”اولیا ء اللہ کے آستانے رشدوہدایت کا منبع“
تحریر:۔سید راشد علی نقوی(المعروف سائیں دیدار علی بلوٹی لاہوتی)

سائیں سید معظم شاہ سرکار 1880ء ناملی سیداں میں سید مقیم شاہ المعروف سید یتیم شاہ سرکار کے گھر اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کے ایک بھائی سید ولایت شاہ سرکار تھے جن کی اولاد ناملی سیداں دربار کے پیچھے آباد ہے۔ آپ کے 4فرزند اور ایک بیٹی اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کے چاروں فرزند بھی اولیا ء اللہ تھے۔1سید غلام حیدر شاہ المعروف سائیں فضل حسین۔ 2سید علی اصغر شاہ۔3سید صابر حسین شاہ۔ 4سید قلندر شاہ سید معظم شاہ سرکار مادر زاد ولی تھے۔ آپ کی والدہ بچھاڑ کے کاظمی خاندان میں سے انتہائی بزرگ خاتون تھیں۔ آپ کی ابتدائی تربیت والدہ اور والد نے کی بچپن میں والد اور والدہ پاک پردہ فرما گئے۔ آپ کے ماموں جان آپ کو لے کر بچھاڑ چلے گئے اور وہیں پر اپ کی تربیت ان کے زیر نگرانی ھوئی پھر آپ متہاہی درلاں آ کر آباد ھو گئے اور محنت مزدوری کرنے لگے آپ کا زیادہ وقت عبادت میں گزرتا آپ آری کھینچ رہے تھے کے آری سے اللہ ھو کی آواز آنا شروع ہو گئی پھر آپ نے کہا یہ آری تو اللّٰہ کا زکر کر رہی آپنے نے آری کو چھوڑ دیا اور رات کو سوے تو خواب میں آپ چھتر کلاس کے مقام دریا کے کنارے سخی شاہ رنگیا امام کی بیٹھک کے پاس بیٹھے ہیں۔ آپ نے دیکھا ایک گھوڑا سوار دریا میں سے نکل کر سامنے آتے ہیں۔ جن کا گھوڑا اور اپنا لباس بالکل خشک ہے۔ بزرگ فرماتے ہیں معظم شاہ مرشد پکڑو آپ صبح بیدار ہوئے تو بار بار یہی خیال ستانے لگا کس کو مرشد پکڑوں؟ دن کو پنجاب سے ایک آدمی آیا اس نے کہا میں نے کشمیر کی سیر کرنی ہے۔ مجھے آپ کشمیر کی سیر کروائیں آپ ان کو لے کر نیلم ویلی کی طرف روانہ ہو گے رات کو آپ بلگراں کے مقام پر قیام کیا پھر وہی بزرگ خواب میں آے مرشد پکڑ و ان بزرگوں کے روہب سے یہ نہ پوچھ سکتے کس کو مرشد پکڑوں پھر دن کو سرکار وہاں سے روانہ ہوے اور خیال آیا کس کو مرشد پکڑوں اگلی رات آپ کا باڑیاں کے مقام پر قیام ہوا پھر رات کو وہی بزرگ خواب میں آے اور کہا مرشد پکڑو آپ نے ہمت کر کے پوچھا سرکار کس کو مرشد پکڑوں تو بزرگوں نے فرمایا سامنے میرپورہ میں سید محمد علی شاہ ہیں ان کو مرشد پکڑو آپ نے ساتھ آنے والے بندے کو بتایا میری منزل مجھے مل گئی ہے۔ اب آپ آگے کا سفر کریں۔ آپ سائیں محمد علی شاہ سرکار کے پاس چلے گئے اور وہیں پر مرشد پاک سائیں محمد علی شاہ سرکار نے تراشی پیالہ پلایا اور مہر ثبت کی 40دن ساتھ ڈیوٹی کی سبق حرف لیا مرشد نے حصہ دے کر واپس اپنے علاقے میں بھیج دیا آپ فقر حسینیہ جلالیہ قلندریہ سے تعلق رکھتے تھیآپ نے درلاں تکیہ بنایا اور مچ لگایا اور ساتھ ہی ایک زیارت میں چلہ کیا پھر بمقام اتہریڑی کے نالہ میں چھم کے نیچے چلہ کیا پھر موجودہ دربار کے پاس زمین کے اندر چلہ کیا چھ ماہ گزارے منزل مکمل ھونے پر خواب میں اپنے بیٹوں کو کہا میری منزل مکمل ہو گئی ہے مجھے نکالیں آپ کمزوری کے ساتھ لاغر ہو گئے دیھمک نے ٹانگوں کو کھا لیا تھا بیٹوں نے آپ کو کم مقدار میں دودھ دیا پھر آہستہ آہستہ آپ کی صحت بحال ھو گئی۔ آپ کے بے شمار مریدین ہیں آپ کے ایک خاص مرید سائیں رحمت شاہ تھے جن کو آپ نے پیالہ پلایا اور مہر ثبت کی جو سید صابر حسین شاہ سرکار کے مرشد تھیآپ کی بے شمار کرامات ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ایک مرتبہ ایک چوھدری خاندان کا بندہ احاطہ سہیلی سرکار میں راقم کو ملا اس نے سنایا کہ جب ہم سکول پڑھتے تھے آتے جاتے ہم معظم شاہ سرکار کے پاس آتے جاتے تھے سرکار ہمیں لنگر میں مکئی کی روٹی کا چوتھا حصہ اور قہوہ کی پیالی دیتے تھے تمام لوگ سیر ہو کر کھاتے تھے میں رات کو سرکار کے پاس رک گیا رات کو سرکار نے کہا آپ سب سو جاؤ سرکار بیٹھ گئے سرکار کے پاس شیر آیا سرکار کے پاؤں چاٹنے لگ گیا سائیں سید معظم علی شاہ سرکار 13ستمبر 1964ء27بھادوں 2021 بکرمی کو اس دنیا فانی سے ناملی سیداں۔ میں پردہ فرما گئے آپ کے بیٹے سید غلام حیدر شاہ سرکار بابا لٹکن شاہ سرکارچھم ڈوبہ سیداں کے طالب تھیسید مبارک شاہ نمبل اورممتاز عباسی ترچھ آپ کے خاص مریدین تھے آپ کا علیحدہ مچ موجود ہے آپ کے گدی نشین بنے آپ کے وصال کے بعد سائیں سید صابر حسین شاہ سرکار گدی نشین ہویسلمان جعفری مسینہ ضلع ہزارہ جو ترچھ سے اوپر ھے اور سید ذاکر شاہ کاظمی جو آپ کے بھتیجے تھے۔آپ کے خاص مرید تھے۔آپ کے وصال کے بعد آپ کے بھتیجے موجودہ گدی نشین سید شیراز حسین شاہ سرکارکے والد سید ذاکر شاہ گدی نشین ہوے موجودہ گدی نشین سید شیراز حسین شاہ کاظمی سرکار دم ہودہ کرتے ہیں مال مویشی کا دم بھی مشہور ہے سید صارم شاہ سرکار بھی اپنے بھائی کا بھرپور ساتھ نبھا رہے ہیں آپ کی برادری کے افراد بھی دربار پاک پر بھرپور ڈیوٹی کرتے ہیں۔ آپ کا عرس مبارک11، 12، 13، 14 ستمبر ہر سال منایا جاتا ہے۔ راولپنڈی سے سید محمود حسین شاہ ولد سید مظفر شاہ ڈالی لاتے ہیں۔ 15، 16، 17فروری کو سید غلام حیدر شاہ کاظمی سرکار اور سید صابر حسین شاہ کاظمی سرکار کا عرس منایا جاتا ہے۔سید عظیم حسین شاہ اورسید تنویر حسین شاہ اس عرس پر ڈالیاں لاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بحق محمد و آل محمد ان سب پر رحمت فرمائیں۔اس تحریر میں سائیں سید بشیر حسین شاہ بخاری طارق آباد اور سید حسین شاہ راڑہ مہاجر کیمپ راقم کے ہمراہ دربار پاک پر گئے اور معلومات حاصل کیں۔




