کالمزمظفرآباد

ایران بحران پر پارلیمنٹ میں اسحاق ڈار کا ولولہ انگیز خطاب

تحریر: سردار عبدالخالق وصی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر غیر یقینی، اضطراب اور اسٹریٹیجک بے چینی کے گرداب میں کھڑا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی عسکری و انٹیلی جنس سرگرمیاں اس امر کی غماز ہیں کہ خطہ کسی نئے اور وسیع تصادم کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ باضابطہ جنگ کا اعلان نہیں ہوا، مگر حملوں، جوابی کارروائیوں، خفیہ آپریشنز اور سخت سفارتی بیانات نے فضا کو اس قدر کشیدہ بنا دیا ہے کہ کسی بھی غلط اندازے یا اشتعال انگیزی سے آگ بھڑک سکتی ہے۔ ایسے نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا خطاب نہ صرف قومی مؤقف کی وضاحت تھا بلکہ ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کی جانب سے عالمی برادری کے نام دوٹوک اور مدلل پیغام بھی۔اپنے خطاب کے آغاز میں سینیٹر اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی خودمختار ریاست کے خلاف جارحیت کو اصولی بنیادوں پر مسترد کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی نظام کی بنیاد طاقت کے بے لگام استعمال پر نہیں بلکہ قوانین اور معاہدات کی پاسداری پر ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح یہ ہے کہ ریاستیں ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں۔ اگر اس اصول کو نظر انداز کیا گیا تو عالمی نظام انتشار کا شکار ہو جائے گا۔انہوں نے بحران کی جڑوں کو سمجھنے کے لیے 1979 کے ایرانی انقلاب کا حوالہ دیا جب روح اللہ خمینی کی قیادت میں برپا ہونے والے انقلاب نے ایران کی خارجہ پالیسی کو یکسر بدل دیا۔ امریکہ سے سفارتی تعلقات کا خاتمہ اور اسرائیل کے ساتھ کھلی محاذ آرائی نے ایک ایسے اسٹرٹیجک مقابلے کی بنیاد رکھی جو دہائیوں سے جاری ہے۔ اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، سائبر حملوں اور خفیہ کارروائیوں نے باہمی بداعتمادی کو مزید گہرا کیا۔ آج کی کشیدگی اسی طویل تاریخی پس منظر کا تسلسل دکھائی دیتی ہے۔خطاب میں خلیجی سیاست اور علاقائی طاقت کے توازن کا پہلو بھی نمایاں تھا۔ ایران کا شام، عراق، لبنان اور یمن میں اثرورسوخ اسے ایک بااثر علاقائی کھلاڑی بناتا ہے، مگر اسی کے ساتھ پراکسی تنازعات اور نظریاتی رقابتوں نے خطے کو مستقل کشیدگی میں مبتلا رکھا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کی مسابقت، یمن کی جنگ اور خلیجی ریاستوں کے سیکیورٹی خدشات اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ممالک کے استحکام کو یکساں اہمیت دیتا ہے اور کسی ایک فریق کی حمایت میں خطے کو تقسیم ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔انہوں نے ایرانی سرزمین پر حالیہ حملوں اور اعلیٰ عسکری و سائنسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ داخلی دراندازی اور خفیہ نیٹ ورکس کی کارروائیاں کسی بھی ریاست کی سلامتی اور قومی مورال کے لیے شدید خطرہ ہوتی ہیں۔ ریاستی اداروں پر اعتماد مجروح ہو تو اس کے اثرات صرف عسکری میدان تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشی، سماجی اور سیاسی استحکام بھی متاثر ہوتا ہے۔ پاکستان نے ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور ہر اس اقدام کی مذمت کی ہے جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچائے۔ایوانِ بالا میں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان نے فوری طور پر ایران پر حملے کی مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان نے ڈی ایسکیلیشن، تحمل اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔ سفارتی سطح پر متعدد ممالک سے رابطے کیے گئے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔نائب وزیراعظم نے اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتی کاوشوں کا بھی ذکر کیا جنہوں نے مختلف عالمی رہنماؤں سے رابطے کر کے پاکستان کا متوازن اور اصولی مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد کسی بلاک سیاست کا حصہ بننا نہیں بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ اسی طرح چیف آف آرمی اسٹاف سید عاصم منیر کی قیادت میں عسکری سطح پر بھی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ قومی سلامتی کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔خطاب کا ایک اہم پہلو معاشی اثرات کا جائزہ تھا۔ اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ اگر یہ کشیدگی باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو کر طول پکڑ گئی تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر نہایت منفی ہوں گے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی تیل کی رسد متاثر ہونے سے توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال مہنگائی، تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو محض سیاسی بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ کشیدگی کم ہو سکے۔انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ جب ریاستی پالیسیاں توسیع پسندانہ نظریات سے متاثر ہوں تو تصادم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ طاقت کے زعم میں کی گئی حکمتِ عملی وقتی برتری تو دے سکتی ہے، مگر اس کے نتائج نسلوں تک عدم استحکام کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ سرحدوں کے احترام، باہمی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔آخر میں یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اقوامِ عالم میں دو ایسے ممالک ہیں جن کی پالیسیوں اور توسیع پسندانہ عزائم کے باعث عالمی امن بارہا خطرے کے دہانے پر پہنچا ہے۔ ایک طرف اسرائیل ہے، جہاں ”گریٹر اسرائیل“ کے تصور نے خطے میں مسلسل کشیدگی کو جنم دیا۔ طاقت کے بل بوتے پر سرحدی توسیع اور فوجی برتری کے زعم نے نہ صرف فلسطین بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کا شکار رکھا ہے۔ یہ تاثر بھی عام ہے کہ اسرائیل نے اپنی اسٹرٹیجک ترجیحات کے ذریعے امریکہ جیسی بڑی عالمی قوت کو اپنے مفادات کے حصار میں جکڑ رکھا ہے، جس کے باعث عالمی طاقت کا توازن متاثر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔دوسری جانب بھارت میں ”اکھنڈ بھارت“ کا نظریہ جنوبی ایشیا کے امن کے لیے مستقل چیلنج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ علاقائی بالادستی کی خواہش، ہمسایہ ممالک پر دباؤ کی پالیسی اور داخلی قوم پرستانہ بیانیہ خطے کو عدم استحکام کی طرف لے جا رہا ہے۔ جب ریاستی پالیسی نظریاتی توسیع پسندی سے جڑ جائے تو سفارت کاری کمزور اور محاذ آرائی مضبوط ہو جاتی ہے۔ایوانِ بالا میں اسحاق ڈار کا خطاب اسی تناظر میں ایک واضح پیغام تھا کہ پاکستان نہ تو کسی توسیع پسندانہ ایجنڈے کا حصہ بنے گا اور نہ ہی عالمی طاقتوں کی کشمکش میں آلہ? کار بنے گا۔ پاکستان امن، توازن اور مکالمے کی راہ اختیار کرے گا۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کا غرور بالآخر تباہی کو جنم دیتا ہے، جبکہ انصاف اور اعتدال ہی دیرپا امن کی ضمانت بنتے ہیں۔سینیٹر اسحاق ڈار نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ایران کو دیگر اسلامی ممالک پر حملوں سے اجتناب کرنا چاہیے اس سے کشیدگی میں کمی کے بجائے جنگ میں توسیع ھو سکتی ھے انہوں نے سعودی عرب سے پاکستان کے دفاعی معاہدہ کا بھی ذکر کیا کہ اسکا احترام بھی سب متحارب ممالک کی ذمہ داری ھے وزیراعظم شہباز شریف نے اس تمام صورتحال سے اگاھی اور قومی موقف اپنانے کے لیے اپوزیشن کی تمام پارلیمانی جماعتوں کو بھی بریفنگ دینے کا فیصلہ کیا ھے اب پاکستان میں اپوزیشن سمیت تمام مکاتب فکر کو اس نازک موقع پر یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ھوگا

Related Articles

Back to top button