
سردیوں کی ایک سہ پہر تھی۔ سورج ڈھلنے کو تھا اور روشنی میں وہ نرمی آ چکی تھی جو صرف دیہات کی شاموں کا خاصا ہوتی ہے۔ شہر کی مصروف سڑکوں اور شور سے نکل کر جب گاڑی دیہات کو جاتی سڑک پر مڑی تو ماحول بدلنے لگا۔ ہوا میں خنکی تھی، مگر اس خنکی کے ساتھ ایک مانوس سی گرم خوشبو بھی شامل تھی۔ یہ خوشبو نہ کسی ہوٹل کی تھی اور نہ کسی فیکٹری کی، یہ دیسی گڑ کی خوشبو تھی، جو صدیوں سے سردیوں کی پہچان بنی ہوئی ہے۔سڑک کے کنارے ایک کھلے قطعہ اراضی میں کماد کے ڈھیر نظر آئے۔ کچھ فاصلے پر ریشے دار بھوسا بکھرا ہوا تھا اور ہلکا سا دھواں فضا میں تیر رہا تھا۔ یہ منظر خود ہی بتا رہا تھا کہ یہاں گڑ بنانے کی بھٹی روشن ہے۔ سہ پہر کے اس وقت، جب دن اور شام آپس میں مل رہے ہوں، گڑ کی بھٹی کا منظر اور بھی دل کو لگتا ہے۔ذرا قریب جا کر دیکھا تو ایک بڑا سا دیسی بیلنہ نصب تھا۔ کماد اس کے نیچے سے گزرتا، ایک خاص چرچراہٹ کے ساتھ رس نچڑتا اور نالی کے ذریعے ڈرم میں جا گرتا۔ بیلنے کے بعد جو سخت اور خشک حصہ بچ جاتا ہے، دیہاتی زبان میں اسے بھوسہ کہا جاتا ہے۔ یہی بھوسہ بعد میں جانوروں کے لیے چارہ بنتا ہے یا آگ جلانے کے کام آتا ہے۔ دیہات میں کچھ بھی فضول نہیں جاتا، ہر شے کسی نہ کسی کام آ جاتی ہے۔کماد کا رس چھان کر بڑے کڑاہے میں ڈالا جاتا ہے۔ کڑاہے کے نیچے لکڑی کی آگ جل رہی تھی۔ آگ کی لالی سہ پہر کی مدھم روشنی میں اور نمایاں ہو گئی تھی۔ لکڑی جلنے کی خوشبو، اْبلتے رس کی مٹھاس اور مٹی کی سوندھی مہک مل کر ایک ایسا ماحول بنا رہی تھیں جو شہری زندگی میں نایاب ہو چکا ہے۔رس اْبلنے لگتا ہے تو اوپر جھاگ بنتا ہے۔ یہ جھاگ احتیاط سے ہٹایا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کاریگر کا تجربہ کام آتا ہے۔ جھاگ جتنی صفائی سے ہٹے گی، گڑ اتنا ہی صاف اور بہتر ہوگا۔ اس کے بعد گاڑھا ہوتا ہوا شیرہ بڑی ٹرے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اب انتظار شروع ہوتا ہے۔ سہ پہر سے شام کی طرف بڑھتا ہوا یہ وقت، صبر اور مہارت کا امتحان ہوتا ہے۔جب شیرہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے تو ہاتھ حرکت میں آتے ہیں۔ یہ ہاتھ صرف کام نہیں کرتے، بلکہ روایت کو زندہ رکھتے ہیں۔ انہی ہاتھوں سے گڑ کی ڈلیاں بنتی ہیں، پپڑیاں ڈھلتی ہیں اور وہ مٹھاس جنم لیتی ہے جو سیدھی دل تک اترتی ہے۔ یہ کوئی مشینی عمل نہیں، بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والا ہنر ہے۔گفتگو کے دوران ایک سوال فطری طور پر سامنے آیا۔ گڑ کبھی بالکل سفید اور چمکدار کیوں ہوتا ہے اور کبھی قدرے خشک یا گہرا؟ کاریگروں نے بتایا کہ بعض اوقات میٹھا سوڈا یا رنگ کاٹ استعمال کیا جاتا ہے، جس سے گڑ کا رنگ ہلکا ہو جاتا ہے۔ یہ پرانے لوگوں کا آزمودہ طریقہ ہے، مگر اصل دیسی گڑ وہی سمجھا جاتا ہے جس میں کم سے کم ملاوٹ ہو اور ذائقہ قدرتی رہے۔سہ پہر ڈھل رہی تھی۔ سڑک کنارے ریڑھیاں بھی سج چکی تھیں۔ شکر والا گڑ، میوے والا گڑ، مختلف ذائقے سامنے تھے۔ بچوں کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ وہ اْبلتے شیرے کو دیکھ رہے تھے، ہاتھوں کی محنت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے اور پھر آخر میں خریداری اور چکھنے کا لمحہ آیا۔ ایک چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھا اور چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔ یہی وہ خالص مٹھاس ہے جو مصنوعی ذائقوں میں نہیں ملتی۔یہ گڑ کی بھٹی محض ایک جگہ نہیں، بلکہ دیہات کی زندگی کا خلاصہ ہے۔ یہاں کی ہوا میں محنت کا پسینہ ہے، آگ کی آنچ ہے، کماد کے رس کی مٹھاس ہے اور صدیوں پرانی روایت کی خوشبو ہے۔ نئی نسل کے لیے یہ سب ایک سبق ہے کہ خوراک صرف دکان سے نہیں آتی، بلکہ اس کے پیچھے زمین، کسان اور ہاتھوں کی محنت ہوتی ہے۔سردیوں کی شام آہستہ آہستہ اتر رہی تھی۔ آگ کی لالی اور تیز ہو چکی تھی، اور گڑ کی خوشبو مزید گہری۔ ایسے لمحے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہماری اصل پہچان انہی دیسی روایات میں چھپی ہے۔ یہی گڑ جسم کو حرارت دیتا ہے، قوت مدافعت بڑھاتا ہے اور فطرت کے ساتھ جڑے رہنے کا احساس دلاتا ہے٭



