
آج 78 سال پورے ہو چکے، جب اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بعد حکومت اور ملت پاکستان نے ایک کشمیر پالیسی وضع کی جو کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی عالمی سطح پر سیاسی، سفارتی ثقافی اور سماجی حمایت، آزاد علاقے کا تحفظ،معاشی اور معاشرتی طور پر ان کی سرپرستی،زبانوں کی ترویج اور سبسڈائز اشیاء ضروریہ فراہم کرنے پر محیط تھے، اس کے علاوہ وہ تمام بنیادی انسانی حقوق جو اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کا حصہ ہیں وہ سب یقینی بنانے کا عزم و عمل بھی شامل ہے، اور حکومت کی سطح پریہ سب پورا کرنے کی بھرپور سعی بھی کی گئی، اور آزاد جموں وکشمیر اور پاکستان کے درمیان تخلیق پاکستان کے وقت سے قائم محبتیں ایک مناسب ماحول میں پروان چڑھتی رہی، دونوں اطراف نئے انفرادی رشتہ داریاں بنتی رہیں، پاکستان نے جموں وکشمیر کی آزادی کیلئے تین چار باقاعدہ جنگیں بھی لڑیں، پاک فوج اور پاکستانی عوام نے جانوں کے ان گنت نظرانے تک پیش کئے، آزاد ریاست کے لوگوں نے بھی پاک فوج کے تینوں بڑے شعبوں سمیت اداروں میں شامل ہو کر خدمت کی اور مشرقی قور مغربی محاذوں پر دفاع پاکستان کیلئے قربانیاں بھی پیش کیں، دونوں اطراف ایک متوازن بیانیہ بنا رہا محبتیں اور بھائی چارہ پروان چڑھتا رہا،، پھر آہستہ آہستہ انسانی اور معاشی و معاشرتی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے وفاق کے کئی محکمو کے دفاتر آزاد جموں کشمیر میں قائم ہو تے چلے گئے، بڑی نیشنل اور ملٹی نیشنل کاروباری کمپنیوں کی شاخیں اور فرنچائزز قائم ہوتی چلی گئیں، پرائیویٹ کمپنیوں اور اداروں کے علاوہ اس وقت آزاد جموں کشمیر میں محافظ پاک فوج اور اس کے ذیلی شعبوں کے علاوہ 24 وفاقی محکمے /ادارے بھی کام کر رہے ہیں، حال ہی میں ان محکموں کے خلاف شکایات سننے کیلئے وفاقی محتسب کا ریجنل آفس قائم ہواہے،تو یہ خود 25 واں ادارہ ہو گیا ہے، یہ سول حکومت کے ادارے ہیں جو روز اول سے ہی سرکاری کشمیر پالیسی سے یا تولاعلم اور نا اشنا رہے ہیں یا دل سے متفق نہیں ہیں، اور اب کشمیریوں کا بیانیہ دراصل ان اداروں کے طرز عمل اور رویے سے تشکیل پانی ہے، اور ان کے طرز عمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ انتہائی مایوس کن ہے، اور یہرشتوں کو کمزور کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر رہے، آج تک جب اور جہاں کہیں بھی اسلام اباد سے کوئی اختلاف ابھرا ہے اس کی پشت پر کہیں نہ کہیں ان اداروں کا طرز عمل اور رویہ کار فرما ہوا ہے، یہ ادارے آزاد جموں و کشمیر میں آ کر خود کو مقتدر سمجھنے لگتے ہیں،ان میں تمام شیڈول بینک، ڈاک خانے، ریڈیو پاکستان کے تحت چلنے والے ایک دو اسٹیشن اور پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کے تحت چلنے والا آزاد جموں و کشمیر ٹیلیویژن وغیرہ وغیرہ شامل ہیں، یہ سب ادارے پاکستان بھر میں تو کچھ نہ کچھ عوامی خدمت کا فریضہ نبھا رہے ہیں لیکن آزاد جموں و کشمیر میں یہ ادارے وائسرائے ہند کا روپ دھار لیتے ہیں، ان کے اعمال کا ذمہ دار اکثران کے ہیڈ کوارٹر میں بیٹھے بیوروکریٹس وغیرہ ہوتے ہیں،جنرل پوسٹ آفس کی ایک معمولی مثال یہاں شیئر کرتا ہوں، نلوچھی وارڈ نمبر 25 کا علاقہ پانچ دہائیوں سے دارالحکومت مظفر اباد کے بلدیاتی حدود کا حصہ ہے، لیکن اج بھی اس کے دل میں ضلعی عدالتیں قائم ہونے کے باوجود جنل پوسٹ آفس نے اسے ایک گاؤں کا درجہ دے رکھا ہے جہاں ڈاکیا ہفتے میں صرف دو دن ڈاک تقسیم کرتا ہے،بڑے شیڈول بینکوں کا یہ حال ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کا سارا سرمایہ بشمول بیرون ملک برطانیہ جرمنی اور دیگر ممالک سے آنے والے زر مباد لہ کے سب کچھ سمیٹنے کے باوجود یہ شیڈول بینک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی واضح ہدایات اور رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمع شدہ اثاثوں کا وہ 2 فیصد جو بینکنگ رولز کے مطابق انہیں اس علاقے کی سماجی ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیوں پر خرچ کرنا ہوتا ہے،اس کا ایک روپیہ بھی یہاں خرچ نہیں کی جا رہا، بلکہ بارہا بینک اور دیگر مالیاتی ادارے اس سے صاف انکار کر چکے ہیں، ان رویوں پرکشمیریوں کے دلوں میں کیسے محبت ابھرے گی، یہ حکومت پاکستان کی کشمیر پالیسی کی بھی صریحا خلاف ورزی ہے، مگر بے دھڑک جاری ہے، اسی طرح حکومت پاکستان نے کشمیریوں کی جاری تحریک آزادی کو تقویت دینے اور کشمیری کلچر کو اجاگر کرنے کے لیے 1960 سے ریڈیو اسٹیشن قائم کر رکھا ہے جو پچھلی ڈھائی تین دھائیوں سے دو ہوچکے ہیں،دونوں کو ایک عرصہ سے لاوارث چھوڑ دیا گیا ہوا ہے، یہ اسٹیشن جب تک درست کام کرتے رہے تب تک جموں و کشمیر کے ہر پیرو جواں کا ایک ہی بیانیہ رہا اور ان کی ان کو اپنی منزل پاکستان ہی کی صورت نظر آتی رہی، لیکن جب سے ان اداروں پر مرکز کی عدم توجہی اور فنڈز بچت کی بنا پر قبضہ مافیا نے اپنا اجارہ قائم کیا ہے، اور جب سے پاکستان سے محبت کرنے،پاکستان کی بات کرنے والے صداکاروں،قلمکاروں کو باہر پھینک دیا گیا ہے تب سے ریاست کے عوام کا بیانیہ ہی بدلتاصاف دکھائی دے رہا ہے، مگر اس طرف کسی بھی ذمہ دار ادارے نے توجہ ہی نہیں دی،اُلٹامختلف موقع پر بیانیے کی اس تبدیلی کا الزام بنیادی حقوق مانگنے والے کشمیریوں پر لگا کر اپنا اُلو سیدھا کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے، کہ جب آپ ان کا حق ملکیت ہی ختم کرنے کا رویہ اپنائیں گے، تب عوام و خواص میں فکری انتشار پھیلنا ایک فطری عمل ہے، اسی طرح سے آزاد جموں و کشمیر ٹیلی ویژن بھی صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے 2004 میں مقامی فنکاروں،قلم کاروں کے دیرینہ مطالبہ، احتجاجوں اور ھڑالوں کے بعد قائم کیا تھا، جس کے لیے آزاد حکومت کی طرف سے بھی بذریعہ کشمیر کونسل 17 کروڑ روپے سالانہ کی گرانٹ مہیا کی جاتی ہے، لیکن گزرے 21 22/ سالوں میں خود آزاد جموں و کشمیر کی مہیا کردہ وہ 17 کروڑ کی رقم بھی کبھی مکمل طور پر واپس استعمال نہ کی گئی، اور ہیڈ کوارٹر میں بیٹھے بیوروکریٹس من مانیاں کرتے رہے، اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ پچھلے سال سے روٹین کی تنخواہوں کے علاوہ بیچارے اے جے کے ٹیلیو یژن کے سارے فنڈز بند کر دیے گئے ہیں،حتیٰ کہ روایتی طور پر پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیر کی صورتحال سے متعلق جو کھیل اے جے کے ٹیلی ویژن پر تیار کیا جاتے تھے وہ بھی تیاریاں مکمل ہونے کے باوجود، فنڈ کی کمی کا بہانہ بنا کر روک دیے گئے، اس طرح کے اعمال دیگر وفاقی محکمے
بھی اپنی عادت/فطرت ثانیہ بنائے ہوئے ہیں اور جس جس کا بھی ان وفاقی محکموں سے کوئی تعلق یا واسطہ پڑتا ہے انہیں محکموں سے نالاں ہونے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا، ایسے میں محبتوں کا بیانیہ کیسے مضبوط ہو گا، آزاد جموں و کشمیر میں موجود باقی وفاقی محکموں کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں ہے، بس ایک افواج پاکستان ہے جو صحت کے شعبہ میں بالخصوص اور زندگی کے دیگر شعبہ جات وہ حادثات کے وقت بالعموم کشمیری عوام کا بھرپور ساتھ دیتی ہے، جس کے باعث آج تک کہیں نہ کہیں کوئی محبت کی رمق باقی دکھائی دے رہی ہے، اسی لئے بنیادی طور پر آزاد جموں و کشمیر کی سرحدوں کی حفاظت جیسی خدمت کو سراہا ہے،وفاقی حکومتوں نے بھی بذات خود ہمیشہ آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں اور آزاد حکومتوں کا بہت خیال کیا ہے، جس کی پچھلے دو سالوں میں زندہ مثالیں جب حکومت پاکستان نے آزاد حکومت سے چند قدم اگے بڑھ کر عوامی مطالبات کو خود منظور کیا اور بجلی اور آٹے پر سبسڈی دیتے ہوئے ملک بھر سے زیادہ سستا کر دیا، امسال بھی پانچ فروری کے موقع پر نہ صرف سپہ سالار پاکستان فیلڈمارشل عاصم منیر نے خود دارالحکومت مظفرآباد آ کر کشمیریوں کی تحریک سے یکجہتی کا اظہار کیابلکہ آزاد جموں کشمیر کے معاشی اور معاشرتی مسائل سے اگاہی حاصل کرتے ہوئے ان کے حل میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی، دوسری جانب وزیراعظم پاکستان نے آزاد جموں کشمیر میں دانش اسکولوں کے علاوہ دانش یونیورسٹی کا کیمپس قائم کرنے کی بھی منظوری دی اور اس کے علاوہ تعلیمی شعبے کے لیے کوٹلی اور باغ سمیت یونیورسٹیز کے لیے اربوں روپوں کی گرانٹ کا اعلان بھی کیا لیکن جب وفاق ہی کے زیر انتظام یہاں پر موجود 24 25 وفاقی محکمے اس ساری نیک نامی پر پانی پھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں چونکہ ان کا آزاد جموں و کشمیر کے عوام سے روزمرہ کا واسطہ رہتا ہے اس لیے جب تک وہ اپنے رویے درست اور وفاقی پالیسیوں کے عین مطابق نہیں کر لیں گے، تب تک محبتوں کے جذبے کیسے پروان چڑھیں گے،یکطرفہ طور پر پاکستان کی حکومت یا عسکری اداروں کی محبتوں اور بھائی چارے سے آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کے بیانیہ میں واضح تبدیلی آنا مشکل نظر آتا ہے، کیوں کہ بیانیے کی چابی ان 24/25محکموں کے ہاتھ میں ہے اگر حکومت پاکستان ان کا قبلہ درست کرلیتی ہے، تو مبت تبدیلیاں روز کے روز مثبت تبدیلیاں ہوتی نظر آسکتی ہیں،س لیے آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی اکثریت اب سول حکومتوں پر یقین کرنے کے بجائے اپنے ان مسائل ڈائریکٹ سالار پاکستان تک پہنچانا چاہتے ہیں،جو مشرقی کے بعد مغربی محاز اور اند رونی دہشت گردی کی سرکوبی کے باعث بہت مصروف ہیں، اس لیے وزیراعظم پاکستان وزیر اطلاعات اور دیگر تمام متعلقہ محکموں کے وزراء صاحبان سے یہ تجویز ہے کہ وہ اپنے اپنے محکمے کی لگامیں کھینچیں، اور بے مہار دہونے والوں کو نکیل ڈال کر ان کو محبت پیار اور بھائی چارے کا وہی سلسلہ اپنانے کا پابند کریں جو حکومت پاکستان کا جموں و کشمیر سے متعلق بیانیہ اور سرکاری کشمیر پالیسی ہے، دعا ہے کہ اللہ پاک وطن عزیز پاکستان کے دارالخلافہ میں مسند نشیں حکومت کو اس نیک اور بنیادی عمل کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ محبتوں اور رشتوں کے چمن میں ایک بار پھر کھل سکیں اور گلشن پیار کی خوشبوؤں سے مہک اُٹھے، وما علینا البلاغ المبین۔
٭٭٭٭٭٭




