جموں وکشمیر کا تنازعہ جنوبی ایشیا کی تاریخ کا قدیم ترین اور پیچیدہ ترین مسئلہ ہے، جو گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام کے درمیان کشیدگی، قربانی او جدو جہدکا مرکز بناہوا ہے۔ یہ مسئلہ انسانی حقوق، حق خود ارادیت، بین الاقوامی قانون اور عالمی انصاف سے جڑا ہوا ہے۔ اگر چہ اس تنازعے کے نتیجے میں لاکھوں جانیں ضائع ہوچکی ہیں، مگر اس نے خطے میں امن، ترقی اور استحکام کوبھی مستقل طور پر خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ در حقیقت مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کے اس نامکمل ایجنڈے کا تسلسل ہے جو 1947 میں برطانوی راج کے خاتمے کے وقت سامنے آیا۔ جب برصغیر کے مسلمانوں نے ایک علیحدہ وطن کے لیے جد و جہد کی اور1947 میں پاکستان معرض وجود میں آیا تو یہ اصول طے پایا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کا حصہ بنیں گے۔ جموں و کشمیر، جہاں اس وقت تقریباً77 فیصد آبادی مسلمان تھی، فطری اور جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کے ساتھ الحاق کا حق دار تھا۔ نہ صرف اکثریت پاکستان کے حق میں تھی بلکہ خطے کے دریا، زمینی راستے، تجارت اور سماجی روابط بھی پاکستان کے شمالی علاقوں سے جڑے ہوئے تھے۔ اس کے باوجود تاریخ نے ایسا رخ اختیار کیا جس نے پورے خطے کو ایک مستقل تنازعے میں دھکیل دیا۔ اس وقت ریاست جموں وکشمیر پر مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی، جبکہ ان کی رعایا کی اکثریت مسلمان تھی۔ تقسیم کے موقع پر نوابی ریاستوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کریں۔ ابتدا میں مہاراجہ نے غیر جانبداری اختیار کرنے اور دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ تاہم اکتوبر 1947میں جب ریاست میں عوامی بغاوت پھوٹ پڑ ی اور پونچھ و مظفر آباد کے عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں علم بغاوت بلند کیا تو صورتحال تیزی سے بدل گئی۔ یہ بغاوت مہا راجہ کی مسلم اکثریت کے خلاف جابرانہ پالیسیوں کا نتیجہ تھی، جن کے باعث ہزاروں افراد شہید اور بے گھر ہوئے۔ اسی دوران قبائلی مجاہدین کشمیری عوام کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔ بغاوت کو کچلنے اور اپنی حکومت بچانے میں ناکامی پر مہاراجہ نے بھارت سے فوجی مددطلب کی۔ بھارت نے شرط عائد کی کہ پہلے ”انسٹرومنٹ آف ایکسیشن“ پر دستخط کیے جائیں۔ چنانچہ 26 اکتوبر 1947کو مہاراجہ نے مبینہ طور پر بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے، جسے پاکستان نے غیر قانونی اور جبر کے تحت قرار دیا۔ اس روز بھارتی فوجیں سرینگر میں اتریں اور یوں ایک ایسا تنازعہ شروع ہوا جو آج تک حل طلب ہے۔ ابتداہی سے پاکستان کا موقف واضح تھا کہ چونکہ ریاست مسلم اکثریتی تھی اور تقسیم کے اصولوں کے مطابق پاکستان کا حصہ بننی چاہیے تھی، اس لئے بھارتی قبضہ غیر قانونی ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ سے رجوع کیا اور پرامن حل کا مطالبہ کیا۔ جنوری 1948میں خود بھارت اس تنازعے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا۔ کونسل نے متعد دقراردادیں منظور کیں جن میں واضع کیا گیا کہ کشمیرکا مستقبل آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے طے کیا جائے گا۔ یہ قراردادیں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی بین الاقوامی توثیق تھیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ بھارت نے ان پر عملدر آمد سے انکار کردیا۔ 1950 سے 1954کے دوران بھارت نے آئینی اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کو اپنے آئینی ڈھانچے میں ضم کرنے کی کوشش کی۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور 35Aکے تحت علاقے کو خصوصی حیثیت دی گئی، جسے بعد ازاں 2019میں ختم کر کے خطے کو محدود خود مختاری سے بھی محروم کردیا۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کی امنگوں کی کھلی خلاف ورزی تھا۔ دوسری جانب پاکستان نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا کہ وہ صرف کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا ہے۔1949کی جنگ بندی کے بعد قائم ہونیوالی لکیر، جو بعد میں لائن آف کنٹرول کہلائی، نے IIOJK کو آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے جدا کردیا۔ پاکستان نے ان علاقوں میں خود اختیاری نظام کے تحت سہولت فراہم کی اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں امن برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ 1950اور1960کی کی دہائیوں میں مسئلہ کشمیر عالمی سیاست کا اہم موضوع بن گیا۔ پاکستان نے بین الاقوامی فورمز پر بارہا یہ مسئلہ اٹھایا، جبکہ بھارت اسے دوطرفہ معاملہ قرار دیتا رہا، 1965کی پاک بھارت جنگ بڑی حد تک مسئلہ کشمیر کا ہی نتیجہ تھی، جس نے ثابت کردیا کہ اس تنازعے کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔1971کی جنگ کے بعد دونوں ممالک نے باہمی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر اتفاق کیا۔ مگر بھارت نے اس عمل کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈالنے کے لئے استعمال کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے مذاکرات کی بات تو کی مگر خلوص کے ساتھ عملی اقدامات نہیں کیے۔ کشمیری آواز کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ ہزاروں نو جوان قید کئے گئے، خواتین کے خلاف جنسی تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں معمول بن گئیں۔ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) جیسے کالے قوانین کے تحت IIOJK کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا جہاں خوف اور جبر روز مرہ زندگی کا حصہ ہیں۔1989 میں جب کشمیری عوام نے مسلح مزاحمتی تحریک شروع کی تو بھارت نے اسے دہشتگردی قراردے کر مزید عسکری طاقت استعمال کی۔ اس جبر کے باوجود جدودجہد جاری رہی۔ ہزاروں نوجوان شہید ہوئے، بے شمار خواتین بیوہ ہوئیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور اقوام محتدہ کے نمائندوں سمیت متعدد عالمی اداروں نے بھارتی مظالم کی دستاویزات مرتب کیں مگر عالمی برادری خاموش تماشائی بنی رہی، 2016میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی کو ایک نئی قوت ملی۔ سوشل میڈیا کے دور میں بھارتی جبر کی تصاویر دنیا بھر میں پھیل گئیں۔ کشمیری نوجوانوں نے اپنے خون سے مزاحمت کی داستانیں رقم کیں، جبکہ بھارت نے کرفیو، انٹرنیٹ بندش اور براہ راست گولیوں کے ذریعے انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی۔ 5اگست 2019کو بھارت نے یکطرفہ طور پر آرٹیکل 370ختم کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کی اور تنازعے کوحل کرنے کی بجائے مزید بھڑکا دیا۔ پاکستان نے اس غیر قانونی اقدام کو مستردکرتے ہوئے ہر سطح پر آواز بلند ی اور عالمی برادری کو باور کرایا کہ بھارتی اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت کالعدم ہیں۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر کئی باربحث ہوئی، اگرچہ عملی پیش رفت نہ ہوسکی، تاہم مسئلہ ایک بارپھر علمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ مسئلہ کمیر کا ایک پہلواس کا عظیم انسانی المیہ ہے۔ سات دہائیوں سے زائد عرصے میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، ہزاروں خواتین بیوہ اور بے شمار بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ اجتماعی قبریں اس جاری انسانی سانحے کی خاموش گواہ ہیں۔ بھارت نے عالمی میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کر کے سچ چھپانے کی کوشش کی مگر آزاد صحافیوں اور کارکنوں نے ریاستی جبر کو بار بار بے نقاب کیا۔ پاکستانی عوام ہمیشہ اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے۔ پاکستانی حکومتوں نے سفارتی سطح پر مسئلہ زندہ رکھا، مگر عالمی بے حسی نے حل کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد کے لیے عالمی ضمیر کو بیدار کرنا ناگزیر ہے۔ کشمیر محض پاکستان اور بھارت کا تنازعہ نہیں بلکہ عالمی امن کا مسئلہ ہے۔ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں اور کسی بڑے تصادم کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کی ترقی، غربت کے خاتمے اور علاقائی تعاون کا انحصار مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر ہے۔ تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بھارت کی داخلی سیاست نے صورتحال کو مزید بگاڑا ہے۔ کشمیری حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے قوم پرستانہ بیانیے میں بدل دیا گیا۔ بھارتی میڈیا نے IIOJK کو دہشت گردی سے جوڑ کر عالمی ہمدردی کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری عوام صرف آزادی اور انصاف چاہتے ہیں۔ مسئلہ جموں وکشمیر کا منصفانہ حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ ہر حکومت نے اسے ترجیح دی، طریقہ کار مختلف رہا مگر موقف ایک ہی رہا، کشمیر کشمیر یوں کا ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف وہی کر سکتے ہیں۔ پاکستان نے او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پربھی یہ مسئلہ بھر پور انداز میں اٹھایا۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پاکستان نے وسیع سفارتی مہم چلائی۔ پاکستان کا موقف اخلاقی، قانونی اور انسانی لحاظ سے مضبوط ہے۔ تاریخی طور پر مسئلہ جموں و کشمیر محض سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ قومی آزادی کی جدو جہد ہے، جو ظلم کے مقابلے میں سچ اور قربانی کی علامت ہے۔ کشمیری عوام کی استقامت اور قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ اگر عالمی برادری نے منصفانہ کردار ادانہ کیا تو امن ایک خواب ہی رہے گا۔ بھارت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے ضمیر کو دبایا نہیں جاسکتا۔ رائے شماری کے بغیر کوئی حل پائیدار نہیں ہو سکتا۔ پاکستان نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج قبول کرے گا، بشرطیکہ کشمیریوں کو آزادانہ ووٹ ڈالنے دیا جائے۔ مسئلہ جموں وکشمیر کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ جب انصاف میں تاخیر ہوتی ہے تو ظلم بڑھتا ہے، اور جب آواز میں دبائی جاتی ہیں تو مزاحمت جنم لیتی ہے۔ وادی کشمیر آج بھی گواہی دیتی ہے کہ اس کے لوگ آزادی کے لیے جیتے ہیں، ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، اور وہ دن ضرور آئے گا جب ان کی قربانیاں رنگ لائیں گی۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا خاموشی توڑے، اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے، اور بھارت یہ سمجھے کہ مسئلہ جموں و کشمیر طاقت کا نہیں بلکہ انصاف کا معاملہ ہے۔
Related Articles
Check Also
Close




