کائنات کی لا محدود وسعتوں میں جہاں اربوں کہکشائیں اور بے شمار ستارے اپنی مخصوص ترتیب کے ساتھ گردش کر رہے ہیں وہیں زمین پر انسان کا وجود ایک غیر معمولی حقیقیت کے طور پر سامنے آتا ہے۔یہ محض ایک حیاتیاتی مخلوق نہیں بلکہ شعور احساس اور اختیار رکھنے والی ہستی ہے۔ صدیوں سے مفکرین،فلاسفہ اور اہل دانش ایک بنیادی سوال پر غور کرتے رہے ہیں:آخر انسان کیوں پیدا کیا گیا؟کیا زندگی مخض حادثہ یے یا اس کے پیچھے کوئی حکمت اور منصوبہ کار فرما ہے؟
انسان کی تخلیق مخض جسمانی وجود تک محدود نہیں بلکہ اسے ؑقل،دل اور روح جیسے عناصر سے نوازا گیا ہے۔یہی عناصر اسے دیگر مخلوقات سے ممتاز بناتے ہیں۔ حیوانات اپنی جبلت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں،لیکن انسان اپنی زندگی کے مقصد پر غور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انسان کی زندگی مخض ذاتی مفاد یا وقتی آسائش کے حصول کے لیے نہیں بلکہ ایک بڑے مقصد کے لئے عطا کی گئی ہے۔اگر انسان صرف مادی خواہشات تک محدود ہو جائے تو وہ اپنی اصل حقیقت سے دورہو جاتا ہے۔انسانی شعور کا تقاضا ہے کہ وہ زندگی کو مخض وقتی فائدے کی بجائے ایک امانت سمجھے اور اسے زمہ داری کے ساتھ گزارے۔
یہ حقیقت بھی قابلِِِِِ غور ہے کہ کائنات کا ہر نظام ایک ترتیب کے تحت چل رہا ہے۔ سورج کا طلوع و غروب،موسموں کی تبدیلی اور فطرت کا توازان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کائنات میں کچھ بھی یقینا کسی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔انسان کی سب سے بڑی ضرورت اپنے خالق سے تعلق قائم کرنا ہے۔یہی تعلق اسے زندگی کی سمت فراہم کرتا ہے۔ جب انسان اپنے وجود کو ایک امانت سمجھتا ہے تو اس کی زندگی میں عاجزی،شکر گزاری اور ذمہ داری پیدا ہوتی ہے۔ وہ صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اپنی زندگی کہ ایک اعلٰی مقصد کے لئے وقف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔روحانیت انسان کو اندرونی سکون فراہم کرتی ہے۔یہ سکون نہ دولت سے حاصل ہوتا ہے نہ طاقت سے بلکہ اس احساس سے پیدا ہوتا ہے کہ انسان ایک بڑی حقیقت کا حصہ ہے اور اس کی زندگی کا ایک معنی خیز مقصد ہے۔انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔اس کی زندگی کا مقصد صرف اپنی بہتری نہیں بلکہ دوسروں کی بھلائی بھی ہے۔ایک متوازن معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب اس کے افراد ایک دوسرے کی حقوق کا احترام کریں اور کمزوروں کا سہارا بنیں۔
انسانی ہمدردی،انصاف اورخدمت کا جزبہ ہی وہ اقدار ہیں جو ایک صحت مند معاسرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔اگر انسان صلاحیتوں کو صرف ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرے تومعاشرتی بگاڑ پیدا ہوتا ہے،لیکن اگر وہ انہیں اجتماعی بھلائی کے لئے استعمال کرے تو ترقی اور استحکام ممکن ہوتا ہے۔انسان کی زندگی کا ایک اہم پہلو خوداحتسابی ہے اپنے اندر جھانکنا، اپنی کمزوریوں کو پہچاننا اور اپنے اخلاق کو بہتر بنانا ہی حقیقی ترقی ہے۔ کردار کی مضبو طی ہی انسان کو بلندی عطا کرتی ہے۔
غصہ، حسد، لالچ اور تکبر جیسے جزبات انسان کو اندر سے کمزور کر دیتے ہیں، جبکہ صبر، دیانت، محبت اور عاجزی جیسے اوصاف اسے مضبوط بناتے ہیں۔ یہی اوصٓف انسان کو ایک مثالی شخصیت کی طرف لے جاتے ہیں۔موجودہ دور میں انسان نے ترقی کو صرف مادی کامیابی سے جوڑدیا ہے۔ دولت عہدہ اور طاقت کو کامیابی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے۔، حالانکہ یہ سب وقتی چیزیں ہیں۔ اصل کامیابی ایک متوازن زندگی میں ہے جہاں مادی ضروریات کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور روحانی پہلو بھی موجود ہوں۔
ترقی کا اصل مفہوم یہ نہیں کہ انسان صرف اپنی آسائش بڑھائے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات اور معاشرے دونوں کے لیے فائدہ مند بنے۔انسان نہ صرف حال کا بلکہ مستقبل کا بھی ذمہ دارہے۔ اس کے اعمال کا اثر آنے والی نسلوں پر پڑتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی ایسے اصولوں کے مطابق گزارے جو آنے والے وقت کے لیے بھی مثبت بنیاد فراہم کریں۔یہ دنیا ایک عارضی مر حلہ ہے جہاں انسان کو اپنی صلاحیتوں کے امتحان کا موقع دیا گیا ہے۔ اس موقع کو بہتر اندا ز میں استعمال کرنا ہی دانشمندی ہے۔
نتیجہ
انسان کی پیدائش کا مقصد ایک جامع حقیقت کی صورت میں سامنے آ تا ہے:
٭اپنے خالق کو پہچاننا
٭انسانیت کی خدمت کرنا
٭اپنی زات کی اصلاح کرنا
٭دنیا میں مثبت کردار ادا کرنا
٭مستقبل کے لیے خیر کا ذریعہ بننا
جب انسان ان تمام پہلو ؤں میں توازن پیدا کر لیتا ہے۔ تو وہ اپنی زندگی کو حقیقی معنوں میں با مقصد بنا لیتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو ظاہری کامیابی کے ساتھ ساتھ باطنی سکون بھی عطا کرتا ہے۔



