اظہار تھی۔ یہ قرارداد قیامِ پاکستان سے بھی قبل منظور ہوئی اور اس بات کا اعلان تھی کہ کشمیری عوام اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تاریخی فیصلے کو بجا طور پر کشمیر کی سیاسی جدوجہد کا میگنا کارٹا کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دستاویز ہے جو دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کسی جبر، طاقت یا مصلحت کے تحت نہیں بلکہ عوامی خواہش کے مطابق ہونا چاہیے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 5 جنوری 1949 کی قرارداد نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا اور مسئلہ کشمیر کو ایک بین الاقوامی تنازع کی حیثیت دی۔ پاکستان نے ابتدا ہی سے ان قراردادوں کو مسئلہ کشمیر کے حل کی بنیاد قرار دیا اور آج بھی اسی اصولی مؤقف پر قائم ہے۔ یہ پاکستان کا امتیاز ہے کہ اس نے طاقت کے استعمال یا توسیع پسندانہ عزائم کے بجائے ہمیشہ بین الاقوامی قانون، اخلاقی اصولوں اور انصاف کی بات کی۔ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف کسی وقتی فائدے یا سیاسی مصلحت پر مبنی نہیں بلکہ ایک دیرپا، اصولی اور اخلاقی بنیاد رکھتا ہے۔
24 اکتوبر 1947 کو آزاد حکومتِ جموں و کشمیر کا قیام کشمیری عوام کی مزاحمت، خودداری اور سیاسی عزم کی عملی تصویر ہے۔ پاکستان نے نہ صرف اس حکومت کو تسلیم کیا بلکہ آزاد کشمیر کی سیاسی، انتظامی اور معاشی سرپرستی کو اپنی ریاستی ذمہ داری سمجھا۔ آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی، اس کے اداروں کا استحکام اور وہاں کے عوام کی فلاح پاکستان کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جو کشمیریوں کو اپنے وجود کا حصہ سمجھتی ہے۔ اسی طرح مہاجرینِ جموں و کشمیر، جو پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہیں، انہیں سیاسی نمائندگی، آئینی شناخت اور ریاستی سرپرستی دینا اس حقیقت کا مظہر ہے کہ پاکستان کے نزدیک کشمیر کوئی بیرونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک زندہ قومی ذمہ داری ہے۔
بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، شملہ معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی تھا۔ اس اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال بدترین شکل اختیار کر چکی ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبریں، طویل فوجی محاصرے، میڈیا بلیک آؤٹ اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی منظم کوششیں اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ بھارت طاقت کے زور پر ایک زندہ قوم کی آواز دبانا چاہتا ہے۔ اس کے باوجود کشمیری عوام کا حوصلہ کمزور نہیں پڑا۔ ان کی جدوجہد اس یقین سے جڑی ہوئی ہے کہ ظلم وقتی ہوتا ہے اور حق آخرکار غالب آتا ہے۔
پاکستان نے ہر عالمی فورم پر کشمیر کے مسئلے کو مؤثر، مدلل اور مسلسل انداز میں اجاگر کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، یورپی پارلیمنٹ اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں میں پاکستان نے بھارتی مظالم کو دستاویزی شواہد کے ساتھ پیش کیا۔ یہ سفارتی جدوجہد کسی ایک حکومت یا ایک دور تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی مستقل ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر کشمیر کے معاملے پر پوری قوم، تمام ادارے اور تمام حکومتیں ایک صفحے پر رہی ہیں، اور یہی قومی یکجہتی پاکستان کی اصل قوت ہے۔
مئی 2025 میں آپریشن بنیانُ المرصوص / معرکہ? حق کے بعد پاکستان نے نہ صرف عسکری سطح پر اپنی دفاعی صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت اور اسٹریٹجک ضبط کا مظاہرہ کیا بلکہ سفارتی محاذ پر بھی غیر معمولی افتخار حاصل کیا۔ عالمی برادری نے پاکستان کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل، خطے میں استحکام کے لیے اس کی کوششوں اور واضح دفاعی مؤقف کو تسلیم کیا۔ یہ مرحلہ اس حقیقت کا عملی ثبوت تھا کہ پاکستان محض ایک مضبوط دفاعی قوت نہیں بلکہ ایک بالغ نظر، ذمہ دار اور امن کے تقاضوں کو سمجھنے والی ریاست ہے۔ اس سفارتی اعتماد نے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مزید وزن دیا اور یہ بات واضح ہوئی کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے، نہ کہ پاکستان۔
اسی پس منظر میں اس وقت سب سے بڑی ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی اس سفارتی ساکھ، عسکری اعتماد اور اخلاقی برتری کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مزید مؤثر انداز میں ہائی لائٹ کرے۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات، طاقت کے نئے مراکز اور ڈیجیٹل میڈیا کے اثرورسوخ کے تناظر میں کشمیر کے مقدمے کو محض روایتی بیانات اور سالانہ تقاریب تک محدود رکھنا کافی نہیں۔ اب ایک ہمہ جہت، مربوط اور جدید قومی حکمتِ عملی ناگزیر ہو چکی ہے جس میں سفارت کاری، دفاع، میڈیا، قانونی محاذ اور عوامی بیانیہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔
پاکستان کی عسکری قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں، قومی سلامتی کے تقاضوں کو جس پیشہ ورانہ بصیرت اور استقامت کے ساتھ نبھا رہی ہے، وہ اس امر کی ضمانت ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا مؤثر اور فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ عسکری تیاری اور دفاعی استحکام دراصل سفارتی قوت کو مزید مضبوط بناتے ہیں، کیونکہ عالمی برادری اسی ریاست کے مؤقف کو سنجیدگی سے لیتی ہے جو اپنے دفاع پر مکمل گرفت رکھتی ہو۔ یہی عسکری اعتماد پاکستان کے کشمیر بیانیے کو اخلاقی کے ساتھ ساتھ عملی قوت بھی فراہم کرتا ہے۔
سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی پاکستان کا سب سے بڑا اسٹریٹجک اثاثہ ہے۔ وزیرِاعظم میاں محمد شہباز شریف، قائد مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی قیادت میں جاری سفارتی کوششیں، اور عسکری قیادت کی مضبوط دفاعی حکمتِ عملی، ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ یہی قومی یکجہتی دنیا کو یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان میں کوئی ابہام، کوئی تقسیم اور کوئی کمزوری موجود نہیں۔
پاکستان اور کشمیر کا رشتہ محض جغرافیہ یا سیاست کا تعلق نہیں بلکہ ایک نظریاتی، تہذیبی اور ایمانی رشتہ ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جسے بجا طور پر“یک جان دو قالب”کہا جا سکتا ہے۔ پاکستانی قوم کشمیری عوام کی قربانیوں کو اپنی قربانیاں اور ان کی جدوجہد کو اپنی جدوجہد سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یومِ یکجہتی کشمیر محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ قومی عزم، اجتماعی شعور اور مشترکہ جدوجہد کی تجدید بن چکا ہے۔
5 فروری 2026 ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ کشمیر کا مقدمہ نہ وقت کی گرد میں دب سکتا ہے اور نہ عالمی مصلحتوں کی نذر ہو سکتا ہے۔ تاریخ ہمیشہ طاقت کے حق میں فیصلہ نہیں کرتی بلکہ آخرکار سچ، انصاف اور حقِ خودارادیت ہی غالب آتے ہیں۔ وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیری عوام آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے اور یہ خطہ جبر، محاصرے اور خوف کے بجائے امن، وقار اور انصاف کی علامت بنے گا۔ پاکستان اس دن تک سیاسی، سفارتی اور عسکری ہر محاذ پر—کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ یہی ہمارا عہد ہے، یہی ہماری پہچان، اور یہی ہماری قومی ذمہ داری ہے۔




