ڈی جی وفاقی محتسب آزادکشمیر سردار جاوید ایوب

بدل نہ سکا زمانہ مزاج اہل جنوں
وہی دلوں کے تقاضے وہی نظر کی طلب
معاملات میں خیر کے اسباب جمع ہوجانے کو توفیق کہتے ہیں۔زندگی میں ہمیشہ وہ لوگ پرسکون رہتے ہیں،جو پوری نہ ہونے والی خواہشوں پہ شکوہ کرنے کی بجائے ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں جو انہیں اللہ پاک نے عطاء کیں ہیں کچھ لوگ زندگی بھر جدوجہد اور محنت کرتے ہیں مگر ان کی خواہشات ہمیشہ ادھوری رہ جاتی ہیں جب کہ کچھ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت ہوتی ہے انہیں بہت کم محنت اور کم عمری میں وہ عروج اور شہرت نصیب ہوتی ہے جو ہر ایک کیلئے باعث تقلید بن جاتی ہیں، اللہ تعالی انہیں ہی عزتیں عطا فرماتے ہیں جو مخلوق خدا کیلئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں،ان کے مسائل کے حل کیلئے وسیلہ بنتے ہیں، اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، سب سے زیادہ چومے جانے والا پتھر(حجر اسود)اور سب سے زیادہ کنکریاں کھانے والے بھی پتھر(جمرات) ہے، قبریں اس بات کی یاد دلاتی ہیں کہ دنیا میں کچھ بھی مستقل نہیں ہے سب عارضی ہے ایک دن یہ سب چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے اس دنیا سے چلے جانا ہے۔بسا اوقات ضرورت ہوتی ہے کہ ہم بہت ساری چیزوں پراپنی گرفت نرم کر دیں کیونکہ ان کے ساتھ چمٹا رہنا زیادہ تھکا دیتا ہے،لوگوں کے لیے امید بن جانا،ٹوٹے دلوں کے لیے حوصلہ اورلڑکھڑاتے قدموں کیلئے ہمت بن جانا اگر بظاہر ناممکن ہوجائے تو اللہ وہاں سے راستہ نکالتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا، عبادات اور معاملات میں عبادات کا تعلق حقوق اللہ سے ہے اور معاملات کا تعلق حقوق العباد سے ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات رحیم وکریم ہے اس نے سانس کی ڈوری ٹوٹنے تک توبہ کا دروازہ
کھول رکھا ہے لیکن حقوق العباد کے لیے حکم ہے جس بندے کا حق مارا گیا ہے یا جس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے جب تک وہ معاف نہیں کرے گا جان نہیں چھوٹے گی۔
آزادکشمیر کے روایت پسند معاشرے میں سماجی انصاف اور ترقی پسندی کی سوچ کو عملی شکل دینے میں ہمیشہ رکاوٹیں حائل رہی ہیں تاہم پونچھ کی سرزمین سے ہمیشہ مزاحمت اور صدائے حق بلند ہوتی رہی ہے، اپنی اپنی بساط کے مطابق دھرتی کا ہرفرزند اپنے حصہ کا کردار ادا کرتا رہا ہے، یہ سردار سبز علی خا ن اور سردار ملی خان کے خاندانوں کا خاصا رہا ہے کہ ہر دور کے جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، اورحالات کا رخ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،80 کی دہائی میں جب پاکستان میں بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے متحرک تھی، سندھ باالعموم اور کراچی بالخصوص بحالی جمہوریت کی تحریک کا مرکز تھا، اس تحریک میں طلباء کا کردار نمایاں طور پر اُبھر رہا تھا، ایم آر ڈی کے پلیٹ پر طلباء کی طاقت تحریک کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کر رہی تھی اور اس طلباء تحریک کی قیادت پونچھ سے تعلق رکھنے والے نوجوان مزاحمت کار سردار جاوید ایوب کے ہاتھوں میں تھی جو پیپلزسٹوڈنٹس فیڈریشن کا پرچم سربلند کیے ہوئے قید و بند کی صعبوتوں سے گزر کر جمہوریت اور بنیادی حقوق کی بحالی کیلئے قربانیوں کی تحریک رقم کر رہے تھے، راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے جاوید ایوب اُصول علم کیلئے اپنے خاندان کے ساتھ کراچی میں مقیم تھے، والد نے اولاد کی بہتر تعلیم کیلئے کراچی کاانتخاب کیا تھااور جاوید ایوب اپنے والد کی سوچ کو عملی شکل دینے کیلئے شعوری انقلاب کیلئے سرگرم تھے، راولاکوٹ میں سکول کی ابتدائی سال گزارنے کے بعد کراچی میں سلسلہ حصول علم آگے بڑھتا رہا، جامعہ کراچی سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد جب پاکستان میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی زیر قیادت پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو سردار جاوید ایوب پیپلزسٹوڈنٹس فیڈریشن جامعہ کراچی کی صدارت کا منصب سنبھالے ہوئے تھے، پیپلزپارٹی کی حکومت کے قیام کی وجہ سے سردار جاوید ایوب کو بھی اسلام آباد کے ایوان اقتدار میں انفارمیشن کے شعبہ میں ذمہ داریاں ملیں، اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنیاد پر بہت جلد وزیراعظم وقت محترمہ بے نظیر بھٹو کا اعتماد حاصل کیا، قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی خبریں روزانہ کی بنیاد پر وزیراعظم وقت کی ٹیبل پر موجود ہوتیں اور محترمہ وزیراعظم سب سے پہلے سردار جاوید ایوب کی منتخب خبریں ملاحظہ کرتیں، جو زیادہ تر بین الاقوامی اُمور سے متعلق ہوتیں، جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت تحلیل کی گئی تو سردار جاوید ایوب کے اندر کا جیالہ اور مزاحمت کا اس فیصلے کے بعد ضمیر کی آواز کے مطابق ملازمت چھوڑ کر آزادکشمیر آ گیا جہاں راجہ ممتاز راٹھور کی زیر قیادت پیپلزپارٹی کی حکومت قائم تھی، محترمہ بے نظیر بھٹو کی ٹیم کا حصہ ہونے کی وجہ سے سردار جاوید ایوب آزادکشمیر پیپلزپارٹی اور یہاں کی حکومت کیلئے شناسا چہرے تھے، چنانچہ سرکاری دفاتر سے گزرتے ہوئے انہیں فشریز کے محکمہ میں ملازمت مل گئی اور یہ آزادکشمیر کے ہو کر رہ گئے، مختلف حیثیتوں میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے سیکرٹری حکومت کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، ان کی قائدانہ اور انقلابی صلاحیتوں کے نتیجہ میں جریدہ افسران کی تنظیم گزیٹڈ آفیسرز ایسوسی ایشن کو فعال اور متحرک ہونے کا موقع ملا، پیپلزپارٹی کے تمام ادوار حکومت میں یہ نظریات سے زیادہ اُصولوں پر کاربند رہے اور سرکاری اُمور کی انجام دہی میں کبھی بھی سیاست کو آڑے نہ آنے دیا، ریٹائرمنٹ کے بعد وفاقی محتسب کی زیر نگرانی آزادکشمیر میں وفاقی اداروں سے متعلق شکایات سننے اور ان کے ازالہ کیلئے انہیں ڈائریکٹر جنرل وفاقی محتسب مظفرآباد کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جہاں سردار جاوید ایوب وفاقی اداروں کے حوالے سے شکایات کا ازالہ کرنے اور لوگوں کے معاملات یکسو کرنے کیلئے سرگرم ہیں، ان کی زیر قیادت مختلف اضلاع میں وفاقی اداروں کے خلاف شکایات سننے کیلئے کھلی کچہریوں کا اہتمام کیا گیا تو پتہ چلا کہ ٹیلی کام سیکٹر سے پاکستان بیت المال تک آزادکشمیر میں کام کرنے والے وفاقی اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے، لوگوں کی شکایات اور معاملات کئی کئی سالوں سے زیر التواء ہیں، خصوصاً ریٹائرڈ ملازمین کے پنشن معاملات توجہ طلب ہیں، سردار جاوید ایوب نے مختصر دورانیہ میں وفاقی محتسب کے ادارے کو آزادکشمیر میں نہ صرف متعارف کروایا بلکہ ایک موثر اور ایک متحرک کردار کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا،آج یہ ادارہ آزادکشمیر میں کام کرنے والے وفاقی اداروں کی کارکردگی جانچنے اور ان اداروں سے متعلق عوامی شکایات کے ازالے کیلئے اُمید کی روشن کرن کے طور پر سامنے آیاہے، ہنس مکھ شخصیت کے حامل سردار جاوید ایوب خوش گفتار اور خوش لباس بھی ہیں، میڈیا کے ساتھ ان کا تعلق فکری اور قلبی نوعیت کا ہے، آزادجموں و کشمیر ٹیلی ویژن سینٹر مظفرآباد سے حالات حاضرہ کے مختلف پروگرام بطور میزبان ٹیلی کاسٹ کرتے رہے ہیں، ان کی بحیثیت ڈی جی وفاقی محتسب مظفرآباد تعیناتی آزادکشمیر کے پسے ہوئے محروم اور نظر انداز طبقات کیلئے حوصلہ افزاء ثابت ہو رہی ہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک بار پھر مخلوق خدا کیلئے آسانیاں پیدا کرنے اور مرجھائے ہوئے مایوس چہروں پر اُمید کی مسکراہٹ کیلئے منتخب کیا ہے اور یہ شب و روز اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے نہ صرف وفاقی محتسب بلکہ آزادکشمیر کے عوام کیلئے نیک نامی کا باعث ثابت ہو رہے ہیں، توقع رکھنی چاہیے کہ سردار جاوید ایوب اپنی مخصوص فکری اور سماجی سوچ کے عین مطابق انسانیت کی فلاح و بہبود اور مسائل کے حل کیلئے اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں سرانجام دیتے رہیں گے، یہ جس منصب پر موجود ہیں یہ مخلوق سے دعائیں حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیؤ۔
اے صبح!میری گواہ رہنا
میں رات بھر عمر سے لڑا ہوں




