
قومیں اپنے محسنوں کو صرف یاد نہیں رکھتیں بلکہ ان کی قربانیوں کو زندہ روایت بنا دیتی ہیں۔ سپاہی جہانزیب عباسی شہید بھی اُن ہی عظیم سپوتوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے وطنِ عزیز کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ دے کر شہادت کا ارفع مقام حاصل کیا۔ ان کی زندگی، عسکری خدمات اور شہادت اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ حب الوطنی محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، جس کی تکمیل قربانی پر ہوتی ہے۔جہانزیب عباسی شہید کا تعلق 14 آزاد کشمیر رجمنٹ سے تھا۔ انہوں نے مشکل اور حساس محاذوں پر خدمات انجام دیں اور بالآخر وزیرستان کے محاذ پر روزے کی حالت میں جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ شہادت صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک ایسی عسکری روایت کی علامت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ شہید کے والد عبدالقیوم عباسی خود بھی پاک فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ (42 بٹالین) کے ساتھ منسلک رہے اور صوبیدار کے رینک سے غازی بن کر باعزت طور پر واپس آئے۔
سپاہی جہانزیب عباسی شہید کے والد عبدالقیوم عباسی اپنے بیٹے کی قربانی پر فخر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دفاعِ وطن کی اہمیت اور افادیت کو سمجھنا اور اس کا حقیقی احساس رکھنا بہت بڑی خوبی ہے، کیونکہ وہی شخص آزادی کی قدر کو صحیح معنوں میں سمجھ سکتا ہے جو اس کے تحفظ کی قیمت سے واقف ہو۔ ان کے مطابق قربانی کا شعور ہی قوموں کو زندہ رکھتا ہے اور یہی شعور ایک مضبوط اور خوددار ریاست کی بنیاد بنتا ہے۔سپاہی جہانزیب عباسی شہید کی شہادت کے بعد پاک فوج کی قابلِ فخر روایات کے مطابق اس وقت کے وائس چیف آف آرمی اسٹاف جنرل احسن سلیم حیات نے شہید کے والد محترم عبدالقیوم عباسی کے نام اپنے دستِ تحریر سے ایک تعزیتی و اعزازی خط ارسال کیا۔ اس خط میں انہوں نے لکھا کہ“گزشتہ دنوں آپ کے بیٹے، سپاہی جہانزیب عباسی، نے اپنے عسکری فرائض کی انجام دہی کے دوران عظیم قربانی دی اور شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُون۔”خط میں مزید کہا گیا کہ شہید نے فرض کی ادائیگی کے دوران جس جرأت، بلند حوصلے اور دلیری کا مظاہرہ کیا، وہ پاک فوج اور ذاتی طور پر ان کے لیے انتہائی فخر اور سعادت کا باعث ہے۔ جنرل احسن سلیم حیات نے اس امر کا واضح اعتراف کیا کہ شہید کی فرض شناسی، ایثار اور قربانی کا جذبہ پاک فوج کی اعلیٰ روایات کا روشن عکس ہے۔ انہوں نے شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہید کی اس عظیم قربانی کو دل کی گہرائیوں سے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔خط میں اس تلخ حقیقت کا اعتراف بھی کیا گیا کہ ایک ایسا ہر دل عزیز فرزند ہم سے جدا ہو جانا ایک ناقابلِ برداشت صدمہ ہے۔ اس موقع پر وائس چیف آف آرمی اسٹاف نے تحریر کیا کہ وہ خود اور پاکستان آرمی کے تمام افسران و جوان اس غم کی گھڑی میں شہید کے اہلِ خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ عبدالقیوم عباسی صاحب اور ان کے خاندان کو اس آزمائش کے وقت صبرِ جمیل، استقامت اور بلند حوصلہ عطا فرمائے۔
سپاہی جہانزیب عباسی شہید 14 آزاد کشمیر رجمنٹ کے مایہ ناز سپوت ہیں، جنہوں نے اپنی جوانی وطنِ عزیز کے لیے قربان کر دی اور اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ مادرِ وطن کی خدمت میں وقف کیا۔ ان کی شہادت نہ صرف ایک فرد کی قربانی ہے بلکہ وطن کی دفاعی روایت اور قومی جذبے کی روشن مثال بھی ہے۔ریاست کی جانب سے شہید کی قربانی کا ایک باوقار اعتراف اس صورت میں سامنے آیا کہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول گڑی دوپٹہ کو شہید جہانزیب عباسی کے نام سے منسوب کیا گیا۔ بلاشبہ یہ اقدام قابلِ تحسین ہے، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا محض کسی ادارے کو شہید کے نام سے منسوب کر دینا ہی کافی ہے، یا پھر اس نام سے جڑی ذمہ داریوں کو نبھانا بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری نہیں؟ اس وقت سپاہی جہانزیب عباسی شہید سے منسوب بوائز ہائی سکول گڑھی دوپٹہ آزاد حکومت کے زیر انتظام موجود ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں پاکستان اور پاک فوج سے وابستگی اور اظہار عقیدت و یکجہتی کے حوالے سے وہ مطلوبہ اقدامات نظر نہیں آ رہے ہیں۔ قومی نوعیت کی سرگرمیوں کو فروغ نہیں دیا گیا، جس کا مقصد تعلیمی ادارے کے نام سے جڑا ہوا شہید کی قربانی، پاک فوج کے جذبہ ایثار اور بہادری کی نئی نسل تک رسائی ہونا چاہیے تھا۔
یہ تعلیمی ادارہ جس نام سے منسوب ہے، اس کا حقیقی مقصد یہی ہے کہ شہید جہانزیب عباسی کی نسبت نئی نسل کو وطن، قربانی اور دفاع وطن کے جذبے سے آگاہ کیا جائے۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ قومی سرگرمیوں اور یکجہتی کے پروگرامز کا تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ طلبہ نہ صرف شہید کی قربانی کو یاد رکھیں بلکہ عملی شعور اور قومی وابستگی بھی پیدا کریں۔
یہ امر افسوسناک ہے کہ شہید کی قبر پر نصب کتبہ تاحال پاک فوج کے مقررہ فارمیٹ کے مطابق موجود نہیں، نہ ہی سبز ہلالی پرچم کے احترام اور لہرانے کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکا ہے۔ اسی طرح، جس تعلیمی ادارے کو شہید کے نام سے منسوب کیا گیا، وہاں قومی و ملی تقریبات، یومِ شہداء، یومِ دفاع اور یومِ آزادی جیسے مواقع پر تسلسل کے ساتھ تقریبات کا انعقاد نہ ہونا ایک سنجیدہ خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ تقریبات محض رسمی سرگرمیاں نہیں بلکہ نئی نسل کو قربانی، ایثار، وفاداری اور حب الوطنی کے شعور سے روشناس کرانے کا مؤثر ذریعہ ہوتی ہیں۔ شہداء کے مزارات اور ان کے نام سے منسوب ادارے دراصل قوم کے ضمیر کی علامت ہوتے ہیں، اور ان سے غفلت اپنی تاریخ اور تشخص سے غفلت کے مترادف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس کی جو ذمہ داری بنتی ہے، وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ متعلقہ سول انتظامیہ، تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور دیگر ذمہ دار حلقوں کو چاہیے کہ وہ شہید جہانزیب عباسی کی یاد، ان کے مزار، یادگار اور نام سے منسوب ادارے کے حوالے سے اپنی اخلاقی، قومی اور آئینی ذمہ داریوں کا ادراک کریں۔شہید جہانزیب عباسی نے اپنا فرض نبھا دیا۔ اب امتحان ہم سب کا ہے کہ ہم ان کی قربانی کو محض لفظوں تک محدود رکھتے ہیں یا اسے عملی احترام، تسلسل اور شعور میں ڈھالتے ہیں۔ قومیں اسی سوال کے جواب سے پہچانی جاتی ہیں۔
یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاک فوج کے شہداء کے مزارات پر سبز ہلالی پرچم لہرانا اور ان کی تزئین و آرائش کرنا پاک فوج کی شاندار، باوقار اور قابلِ فخر روایات میں سے ایک ہے۔ شہداء کے مزارات پر پرچم کی موجودگی نہ صرف قومی وقار کی علامت ہوتی ہے بلکہ یہ اس عہد کی یاد دہانی بھی کراتی ہے جو قوم اپنے محسنوں کے ساتھ کرتی ہے۔اگر کسی مرحلے پر کسی وجہ سے اس تسلسل میں کمی واقع ہو جائے تو شہداء کے لواحقین خود آگے بڑھ کر اس روایت کو زندہ رکھتے ہیں۔ یہی جذبہ حب الوطنی اور شہید سے قلبی وابستگی کا سب سے خوبصورت اظہار ہوتا ہے، جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ قربانی صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے خاندان کی ہوتی ہے۔سپاہی جہانزیب عباسی شہید کے مزار پر آج بھی لہراتا ہوا سبز ہلالی پرچم اسی وابستگی کی روشن مثال ہے۔ یہ پرچم شہید کے لواحقین نے خود اپنے ہاتھوں سے نصب کیا ہے، جو نہ صرف شہید سے ان کے اٹوٹ رشتے کی علامت ہے بلکہ پاکستان سے ان کی غیر متزلزل محبت اور وفاداری کا عملی اظہار بھی ہے۔



