کالمز

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور پاکستان کے لیے بڑھتے ہوئے خدشات اور کشمیر

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد خطے کی فضا غیر معمولی حد تک کشیدہ ہو چکی ہے اور مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے ٹکراؤ کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ جوابی کارروائی میں ایران نے بحرین میں قائم امریکی بحری اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خلیجی ریاستوں میں سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوا اور دفاعی نظام کی مؤثریت پر نئی بحث چھڑ گئی۔ ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کو امریکی بحری بیڑے کے مرکزی دفتر کے قریب گرتے دیکھا گیا۔ اگرچہ کسی جانی نقصان کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہوئی، تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق پیشگی اطلاع کے باعث عملے کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔سابق برطانوی بحریہ کے کمانڈر ٹام شارپ کے مطابق ایران نے بحرین کو ایک اہم ہدف اس لیے تصور کیا کیونکہ ماضی میں وہاں فضائی دفاع کو محدود سمجھا جاتا رہا ہے۔ ویڈیوز میں ایرانی ساختہ ’شاہد‘ بغیر پائلٹ طیارہ نسبتاً سست رفتار ہونے کے باوجود دفاعی حصار عبور کرتا دکھائی دیا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید جنگی حکمت عملی میں کم لاگت مگر مؤثر ہتھیار کس قدر اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ امریکہ نے حالیہ دنوں میں خطے میں جدید میزائل شکن نظام تعینات کیے ہیں جبکہ خلیج اور مشرقی بحیرہ روم میں متعدد جنگی بحری جہاز موجود ہیں جو بیلسٹک میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حملوں کی رفتار اور تعداد میں اضافہ ہو جائے تو محدود دفاعی نظام دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق حالیہ کشیدگی سے قبل ایران کے پاس تقریباً دو ہزار قلیل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ہزاروں خودکش بغیر پائلٹ طیارے موجود تھے، جو کسی بھی دفاعی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھے جاتے ہیں۔یہ تمام صورتحال اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ جدید دور کی جنگ میں مکمل دفاع ممکن نہیں رہا اور عسکری برتری بھی مکمل تحفظ کی ضمانت فراہم نہیں کرتی۔ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے جنگ کی نوعیت کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب روایتی محاذوں کے بجائے فضائی اور برقی میدان زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ کم خرچ ڈرون اور میزائل مہنگے دفاعی نظاموں کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکے ہیں۔ اس تناظر میں عالمی طاقتوں کی جانب سے اسلحے کی دوڑ میں اضافہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا کے دیگر حساس خطوں کے لیے بھی باعثِ تشویش ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان کا مؤقف غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ خطے میں طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر لا کھڑا کرتا ہے، اس لیے کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات براہِ راست اس کی معیشت، سلامتی اور داخلی استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تیل کی ترسیل، سمندری راستوں کی سلامتی اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مفادات بھی ایسے بحرانوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں پہلے ہی کشمیر کا دیرینہ تنازع موجود ہے جو کئی دہائیوں سے حل طلب ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا باعث ہے بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ پاکستان کا اصولی مؤقف ہے کہ جس طرح عالمی برادری مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ
امن کی خواہاں ہے، اسی طرح اسے کشمیر سمیت تمام متنازع خطوں میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور پائیدار حل کی حمایت کرنی چاہیے۔ اگر عالمی سطح پر طاقت کو قانون پر فوقیت دی جاتی رہی تو اس کے منفی اثرات دیگر تنازعات پر بھی مرتب ہوں گے اور کمزور خطے مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی جنوبی ایشیا کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہاں بھی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کا توازن موجود ہے۔ اسلحے کی دوڑ اور دفاعی ٹیکنالوجی میں اضافہ کسی بھی غلط فہمی یا حادثاتی تصادم کو بڑے بحران میں تبدیل کر سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی طاقتیں اپنے تنازعات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری رکھتی ہیں تو اس کا اثر دیگر خطوں میں بھی اسی طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے، جو عالمی امن کے لیے نقصان دہ ہوگا۔پاکستان نے ہمیشہ سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی احترام کی پالیسی کو ترجیح دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں بھی کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے اور مسلم دنیا کے اتحاد پر زور دیتا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں متوازن اور دانشمندانہ خارجہ پالیسی اختیار کرے، اپنی دفاعی صلاحیت کو مستحکم رکھے اور ساتھ ہی ساتھ خطے میں امن کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کرے۔حالیہ کشیدگی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر طاقت کے استعمال کا سلسلہ جاری رہا تو کوئی بھی دفاعی نظام مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکے گا۔ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں دوہرا معیار ترک کریں اور ایران، فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل پر منصفانہ اور یکساں طرزِ عمل اختیار کریں۔ بصورتِ دیگر عسکری کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا کے امن، معیشت اور عوام کے مستقبل کے لیے بھی مستقل خطرہ بنی رہے گی۔ اس جنگ سے مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست اور عسکری کشمکش کا مرکز بن چکا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ابتدا میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا خیال تھا کہ یہ جنگ مختصر اور فیصلہ کن ثابت ہوگی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ خود امریکی عسکری قیادت اس حقیقت کا اعتراف کرنے لگی ہے کہ یہ تنازع طویل جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔امریکی جرنیلوں اور دفاعی ماہرین کے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ایران جیسے بڑے اور مضبوط ملک کے ساتھ جنگ کسی بھی صورت فوری طور پر ختم ہونے والی نہیں۔ ایران نہ صرف عسکری لحاظ سے ایک طاقتور ریاست ہے۔
بلکہ اس کے پاس خطے میں متعدد اتحادی اور اثر و رسوخ بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جنگ کے پھیلنے کا خدشہ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
اگر یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو اس کے اثرات سب سے زیادہ عالمی توانائی کی منڈیوں پر مرتب ہوں گے۔ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے تیل کے سب سے بڑے ذخائر اور سپلائی کا مرکز ہے۔ ایران کے خلاف جنگ کی صورت میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ یہ راستے عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہیں اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ دنیا بھر میں پٹرول اور توانائی کے شدید بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
توانائی کے بحران کا براہِ راست اثر عالمی معیشت پر پڑتا ہے۔ اگر تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور روزمرہ استعمال کی اشیاء سب مہنگی ہو جاتی ہیں۔ یوں دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے جو عام آدمی کے لیے زندگی کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔
ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ ان کی معیشتیں پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھتی ہیں تو پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔دوسری جانب اس جنگ کے سیاسی اثرات بھی کم نہیں ہوں گے۔ اگر تنازع طول پکڑتا ہے تو عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور دنیا ایک نئے جغرافیائی و سیاسی بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنگ کے بجائے سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں۔تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں کبھی بھی مستقل حل فراہم نہیں کرتیں بلکہ مزید مسائل اور تباہی کو جنم دیتی ہیں۔ ایران کے خلاف جاری جارحیت اگر طول اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کی قیمت چکانے پر مجبور ہو گی۔لہٰذا اس وقت دنیا کو جنگی جنون کے بجائے دانشمندی، تحمل اور مذاکرات کی ضرورت ہے تاکہ ایک ممکنہ عالمی توانائی بحران اور شدید معاشی تباہی سے بچا جا سکے۔ اگر عالمی قیادت نے بروقت دانشمندانہ فیصلے نہ کیے تو یہ تنازع آنے والے برسوں میں دنیا کے لیے ایک بڑے معاشی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

Related Articles

Back to top button