کالمز

کرنل ریٹائرڈ سید نثار حسین شاہ مرحوم،خدمت رواداری اور کا روشن باب

تحریر: مفتی کفایت حسین نقوی،سینئرممبراسلامی نظریاتی کونسل آزادجموں وکشمیر۔۔۔۔

عزیزو! کچھ شخصیات محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ وہ اپنے کردار، خدمات اور طرزِ فکر کے ذریعے ایک عہد کی نمائندگی کرتی ہیں۔ کرنل ریٹائرڈ سید نثار حسین شاہ مرحوم بھی ایسی ہی باوقار، سنجیدہ اور باعمل شخصیت تھے جن کی وفات نہ صرف اہلِ خانہ بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔اپنی عسکری زندگی کو باوقار طریقے سے گزارنے کے بعد زندگی کی اخری سانسوں تک انجمن امامیہ کی سرپرستی کرتے رہے اس طرح وہ محبت حضرات محمد و ال محمد علیہم السلام سے سرشار رہتے ہوئے دار فانی سے رخصت ہوئے ہیں۔
مرحوم نے اپنی زندگی ملی، قومی اور سماجی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ انجمن امامیہ میرپور کے سرپرستِ اعلیٰ کی حیثیت سے اتحاد، رواداری، باہمی احترام اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے علمبردار رہے۔ ان کی جدوجہد کا مرکز ہمیشہ انسانیت، برداشت اور دینِ اسلام کی اصل روح رہی، جس میں نفرت کے بجائے محبت اور تصادم کے بجائے مکالمہ شامل تھا۔ ایسے افراد کا جانا قوموں کے اجتماعی شعور میں ایک خلا پیدا کر دیتا ہے۔اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ موت اختتام نہیں بلکہ ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقلی ہے۔ موت آنے سے انسان کا مقام بدل جاتا ہے، فرشتوں کے ساتھ معاملات کی نوعیت بدل جاتی ہے، مگر حقوق ختم نہیں ہوتے۔ خصوصاً والدین کے حقوق تو موت کے بعد مزید ذمہ داری کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر والدین کا حق اور کیا ہو سکتا ہے کہ ان کی اولاد انہیں مسلسل یاد رکھے، ان کے لیے دعا کرے، ان کے لیے صدقہ و خیرات کرے اور ان کے نام سے ایسے اعمال انجام دے جو صدقہ جاریہ بن جائیں۔
اسلام نے خاندانی نظام کی بنیاد احترام، اطاعت اور ذمہ داری پر رکھی ہے، اور اس نظام میں والد ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآنِ مجید میں والد کا ذکر محض ایک رشتے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی ہستی کے طور پر کیا گیا ہے جس کے حقوق اللہ کی عبادت کے فوراً بعد بیان کیے گئے ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ والد اور والدین کا مقام اسلام میں کس قدر بلند ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے”اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو”۔یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ والد کی عزت، اطاعت اور خدمت محض اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ ایک شرعی حکم ہے۔ مزید یہ کہ قرآن اولاد کو والدین کے سامنے عاجزی اختیار کرنے، نرم گفتگو کرنے اور ان کے لیے دعا کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ والد وہ ہستی ہے جو خاموشی سے اپنی اولاد کے لیے قربانیاں دیتا ہے، زندگی کی سختیاں برداشت کرتا ہے اور اپنی خواہشات کو اولاد کے مستقبل پر قربان کر دیتا ہے، اسی لیے قرآن والدین کے شکر کو اللہ کے شکر کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔
والدین کے حقوق ان کی زندگی میں اولاد پر واضح اور جامع ہیں۔ ان میں سب سے پہلا حق ادب و احترام ہے۔نہ آواز بلند کی جائے، نہ تلخ کلامی ہو اور نہ ہی رویّے میں بے زاری ظاہر کی جائے۔ دوسرا بڑا حق اطاعت ہے، یعنی ہر جائز اور معروف کام میں والد کی بات کو ترجیح دی جائے۔ اسی طرح خدمت، مالی کفالت، بیماری اور بڑھاپے میں دیکھ بھال اولاد پر لازم ہے۔ والدین کے لیے دعا کرنا بھی ان کی زندگی میں اولاد کی مستقل ذمہ داری ہے، کیونکہ دعا محض الفاظ نہیں بلکہ شکرگزاری اور وفاداری کا اظہار ہے۔
حضرت امیرالمؤمنین علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے والدین، خصوصاً والد و والدہ کے مقام و مرتبہ کو نہایت بلند الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ آپؑ کے مطابق والدین کے ساتھ نیکی سب سے عظیم عبادت ہے اور ان کی اطاعت جنت کا راستہ ہے، جبکہ ان کی نافرمانی بدبختی اور محرومی کا سبب بنتی ہے۔ آپؑ نے واضح فرمایا کہ والدین کی دعا اولاد کے لیے آسمان تک پہنچتی ہے اور ان کا احترام انسان کی عمر اور رزق میں برکت کا ذریعہ بنتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم والدین کے سامنے عاجزی، ادب اور انکسار کو انسان کی عزت و رفعت کا سبب قرار دیتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ والدین کا مقام محض خاندانی نہیں بلکہ دینی و روحانی بنیاد رکھتا ہے۔
امیرالمؤمنین علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی تعلیمات کے مطابق والدین کے حقوق ان کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ وفات کے بعد بھی پوری طرح قائم رہتے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ والدین کے انتقال کے بعد بھی ان کے ساتھ نیکی یہ ہے کہ ان کے لیے دعا کی جائے، استغفار کیا جائے اور ان کی طرف سے صدقہ و خیرات کی جائے۔ یہی اعمال مرحوم والدین کے لیے قبر میں راحت اور آخرت میں بلندیِ درجات کا سبب بنتے ہیں۔ حضرت علیؑ کی یہ تعلیم ہمیں یہ شعور عطا کرتی ہے کہ موت رشتہ ختم نہیں کرتی بلکہ ذمہ داری کی نوعیت بدل دیتی ہے، اور نیک اولاد کے اعمال والدین کے لیے دائمی صدقہ جاریہ بن جاتے ہیں۔
یہ سوال اکثر پیدا ہوتا ہے کہ کیا والدین کے حقوق ان کی وفات کے بعد ختم ہو جاتے ہیں؟ اسلام اس کا جواب نہایت وضاحت سے دیتا ہے: موت رشتہ ختم نہیں کرتی، ذمہ داری کا انداز بدل دیتی ہے۔ والدین کی وفات کے بعد بھی اولاد پر ان کے حقوق قائم رہتے ہیں، بلکہ بعض پہلوؤں سے یہ ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ رسولِ اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، سوائے ان اعمال کے جن میں نیک اولاد کی دعا بھی شامل ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ والدین کی مغفرت اور درجات کی بلندی میں اولاد کا کردار وفات کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
والدین کی وفات کے بعد اولاد کے فرائض میں سب سے اہم دعا اور استغفار ہے۔ نماز، تلاوت اور عبادات کے بعد والدین کو یاد رکھنا، ان کے لیے بخشش مانگنا اور اللہ کے حضور ان کے لیے سربسجود رہنا اولاد کا عظیم فریضہ ہے۔ اسی طرح صدقہ و خیرات اور خاص طور پر صدقہ جاریہ،جیسے دینی و فلاحی کام، تعلیم کے منصوبے، مساکین کی مدد،وہ اعمال ہیں جو مرحوم والدین کے لیے قبر میں نور اور آخرت میں بلندی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ والدین کے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک اور ان کے وعدوں یا ذمہ داریوں کو پورا کرنا بھی اسی دائرے میں آتا ہے۔
مجھے نثار شاہ صاحب کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ حقیقت بھی اُجاگرکرنا ہے کہ والدین، خصوصاً والد، کا حق صرف زندگی تک محدود نہیں بلکہ وفات کے بعد بھی اولاد کے کردار سے جڑا رہتا ہے۔ جو اولاد اپنے والدین کو یاد رکھتی ہے، ان کے لیے دعا کرتی ہے، ان کے نام سے خیر کے کام انجام دیتی ہے، دراصل وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں سنوارتی ہے۔ یہی قرآن کا پیغام، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم اور اہلِ بیتؑ کا راستہ ہے۔ایک ایسا راستہ جو وفاداری، شکرگزاری اور دائمی اجر کی طرف لے جاتا ہے۔
میں بالخصوص مرحوم کے فرزندان، میجر ریٹائرڈ سید کامران حیدر اور سید فرحان حیدر، سے یہ دردمندانہ گزارش اور دینی تاکید کرتا ہوں کہ وہ اپنے والد مرحوم کے لیے ایسے مستقل اور دیرپا نیک اعمال کا اہتمام کریں جو ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنیں۔ مساکین کی کفالت، دینی تعلیم کے فروغ میں حصہ، کسی ضرورت مند کا سہارا بننا، مسجد، مدرسہ یا فلاحی کام میں تعاون یہ سب وہ اعمال ہیں جو قبر کی تنہائی میں روشنی بن کر پہنچتے ہیں والدین کے لیے دعا محض ایک رسمی جملہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عبادت ہے۔ جو اولاد اپنے والدین کے لیے اللہ کے حضور سربسجود رہتی ہے، درحقیقت وہ اپنے مستقبل کو بھی محفوظ کر رہی ہوتی ہے، کیونکہ والدین کی رضا میں اللہ کی رضا پوشیدہ ہے۔
میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ کرنل ریٹائرڈ سید نثار حسین شاہ مرحوم کی ملی و قومی خدمات کو قبول فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر کرتے ہوئے انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کے فرزندان اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، انہیں اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے اور انہیں ایسا عمل کرنے والا بنائے جو ان کے لیے دنیا میں بھی عزت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنے۔ آمین

Related Articles

Back to top button