کشمیری عوام کا یوم حق خودارادیت اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کا یوم ولادت
تحریر: شوکت جاوید میر

تحریک آزادی کشمیر کی طویل ترین صبر آزماء جدوجہد میں بے شمار ایسے ایام ہیں جن کی اپنی اہمیت اور انفرادیت ہے لیکن پانچ جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے منظور ہونے والی قرارداد جس میں کشمیری عوام کے بنیادی حق حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے وہ دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کی مضبوط بنیاد ہے، اہل کشمیر نے سروں کی فصلیں کٹوائیں، کفن کا لباس زیب تن کیا، سرفروش کشمیریوں نے اپنی زندگیوں کی قربانیوں تو پیش کی ہیں مگر زندہ کھالیں کھچوانے کی تاریخ کا جراتمندانہ باب بھی ان کی وراثت ہے، پانچ جنوری کو جو حق خودارادیت کی قرارداد منظور ہوئی،اس کیلئے بھارت نے پہلے خود جا کر اقوام متحدہ کے فورم سے رجوع کیا، اور پھر جب حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تو بھارت نے اس کی صریحاً خلاف ورزی کا ارتکاب کیا، آج تک اس قرارداد پر آج تک عملدرآمد نہ ہونے سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے عوام کی خونریزی، خواتین کی اجتماعی عصمت دری، گمنام قبروں کی دریافت، جعلی پولیس مقابلوں میں نوجوانوں کا قتل عام، ماروائے عدالت نسل کشی، کالے قوانین کا نفاذ، گھر گھر تلاشیاں، کریک ڈاؤن، شہری اور مذہبی آزادیوں پر پابندیاں، حریت کانفرنس کے رہنماؤں کو بلاجواز مقدمات میں گرفتار کر کے انہیں اپنے مشن سے ہٹانے کی کوششوں میں بھارت نے ہمیشہ رسوائی اور پسپائی کا سامنا کیا، آفرین صد آفرین نہتے کشمیریوں پر جان و مال کی قربانیاں تو پیش کر دی لیکن بھارت کے سامنے سرخم تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوئے، بلکہ آٹھ لاکھ قابض پیراملٹری فورسز کے نت نئے مظالم، کرفیو کانفاذ، پیلٹ گن کا استعمال، آرٹیکل 370 اور دفعہ 35اے میں ترامیم کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی چالیں بھی اس کے گلے کا پھندا بنیں، کشمیری عوام نے اپنی جان و مال کی قربانیاں پیش کر کے ایک ایسی خود داری کی تاریخ رقم کی جس پر پوری دنیا کی مہذب قومیں فخر کرتی ہیں، پانچ جنوری 1949ء کے علاوہ بھی ایک درجن کی زائد قراردادیں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاس کی گئیں، تاہم کسی ایک پر بھی عملدرآمد نہ کروانا دنیا کے سب سے بڑے ادارے کی ساکھ کو بُری طرح مجروح کرتا ہے، بھارت نے ہمیشہ توسیع پسندانہ عزائم کو ہوا دی، کشمیری عوام سمیت اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کیا، اور ہندی، ہندو، ہندوستان کی پالیسیوں کو فروغ دے کر پاکستان دشمنی میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا، قارئین محترم آپ کو یاد ہو گا کہ 22 اپریل کو خود ساختہ سانحہ پہلگام کا سکرپٹ لکھا گیا جس طرح بھارتی پارلیمنٹ خود ساختہ حملہ کیس میں شہید افضل گورو کو پھانسی دی گئی اور اس سے قبل جدوجہد آزادی کی پاداش میں شہید کشمیر حضرت مقبول بٹ کو تختہ دار پر چڑھایا گیا اسی طرح پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر کے خلاف ایک گھناؤنی سازش کا ارتکاب کرتے ہوئے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان اور آزادکشمیر پر ٹارگٹڈ حملے کیے گئے جن میں مساجد شریف اور مدارس کو نشانہ بنا کر بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، آپریشن سندھور کے عنوان سے جو جنگ پاکستان پر مسلط کی گئی وہ رات کی تاریکی میں تھی اور بھارت نے اس پر اپنی فتح کا جشن منایا، پاکستان اورافواج پاکستان نے کمال دفاعی حکمت عملی، فوجی قوت اور منصوبہ بندی سے 10مئی کی صبح معرکہ حق بنیان مرصوص کے عنوان سے جب دندان شکن جواب دیا تو بھارت کے 6رافیل طیاروں کی پروازیں بھی پلک جھپکتے زمین بوس ہو گئیں، اس کی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، اور افواج پاکستان کے جرحی آفیسران اور جوانوں نے اس کے اندر گھس کر اس کا وہ حشر کیا کہ رہتی دنیا تک وہ زخم چاٹتے رہیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں رب العزت نے حبیب کبریا کی وسیلہ سے پاکستان اور افواج پاکستان کو ایسی عظیم الشان فتح سے ہمکنار کیا جو عالمی سطح پر پاکستان کی نیک نامی اور وقار کار سبب بنی، اور سب حلالی پرچم کو وہ وہ عزت و توقیر حاصل ہوئی جس پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح، مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے دو قومی نظریے پر بنیاد رکھی تھی، پانچ جنوری کو ہر سال کشمیری عوام ریاست جموں وکشمیر کے دونوں اطراف،پاکستان کو چاروں صوبوں اور دنیا بھر میں ملی یکجہتی سے جلسے، جلوس، ریلیاں نکال کر عالمی برادری کی توجہ پاس کی جانے والے قرارداد کے مطابق حصول آزادی پر مبذول کرواتے ہیں،کشمیری عوام امن و استحکام، باہمی رواداری پر پختہ یقین رکھتے ہیں، دہشت اور وحشت کی ہمیشہ انہوں نے بڑھ چڑھ کر مذمت کی، اس لیے کہ انہوں نے خود بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے قربانیوں کا انبار لگا دیا ہے، 6نومبر 1947ء کو جموں کے مسلمانوں کو پاکستان لانے کا جھانسہ دے کر گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا اور اس خونریزی میں کم و بیش تین لاکھ مردو خواتین، نوجوانوں اور شیر خوار بچوں کو شہیدکیا گیا، 13جولائی 1931ء سے لے کر اب تک کشمیریوں کے قتل عام کی داستانیں انسانی تاریخ میں ہونے والی تباہی و بربادی پر نوحہ کناں ہیں، آج بھی کشمیری عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ پانچ جنوری 1949ء کو منظور کی گئی قرارداد کے مطابق اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کشمیری عوام کو رائے شماری کا آزادانہ موقع فراہم کیا جائے، تاکہ وہ اپنے مستقبل کافیصلہ کر سکیں، اگرچہ یہ بات اظہر من الشمس ہے، کہ کشمیری آخری سانس، آخری فرد تک اسی طرح جانیں جان آفرین کے سپرد تو کر سکتے ہیں لیکن بھارت کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کر سکتے، یہ درس انہیں اپنے پیارے دین اسلام نے بھی دیا ہے، مہذب قوموں کا شیوہ بھی یہی ہے اور کشمیری ماؤں نے اپنے بیٹوں کو گود میں اسی خود داری کی تربیت سے تیار کر رکھا ہے،جب تک کشمیری عوام کو حق خودارادیت حاصل نہیں ہوتا، پاکستان اور بھارت کے درمیان قیام امن محض دیوانے کا خواب اور مجذوب کی بھڑک ثابت ہو گا، قارئین محترم پانچ جنوری کو ہی پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کا یوم ولادت ہے، جنہوں نے پاکستان کی سرزمین بے آئین کو متفقہ آئین دیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور عوام کو خودداری سے جینے کا ڈھنگ سکھایا،قائد عوام نے پاکستان کو دنیا میں لیڈنگ سٹار بنانے کیلئے پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کر کے اتحاد و یگانگت کی بنیاد رکھی، ملک میں پسے ہوئے طبقات کو ان کے بنیادی حقوق جاگیردار اور سرمایہ داروں کے خونی پنجے سے بازیاب کروا کر دینے میں لازوال عوامی جمہوری تحریک کی قیادت کی، کامیاب کشمیر اور خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی، معاہدہ تاشقند کے موقع پر تقسیم کشمیرکی عالمی سازش کو ناکام بناتے ہوئے وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے کر عوامی عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا جس کو قوم نے اپنے سروں پر سجا لیا، قائد عوام وہ انقلابی رہنما تھے جنہوں نے انقلابی اصلاحات کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو سرد خانوں سے نکال کر دنیا بھر کے ایوانوں میں اُجاگر کیا، آج بھی اقوام متحدہ میں ان کی جراتمندانہ آوازیں گونجتی سنائی دے رہی ہیں، قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے فرمایا تھا کہ میں انسان ہوں غلطی کر سکتا ہوں لیکن مسئلہ کشمیر پر میں خواب میں بھی غلطی نہیں کر سکتا، اسی تسلسل میں قائد انقلاب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے قومی کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایا، حریت کانفرنس کو اوآئی سی میں مبصر کا درجہ دلوانے میں کمال سفارت کاری کی، آج قائد عوام کا یوم ولادت ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، صدر پاکستان آصف علی زرداری، چیئرپرسن محترمہ فریال تالپور، وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور، پارٹی صدر چوہدری محمد یاسین، سپیکر چوہدری لطیف اکبر، انچارج سیاسی اُمور، زیرک سیاستدان چوہدری ریاض کی قیادت میں پارٹی اور پارلیمانی پارٹی عزم کرتی ہے کہ جب تک استحصال سے پاک معاشرے کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا ہم میدان عمل میں برسرپیکار رہیں گے، جن میں تحریک آزادی کشمیر، وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ناقابل تسخیر دفاع،مضبوط وفاق، افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کا احترام، قومی وقار، ریاستی تشخص، آئین، قانون کی بالادستی، جمہوریت کا استحکام، عوامی مفادات کا تحفظ ہماری جہد مسلسل کا ترجیحاتی ایجنڈا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ وہ وقت قریب تر ہے جب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پاکستان کے کم عمر ترین وزیراعظم منتخب ہو کر اپنے شہید نانا، قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو، والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے ادھورے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے، قارئین محترم آزادکشمیر میں وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت میں قائم پیپلزپارٹی کی حکومت نے ڈیڑھ ماہ کے مختصر عرصے میں جس طرح نظریہ پاکستان کو استحکام دینے اور عوامی اعتماد پر پورا اُترنے کی جز وقتی کے بجائے کل وقتی کی منصوبہ بندی کی وہ جوان سال وزیراعظم کی ولولہ انگیز قیادت پر بڑھتے ہوئے عوامی اعتماد کامظہر ہے، قارئین کرام ان شاء اللہ تعالیٰ مقبوضہ جموں و کشمیر کے خودار عوام بھار ت کے جبری تسلط سے چھٹکارا حاصل کر کے صبح آزادی کی خوشبو سے بہر مند ہوں گے، اور آزادی غلامی کی خار دار تاریں بھارت کے گلے کا پھندا ثابت ہوں گی، اس لیے کہ بھارت اور اسرائیل دونوں قابض ممالک ہیں، جب کہ پاکستان انسانیت کا احترام کرنے والا پرامن اور محافظ ملک ہونے کا دنیا میں اعزاز حاصل کر چکا ہے۔ پاکستان زندہ باد، کشمیر پائندہ بادکے ساتھ تحریک آزادی کشمیر اور شہداء کشمیر کے وارث دھرتی ماں کی حفاظت کیلئے جانوں کے نذرانے کا پیش کرنے کا عزم کرتے ہیں۔




