کالمز

رجیم چینج کے پوسٹر بوائے

ایران میں رجیم چینج کا عمل زوروں پر ہے اور امریکا اپنے حکم کی سرتابی اور مفادات کے تحفظ میں غفلت برتنے والے حکمرانوں کا تختہ مختلف انداز سے اُلٹ ڈالتا ہے کہیں طاقت کا سہارا لیا جاتا ہے تو کہیں داخلی عسکری بغاوتوں کو ہوا دیتی ہے اور جہاں یہ ہدف حاصل کرنا آسان ہو وہاں بالادست طبقے کی کمزوریوں اور کمزورلمحات کا فائدہ اُٹھاکر قانون اور آئین کو اس انداز سے بدل دیا جاتا ہے کہ ناپسندیدہ کردار کا منظر سے ہٹ جانا یقینی ہوجائے۔ایران چونکہ ایک مشکل ہدف تھا اسی لئے امریکا نے یہاں رجیم چینج کے لئے برسوں انتظار کیا۔جب بات نہ بنی تو آخرکار وہ لمحہ آن پہنچا جب امریکا نے طاقت کی بنیاد پر اپنا ہدف حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔دنیا میں ہر رجیم چینج کا ایک پوسٹر بوائے ہوا کرتا ہے جسے شرِمجسم کے مقابلے میں خیر مجسم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ یہی وہ کردار ہے جس کا مظلوموں کو انتظار تھا اور اب یہی ان کی مسیحائی کر ے گا۔ایران میں رجیم چینج کے پوسٹر بوائے او ر ایرانیوں کے میڈ ان امریکا مسیحا سابق بادشاہ رضاشاہ پہلوی کے بیٹے رضاپہلوی ہیں۔انہیں کچھ عرصے سے ایران کے متبادل حکمران کے طورپر پیش کیا جاتا رہا۔خود رضاپہلوی بھی امریکا میں بیٹھ کر ایرانی حکام بیوروکریسی اور فوجی افسروں کو اس طرح احکامات جاری کرتے ہیں کہ گویا وہی ایران کے منتخب اور قانونی حکمران ہوں۔عالمی میڈیا نے بھی انہیں ہی ایران کے موجودہ نظام کا بہترین اور جدید متبادل بنا کر پیش کیا۔یہاں تک انہوں نے اس راہ کے تمام امتحان بھی پاس کر لئے جن میں سب سے اہم امتحان یروشلم میں دیواریہ گریہ پر سر ٹیکنا تھا۔رضا پہلوی نے دھوم دھڑکے کے ساتھ یہ رسم ادا کر دی اور اب وہ اس کا دفاع کررہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رضا پہلوی کے رنگ میں یہ کہہ کر بھنگ ڈال دی کہ۔رضا پہلوی اچھے ہیں مگر ایران کا حکمران اس شخص کو ہونا چاہئے جو ایران کے اندر اور مقبول ہو۔دوسرے لفظوں میں وہ ایران کے موجودہ نظام کے اندر سے ہی کسی کو بغاوت کی ترغیب دیتے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے خیالات کے ذریعے ایران کی رجیم چینج کے پوسٹر بوائے کے پیروں تلے سے قالین کھینچ دی ہے۔ایران میں رجیم چینج ہو نے کی صورت میں رضا پہلوی خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں تو یہ قطعی نئی بات نہیں ہونی ہوتی۔ماضی قریب میں بہت سے ملکوں میں رجیم چینج کے پوسٹر بوائے اسی انجام سے دوچار ہوتے رہے ہیں۔نائن الیون سے پہلے اور اس کے بعد افغانستان میں طالبان کی رجیم چینج میں ایک متوازن اور معتدل اور متفقہ کردار کے طور پر سابق بادشاہ ظاہر شاہ کو بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ظاہر شاہ جرمنی میں جلاوطنی کے دن گزارتے رہے اور افغانستان کے جہاد کے دوران بھی متبادل قیادت کے طور پر مغرب کی نظریں ظاہر شاہ پر ہی جمی رہیں۔طالبان کی رجیم چینج کے بعد جو جلاوطن افغان واپس لوٹ آئے ان میں ظاہر شاہ سرفہرست تھے۔جرمنی سے حکمران یا کم ازکم علامتی حکمران کے طور پر افغانستان میں لائے گئے مگر کابل کے تخت کی بجائے ان کا ٹھکانہ ایک محل نما گھر قرار پایا اور انہوں نے باقی دن قیدی کی حیثیت سے گزارے اور کابل کی حکمرانی حامد کرزئی کا مقدر ٹھہری۔ظاہر شاہ اپنی جلاوطنی کی کہانی بیان کرنے کے مکلف بھی نہیں رہے۔مصر میں تاریخ کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی رجیم چینج بھی ناگزیر ٹھہری کیونکہ مشرق وسطیٰ کے نقشے میں پولیٹکل اسلام کی حکمرانی سے اسرائیل کو خوف محسوس ہورہا تھا اور اس خوف کو دورکرنا ضروری ٹھہرا تھا۔محمد مرسی کے خلاف آئینی بغاوت کے سکرپٹ قاہرہ کے سفارت خانوں میں لکھے جانے لگے۔ڈونلڈبلوم نامی ایک امریکی سفارت کار اس حوالے سے غیر معمولی سرگرم رہے۔اپوزیشن کے بھان متی کے کنبے کو جوڑا گیا۔اہلحدیث اہل تشیع اور لبرلز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔محمد البرادی کو محمد مرسی کا متبادل بنا کر پیش کیا گیا۔محمد البرادی وہی شخصیت تھی عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے نمائندے کی حیثیت سے امریکی بیانیے کو مضبوط کرنے کے لئے ہر دوسرے دن عراق میں کیمیائی ہتھیار تلاش کرنے آدھمکتے تھے۔یہ وہ ہتھیار تھے جو کبھی برآمد ہی نہ ہوسکے۔صدام حسین کے خلاف اس عظیم خدمت کے صلے میں محمد البرادی کو مصر کی رجیم چینج کا پوسٹر بوائے بنا کر پیش کیا گیا۔انہی کی قیادت میں مخالف جماعتوں نے ایک مصنوعی اتحاد بنا کر فرمائشی احتجاج شروع کیا۔جس کو جواز بنا کر مصر کے آرمی چیف جنرل عبدالفتح السیسی نے آگے بڑھ کر محمد مرسی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔محمد مرسی کا متبادل محمد البرادی اس وقت خالی ہاتھ رہ گیا جب جنرل سیسی نے براہ راست اقتدار پر قبضہ کر لیا اور یوں دنیا کو البرادی کا نام دوبارہ سننے کا موقع ہی نہ ملا۔ مغرب کا پسندیدہ اور تراشیدہ مصر کی رجیم چینج کا پوسٹر بوائے کہیں وقت کی گرد بن کر اُڑ کر رہ گیا۔کچھ یہی حال پاکستان کا ہوا جہاں رجیم چینج کا پوسٹر بوائے کوئی اور تھا مگر اقتدار کے سنگھاسن پر کوئی اور براجمان ہوا۔یوں لگتا ہے کہ ایران کے پوسٹر بوائے رضاپہلوی کے ساتھ بھی کچھ انہونی ہونے جارہی ہے۔

Related Articles

Back to top button