آزاد کشمیر کی ہونہار بیٹی ڈاکٹر فریحہ افراہیم کی پُراسرار موت۔خودکشی یا قتل۔ قوم جواب کی منتظر
تحریر۔محمود راتھر

آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے مرکز ملوٹ گاؤں سدھن گلہ کی ہونہار باصلاحیت اور باوقار بیٹی ڈاکٹر فریحہ افراہیم کی المناک موت نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے آزاد کشمیر اور پاکستان کو سوگوار اور مضطرب کر دیا ہے۔ لاہور میں زیر تعلیم ایک ایسی طالبہ جس نے اپنی ذہانت اور انتھک محنت سے ہزاروں امیدواروں میں نمایاں مقام حاصل کیا، آج خود انصاف کی منتظر ہے۔ ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دیا گیا، مگر والدین، اساتذہ، طلبہ تنظیموں اور مختلف سماجی حلقوں نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے شفاف، غیر جانبدار اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔74 ہزار امیدواروں میں آٹھویں نمبر پر کامیابی ڈاکٹر فریحہ افراہیم نے اس وقت تاریخ رقم کی جب پاکستان اور آزاد کشمیر میں ہونے والے میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں تقریباً 74 ہزار طلبہ و طالبات کے درمیان غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے آٹھویں نمبر پر کامیابی حاصل کی۔ یہ محض ایک پوزیشن نہیں تھی بلکہ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ غیر معمولی ذہانت اور عزم کی مالک تھیں۔ انہوں نے باغ کے معروف ادارے اورین ایجوکیشن سسٹم سے تعلیم حاصل کی اور ایس ایف سی کے امتحان میں میرپور بورڈ سے 13ویں پوزیشن حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل کر چکی ہیں۔ اور اسی ادارے سے میڈیکل کی سیٹ لینے کا اعزاز پایا۔ اس کے بعد انہوں نے لاہور کی معروف درسگاہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا اور فائنل ایئر تک اپنی تعلیمی برتری برقرار رکھی۔سانحہ کیسے پیش آیااطلاعات کے مطابق ڈاکٹر فریحہ افراہیم کی موت لاہور میں یونیورسٹی ہاسٹل کی عمارت سے گرنے کے باعث واقع ہوئی۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں اسے خودکشی قرار دیا گیا، تاہم یہ موقف فوری طور پر سوالات کی زد میں آ گیا۔ لواحقین اور اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ فریحہ نہ ذہنی دباؤ میں تھیں اور نہ ہی کسی ایسی کیفیت میں جو انہیں خودکشی جیسے اقدام پر مجبور کرتی۔اہم سوالات اب بھی تشنہ جواب ہیں،واقعے کے وقت ہاسٹل کی سیکیورٹی کیا تھی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ ہے یا نہیں،کیا کسی قسم کی شکایت یا دباؤ کی اطلاع پہلے سے موجود تھی پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل شفافیت سے کیوں منظر عام پر نہیں لائی گئی،
والدین کا درد۔ہماری بیٹی کمزور نہیں تھی مرحومہ کے والد نے آبدیدہ ہو کر کہا:میری بیٹی ستر ہزار بچوں میں آٹھویں نمبر پر آئی۔ وہ مضبوط اعصاب کی مالک تھی۔ اس کے خواب بڑے تھے۔ وہ علاقے کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ خودکشی نہیں۔ ہم اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدار تحقیقات چاہتے ہیں والدین نے کہاوہ روز ہم سے بات کرتی تھی، مستقبل کے منصوبے بتاتی تھی۔ ایک ماں کا دل گواہی دیتا ہے کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ ہمیں انصاف چاہیے، صرف سچ سامنے آ جائے۔ اورین ایجوکیشن سسٹم باغ کے پرنسپل سردار بشیر خان نے کہاکہ فریحہ افراہیم ہماری انتہائی لائق، محنتی اور بااخلاق طالبہ تھیں۔ وہ ہمیشہ نمایاں پوزیشن حاصل کرتی رہیں۔ ہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ خودکشی جیسے اقدام کا ارادہ کر سکتی تھیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بچی کے کیس کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔اساتذہ کا کہنا تھا کہ فریحہ مثبت سوچ، مضبوط اعصاب اور قیادت کی صلاحیت رکھنے والی طالبہ تھیں۔۔۔طلبہ تنظیموں اور تعلیمی حلقوں کا مؤقف۔ضلع باغ آزاد کشمیر اور پاکستان بھر کی متعدد اسٹوڈنٹس یونینز نے اس واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے،اگر ایک ذہین اور محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبہ ہاسٹل میں انتہائی محفوظ سمجھا جاتا ہے تو یہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔آزاد کشمیر کی پرائیویٹ کالج ایسوسی ایشن، مختلف پرائیویٹ کالجز کے اسٹاف، پرنسپلز اور اساتذہ نے بھی مشترکہ مطالبہ کیا ہے کہ،اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے۔یونیورسٹی اور ہاسٹل انتظامیہ کے کردار کا جائزہ لیا جائے۔سی سی ٹی وی ریکارڈ اور فرانزک رپورٹ کو عوام کے سامنے لایا جائے۔اگر قتل یا غفلت ثابت ہو تو ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے ۔
وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل
اہل باغ، والدین اور مختلف تنظیموں،اساتذہ،سول سوسائٹی،صحافیوں نے مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ، ایک نظر ادھر بھی آزاد کشمیر کی باکمال بیٹی کو انصاف فراہم کیا جائے۔ اس کے والدین کی داد رسی کی جائے اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔قوم کا سوال۔ سچ کیا ہے ڈاکٹر فریحہ افراہیم کی موت محض ایک فرد یا خاندان کا سانحہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے تعلیمی اداروں، ہاسٹل سسٹم اور طالبات کے تحفظ پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔ اگر یہ خودکشی ہے تو اس کے اسباب جاننا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور اگر یہ قتل ہے تو مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا انصاف کا تقاضا ہے۔آزاد کشمیر کی وہ بیٹی جس نے ستر ہزار امیدواروں میں آٹھویں پوزیشن حاصل کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کیا، آج خود انصاف کی منتظر ہے۔قوم کی نظریں تحقیقات پر لگی ہیں، والدین کی آنکھیں انصاف کی راہ تک رہی ہیں، اور ہر دل سے یہی صدا بلند ہو رہی ہے۔فریحہ کو انصاف دو سچ سامنے لاؤ۔




