کالمزمظفرآباد

کارگل کے بلا تنخواہ غازی قطاروں میں کیوں۔۔۔۔؟کیا ریاست اپنے ہیروز کو بھول چکی ہے؟

تحریر: قاضی عزیز احمد

1999ء کی Kargil War صرف ایک سرحدی معرکہ نہیں تھا بلکہ یہ قومی غیرت، عسکری حکمتِ عملی اور جوانوں کی بے مثال قربانیوں کی تاریخ ساز داستان تھی۔ برف پوش چوٹیوں، دشوار گزار راستوں اور منفی درجہ? حرارت میں لڑنے والے ہمارے سپاہی کسی عام جنگ کا حصہ نہیں تھے؛ وہ ایک نظریے، ایک پرچم اور ایک قوم کی عزت کے محافظ تھے۔ان میں سے کئی ایسے بھی تھے جنہیں باضابطہ فوجی تنخواہ یا مکمل مراعات میسر نہ تھیں، مگر جذبہ? حب الوطنی اُن کا سرمایہ تھا۔ آج اگر انہی غازیوں میں سے بعض کو معاشی تنگدستی، بے روزگاری یا زکوٰۃ کی قطاروں میں کھڑا دیکھا جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے: کیا یہی صلہ ہے اُن قربانیوں کا؟آئینی اور قانونی ذمہ داری
ریاست کا اولین فریضہ اپنے شہریوں کے جان و مال اور وقار کا تحفظ ہے۔ Constitution of Pakistan واضح طور پر درج ذیل ضمانتیں فراہم کرتا ہے:
آرٹیکل 9: ہر شہری کو زندگی اور آزادی کا حق۔
آرٹیکل 14: انسانی وقار اور نجی زندگی کے تحفظ کی ضمانت۔آرٹیکل 38: فلاحی ریاست کے قیام اور معاشی انصاف کی ذمہ داری۔جو افراد ریاست کی بقا اور سلامتی کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں، اُن کا وقار اور معاشی تحفظ بدرجہ? اولیٰ ریاست کی ذمہ داری بنتا ہے۔ اگر کوئی غازی علاج، روزگار یا بنیادی ضروریات کے لیے دربدر ہو تو یہ صرف انتظامی غفلت نہیں بلکہ آئینی تقاضوں سے انحراف ہے۔فریڈم فائٹرز کی قانونی حیثیت: ابہام کیوں؟کارگل وار کے تناظر میں شریک بعض رضاکار یا غیر رسمی مجاہدین کی قانونی حیثیت مکمل طور پر متعین نہ کی جا سکی۔ یہی ابہام بعد ازاں مسائل کا سبب بنا۔ ریاستی پالیسیوں میں واضح درجہ بندی نہ ہونے کے باعث کئی افراد مراعاتی نظام سے باہر رہ گئے۔ریاست کو چاہیے کہ:جامع رجسٹریشن اور تصدیق کا شفاف نظام قائم کرے۔باضابطہ ویٹرنز اسٹیٹس یا مساوی قانونی درجہ دے۔
مستقل پنشن، علاج معالجہ اور بحالی کا پیکیج فراہم کرے۔خصوصی کمیشن یا ٹریبونل کے ذریعے شکایات کا فوری ازالہ کرے۔مہذب ریاستیں اپنے سابق فوجیوں کے لیے مستقل وزارتیں اور فنڈ قائم کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی بیانات نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات درکار ہیں۔
کشمیر پالیسی اور تحریکِ آزادی کے مجاہدین پاکستان کی سرکاری کشمیر پالیسی ہمیشہ حقِ خودارادیت اور کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت پر مبنی رہی ہے۔ Kashmir کے تناظر میں ہزاروں نوجوانوں نے تحریکِ آزادی میں قربانیاں دیں۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے سرحدی علاقوں میں، یا نظریاتی وابستگی کے تحت، اپنی زندگیاں داؤ پر لگائیں۔اگر ریاست عالمی فورمز پر کشمیری عوام کے حق کی وکالت کرتی ہے تو اس کے تقاضے اندرونِ ملک بھی پورے ہونے چاہئیں۔ جو نوجوان تحریکِ آزادی کے بیانیے کے تحت میدان میں اترے، ان کی:قانونی حیثیت کی وضاحت سماجی بحالی معاشی کفالت اور خاندانوں کی سرکاری سرپرستی ریاستی ذمہ داری کا حصہ ہونی چاہیے۔یہ ایک حساس اور قومی سلامتی سے جڑا معاملہ ضرور ہے، مگر حساسیت کے نام پر مکمل خاموشی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ شفاف اور قانونی فریم ورک ہی پائیدار راستہ ہے۔معاشرتی و اخلاقی پہلویہ محض قانونی بحث نہیں بلکہ قومی ضمیر کا سوال بھی ہے۔ جو شخص وطن کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلا ہو، وہ اگر آج سفید پوشی کے ساتھ زندگی گزارنے سے محروم ہو تو یہ اجتماعی ناکامی ہے۔قومیں اپنے ہیروز کو زندہ رکھتی ہیں نہ صرف یادگاروں میں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے۔ شہداء کے لیے دعائیں اور غازیوں کے لیے بے حسی، یہ دوہرا معیار کسی مہذب معاشرے کو زیب نہیں دیتا۔قابلِ عمل تجاویزکارگل وار اور تحریکِ آزادی سے وابستہ غازیوں کے لیے خصوصی فلاحی فنڈ کا قیام۔سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ یا ترجیحی بنیادوں پر تقرری۔بچوں کے لیے مکمل تعلیمی وظائف۔مفت اور معیاری طبی سہولیات۔قومی سطح پر سالانہ اعترافِ خدمات کی تقریبات۔پارلیمانی نگرانی میں ایک خودمختار ویٹرنز کمیشن کا قیام قرض جو ادا ہونا باقی ہیکارگل کے برفانی محاذوں پر جمی ہوئی برف تو پگھل چکی، مگر کئی غازیوں کے حالات آج بھی منجمد ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ انہوں نے وطن کے لیے کیا دیا؛سوال یہ ہے کہ ہم نے اُنہیں کیا دیا؟اگر ریاست واقعی اپنے ہیروز کی قدر دان ہے تو اسے فوری اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ورنہ تاریخ کا فیصلہ سخت ہوگا، اور آنے والی نسلیں پوچھیں گی کہ کیا ہم نے اپنے وطن کے محافظوں کو تنہا چھوڑ دیا تھا؟کارگل کے غازی اور تحریکِ آزادی کے قربانی دینے والے نوجوان محض ایک باب نہیں، وہ قومی غیرت اور ریاستی بیانیے کا عملی اظہار ہیں۔ ان کا وقار بحال کرنا احسان نہیں آئینی، اخلاقی اور تاریخی فرض ہے۔

Related Articles

Back to top button